نظمیں


حمد

اگر کوئی خدا ہے

تو یقیناً

پوری دنیا خدا کا ملک ہے

اس ملک میں

یقیناً

سب اوّل درجے کے شہری ہیں

خدا کی شان یہ ہے کہ

وہ کسی میں تمیز نہیں کرتا

بلا امتیاز

ہر مذہب اور نظریے کے لوگوں کو

پیدا کرتا ہے

اور رزق دیتا ہے

یقیناً

خدا سیکولر ہے


مغوی

ایک صبح میں بیدار ہوا تو خدا غائب تھا

یہ بے حد تشویش کی بات تھی

مجھے اس کی تلاش میں نکلنا پڑا

بستی میں اس کا نشان نہیں ملا

میں نے ایک کھوجی سے رابطہ کیا

اس نے کُھرا دیکھ کر بتایا

خدا کو بردہ فروشوں نے اغوا کرلیا ہے

میں نے پولیس سے رابطہ کیا

تھانے دار نے خدا کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا

میں عدالت میں پیش ہوا

قاضی نے خدا کا مقدمہ سننے سے انکار کردیا

میں نے دربار میں حاضری دی

حاکم نے خدا کا ذکر سننے سے انکار کردیا

چل چل کر میں راستہ بھول گیا

بھٹکتے بھٹکتےایک بیگار کیمپ جاپہنچا

وہاں رنگ برنگی ٹوپیوں والے اغواکاروں کی محفل جمی تھی

خدا بھی موجود تھا

اس کے پیروں میں بیڑیاں پڑی تھیں

لیکن ہاتھ کھلے ہوئے تھے

جن سے وہ

اغواکاروں کے مطالبے پر

جنت کے باغوں اور جہنم کے تندوروں کے مالکانہ حقوق کی فائلوں پر

بے تکان دستخط کیے جارہا تھا


وارث

نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا

رعونت کا سلسلہ جاری ہے

اب کوئی زمانہ

کسی نبی کا زمانہ نہیں

ہر دور

ایک فرعون کا دور ہے

جس کے قبضے میں

قارون کا خزانہ ہے

جس نے

انبیا کی میراث پر قبضہ کرلیا ہے

اسے پہچاننا مشکل نہیں

اس کے پاس

توہین رسالت کی تلوار ہے

جو اس پر ایمان نہ لائیں

وہ لاپتا ہوجاتے ہیں

جو ایمان لے آئیں

انھیں وہ خضر کی طرح تلاش کرلیتا ہے

نوح کی طرح

اس کی کشتی میں

ہر نوع کا جانور ہے

اس کے محل میں

سلیمان کا تخت بچھا ہے

مخالفین کے لیے

اس کے قید خانے میں

عیسیٰ کی سولی ہے

فرشتوں کا لشکر اسے سجدہ کرتا ہے

کیونکہ اس کی بغل میں

موسی کا عصا ہے


ترکھان

کرسی میں نکلی ہوئی

کیل کی طرح

سیاست دان مجھے چُبھتے ہیں

جب اور جہاں

نظر آتے ہیں

ٹھونک دیتا ہوں انھیں

اپنے ہتھوڑے سے

ان کے حق میں یا خلاف

دلائل کو تولے بغیر

ترکھان کی دکان میں

ترازو کا کیا کام؟


اسم اعظم

میں مشہور ہوگیا ہوں

اچانک اتنا زیادہ

کہ وہ لوگ مجھے برا کہنے لگے ہیں

جو کبھی مجھے ملے ہی نہیں

جو مجھے جانتے ہی نہیں

ماہرین نفسیات کہتے ہیں

غیر حقیقی دنیا میں رہنے والے

جذباتی لوگ

خود کو ہیرو سمجھ کر

جاگتی آنکھوں کے خوابوں میں

اپنی مرضی کے ولن تخلیق کرلیتے ہیں

اس غلط فہمی کا تعلق

ان کے شعور سے نہیں ہوتا

ان کے اعمال سے نہیں ہوتا

ان کے شجرے سے نہیں ہوتا

یہ ایک ذہنی عارضہ ہے

اس لیے

مجھے کسی سے شکایت نہیں

مریضوں سے ہمدردی ہے

اور تھوڑی سی خوشی بھی

کہ گالیوں سے کلی کرنے والے

کچھ لوگوں کو

میرا نام لے کر

تسکین ملنے لگی ہے

میرا نام

اسم اعظم بن گیا ہے


لاپتا

میں لاپتا ہوگیا ہوں

کئی ہفتے ہوئے

پولیس کو رپورٹ لکھوائے

تب سے روز تھانے جاتا ہوں

حوالدار سے پوچھتا ہوں

میرا کچھ پتا چلا؟

ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے

 پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا

پھر وہ تسلی دیتا ہے

کسی نہ کسی دن

تم مل ہی جاؤ گے

بے ہوش

کسی سڑک کے کنارے

یا بری طرح زخمی

کسی اسپتال میں

یا لاش کی صورت

کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

میں بازار چلا جاتا ہوں

اپنا استقبال کرنے کے لیے

گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

اپنے زخموں کے لیے

کیمسٹ سے 

 مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی

اور درد کشا گولیاں

اپنی آخری رسومات کے لیے

مسجد کی دکان سے ایک کفن

اور اپنی یاد منانے کے لیے

کئی موم بتیاں

کچھ لوگ کہتے ہیں

کسی کے مرنے پر

موم بتی نہیں جلانی چاہیے

لیکن وہ یہ نہیں بتاتے

کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے

تو روشنی کہاں سے لائیں؟

گھر کا چراغ بجھ جائے

تو پھر کیا جلائیں؟


اے پی ایس

چھٹی ہوتے ہی

سب بچے جمع ہوگئے

قبرستان میں


ایلین

ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں
ہر ملک کے سرحدوں میں
ہر مذہب کے دائرے میں
ہر زمانے کی تاریخ میں
کسی شہر میں ہماری جلد کا رنگ اکثریت سے مختلف ہے
کسی میں ہماری زبان
کسی میں ہمارا عقیدہ
ہمیں کوئی قوم اپنانے کو راضی نہیں ہوتی
عوام ہمیں اچھوت کہتے ہیں
حکمران ہم سے خراج طلب کرتے ہیں
مذہبی رہنما ہم سے جزیہ مانگتے ہیں
ہم جن بستیوں میں جنم لیتے ہیں
وہاں اپنی بقا کی خاطر
شناخت چھپاتے پھرتے ہیں
پہچان لیے جانے کے ڈر سے
در بدر بھٹکتے ہیں
ہمیں انجان لوگوں کے دیس میں پناہ ملتی ہے
اجنبیت ہماری بقا کی ضامن ہوتی ہے
ہم شناخت چھپائے چھپائے ایک دن مر جاتے ہیں
ہماری آخری رسومات ادا نہیں کی جاتیں
اناڑی گورکن رات کے اندھیرے ہمیں زمین کے سپرد کرتے ہیں
ہماری قبر پر
کتبے کے بجائے ایلین کارڈ لگایا جاتا ہے