سو لفظوں کی کہانی
قیمت
شہر میں ایک نئی دکان کھلی ہے جہاں سے وقت خریدا جاسکتا ہے۔
یہ بات مجھے ایک دوست نے بتائی تھی۔
میں نے دکان کا پتا معلوم کیا اور وہاں پہنچ گیا۔
’’میری پاس کافی کتابیں جمع ہوگئی ہیں
اور انھیں پڑھنے کا وقت نہیں مل رہا۔
مجھے ہفتے میں چار دن ایک اضافی گھنٹا چاہیے۔‘‘
میں نے سیلزمین کو بتایا۔
وہ مسکرایا، ’’جی ہاں، مل جائے گا۔‘‘
میں نے جیب سے بٹوہ نکال کر پوچھا،
’’ایک گھنٹا کتنے روپوں کا ہے؟‘‘
سیلزمین نے کہا،
’’اضافی وقت روپے پیسے سے نہیں ملتا۔
اس کی قیمت نیند سے چکانی پڑتی ہے۔‘‘
لاپتا
آبِ گم کی کہانی لکھتے لکھتے اچانک ایک کردار گم ہوگیا۔
مجھے بہت تشویش ہوئی۔
کہانی اُس کردار کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔
میں نے کاغذات کے ڈھیر میں اُس کردار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
اتفاق سے میری عینک گم ہوگئی۔
عینک کے بغیر مجھے دکھائی نہیں دیتا۔
میں نے اُس کردار کو ڈھونڈنے کی ذمے داری اپنےقلم کو سونپ دی۔
میرا قلم بھی گم ہوگیا۔
میں نے اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارے
لیکن نہ کردار ملا، نہ قلم۔
میں نے کردار اور قلم کے بغیر کہانی مکمل کرنےکی کوشش کی۔
کہانی بھی گم ہوگئی۔
برداشت
’’ہمارے معاشرے میں برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔‘‘
میں نے صرف اتنا کہا تھا۔
’’غدار! وطن کے خلاف بات کرتے ہو؟‘‘
ایک نوجوان نے میرا گریبان پکڑ لیا۔
’’وطن کے خلاف؟‘‘ میں ہکابکا رہ گیا۔
’’ایسے لوگ ہی مذہب کو بد نام کرتے ہیں۔‘‘
ایک بڑے میاں نے چپت لگائی۔
’’مذہب کا ذکر کہاں آیا؟‘‘ میں چلایا۔
’’یہ شخص جمہوری نظام کے خلاف سازش کررہا ہے۔‘‘
ایک ادھیڑ عمر آدمی نے مجھے لات ماری۔
’’میری بات تو سنیں!‘‘ میں نے بلبلاکر کہا،
’’میں کہہ رہا تھا، یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ
ہمارے معاشرے میں برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔‘‘
دُکھن
زیادہ پیدل چلنا پڑتا تھا تو مجھے رونا آجاتا تھا۔
موٹرسائیکل خریدی تو پیدل چلنے کی عادت ختم ہوگئی۔
موٹرسائیکل بیچنی پڑی تو پیدل چلنا دشوار ہوگیا۔
ایک دن اسپتال جانا تھا۔
اتفاق سے اس رُوٹ کی بس نہیں ملی۔
کافی پیدل چل کر اسپتال پہنچا۔
ٹانگیں اکڑ رہی تھیں، پیر دُکھ رہے تھے۔
میں وہاں جاکر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔
میرے برابر میں بیٹھے ہوئے شخص نے کہا،
’’آج تو چل چل کر کندھے دُکھ گئے۔‘‘
میری ہنسی نکل گئی۔ میں نے کہا،
’’چل چل کر تو پیر دُکھتے ہیں۔‘‘
پھر میری نظر اُس کی بیساکھیوں پر پڑی۔
دفتر
’واٹر بورڈ نے شکایت درج کرنے والا دفتر قائم کردیا۔‘
میں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی۔
میں نے کال کرکے کہا،
’’آج میرے گھر پانی نہیں آیا۔‘‘
’’میں شکایت درج کرلیتا ہوں۔‘‘ خوش اخلاق نوجوان نے کہا۔
میں نے شکریہ ادا کیا۔
اگلے دن بھی پانی نہیں آیا۔
میں نے پھر فون کیا۔
خوش اخلاق نوجوان نے پھر شکایت درج کرلی۔
تیسرے دن میں نے پوچھا،
’’بیٹے! روز شکایت درج کرلیتے ہو۔ پانی کیوں نہیں آتا۔‘‘
نوجوان نے کہا،
’’انکل! شکایات درج کرنے والا مرکز قائم کیا گیا ہے۔
شکایات دور کرنے والا مرکز ابھی قائم نہیں کیا گیا۔‘‘