بلاگ
تشکیک، علم کا راستہ
اثنا عشری اہل تشیع کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید
کریں۔ ایسے عالم کو مرجع تقلید کہا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس وقت کم از کم
71 مراجع حیات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ فہرست نامکمل ہے۔ لیکن اتنے مراجع بھی ہوں
تو اس کا مطلب ہے کہ ایک مسلک کی تشریح کے اتنے نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔
اہل تشیع کئی طرح کے ہیں۔ مثلاً اخباری شیعہ جو غیر مقلد ہوتے
ہیں۔ کئی گروہوں کو شیعہ سمجھا جاتا ہے لیکن وہ مختلف نظریات رکھتے ہیں، جیسے
اسماعیلی۔ اہلسنت کے فقہ کے چار آئمہ اور پھر ان کے ماننے والوں کی شاخیں سب جانتے
ہیں۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی فہرست بھی طویل ہے۔ ان میں بھی متعدد فرقے ہیں۔
ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہیں۔ یعنی ایک خدا
کو ماننے والوں کے درجنوں نہیں، سیکڑوں نقطہ ہائے نظر ہیں۔ تو پھر خدا کو نہ ماننے
والے یا شک کرنے والے سب لوگوں کو ایک قوم سمجھنا کیسی بڑی نادانی ہے؟
آئیں، دیکھتے ہیں کہ خدا کو ماننے، نہ ماننے یا شک کرنے والوں
کی چند نمایاں کیٹگریز کیا ہیں:
Agnosticism
خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کسی کو علم نہیں یا علم ہو ہی نہیں
ہوسکتا۔ انسانی عقل اس راز کو نہیں پا سکتی۔
Ignosticism
خدا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Apatheism
انسان کو خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فیصلہ ضرور کرنا چاہیے۔
Atheism
کوئی خدا موجود نہیں ہے۔
Deism
خدا موجود تو ہے لیکن وہ کائنات میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔
Monotheism
خدا ایک ہے، وہ سب سے زیادہ بااختیار ہے، اس نے دنیا بنائی اور
اس میں مداخلت بھی کرتا ہے۔
Monism
خدا یا کائنات ایک ہی ہے۔ اس ایک نے خود کو بہت سی چیزوں میں
تقسیم کرلیا اور وہ ہر شے میں موجود ہے۔
Panentheism
خدا کائنات کے ہر جانب میں موجود ہے اور وقت اور مقام کی قید سے
آزاد بھی ہے۔
Henotheism
ایک خدا کی عبادت کرنی چاہیے لیکن امکان ہے کہ مزید خدا بھی
موجود ہوں۔
Monolatrism
ایک سے زیادہ خدا یقیناً موجود ہیں لیکن صرف ایک کی عبادت کرنی
چاہیے۔
Kathenotheism
ایک سے زیادہ خدا موجود ہیں لیکن ایک وقت میں صرف ایک کی عبادت
کرنی چاہیے۔
Theism
ایک یا کئی خدا ہوسکتے ہیں اور وہ وحی بھیج سکتے ہیں۔
Dualism
ایک نہیں، دو عظیم طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک نیکی
ہے، دوسری بدی ہے۔
Polytheism
کئی خدا موجود ہیں اور الگ الگ کام کرتے ہیں۔
Omnism
تمام مذاہب ٹھیک ہیں اور سب کا احترام کرنا چاہیے۔
۔
میں علانیہ اگنوسٹک ہوں لیکن نہ مجھے اس پر فخر ہے اور نہ
شرمندگی۔ اسلام کہتا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے میں مرجائے، وہ شہید ہے۔
میں اپنی تشکیک کو علم کا راستہ سمجھتا ہوں۔ ممکن ہے کہ کسی دن میں منزل پر پہنچ
جاؤں۔ لیکن نہ بھی پہنچ سکا تو اس راستے کو اختیار کرنے پر مطمئن ہوں۔
ایک غلط فہمی ہمارے دوستوں دشمنوں سب کو ہے کہ متشکک اور ملحد
ایک ہی ہوتے ہیں۔ جی نہیں، متشکک خدا کا انکار نہیں کرتا۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ متشکک صرف مذہب پرستوں کے تصور خدا کی
حقانیت پر شک کرتا ہے۔ جی نہیں۔ ہمیں ملحدین کے نظریہ الحاد پر بھی شک ہے۔
متشکک سمجھتا ہے کہ خدا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن
ہمارے پاس کسی نتیجے پر پہنچنے کے وسائل نہیں ہیں۔ کم از کم فی الحال نہیں ہیں۔
لوگ فقط تصور خدا میں الجھ جاتے ہیں۔ یعنی خدا کیا ہے اور کیا
نہیں۔ سچ یہ ہے کہ علمائے اسلام رسول پاک کے کردار پر بھی الجھن کا شکار ہیں۔ کچھ
لوگ کہتے ہیں کہ وہ نور کا پیکر تھے، کچھ کہتے ہیں کہ وہ خاکی انسان تھے۔ کچھ لوگ
انھیں غیب کا عالم سمجھتے ہیں، کچھ قرآن سے دلیل لاتے ہیں کہ انھیں غیب کا علم
نہیں تھا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن ان کے دل پر اترتا تھا، اور یہ بھی درج ہے کہ
فرشتہ آیات لاتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جبرائیل ان کا معلم تھا، کچھ کہتے ہیں
کہ وہ جبرئیل کے استاد تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے جسمانی طور پر معراج کا
سفر کیا، بعضے کہتے ہیں کہ وہ روحانی سفر تھا یا خواب دیکھا تھا۔ قرآن میں لکھا ہے
کہ رسول کا واحد معجزہ یہ کتاب ہے لیکن میں ایک کتاب ایسی دیکھ چکا ہوں جس کا
عنوان رسول اللہ کے ایک ہزار معجزات ہے۔
آپ کسی ایک مسلک کے ایک عالم سے کسی فروعی نکتے پر اختلاف کریں
تو آپ کو مشرک، کافر، ملحد پتا نہیں کیا کیا قرار دیدے گا۔
ہاں، ہم تشکیک میں مبتلا ہیں۔ ہمیں شک ہے اس تصور خدا کے درست
ہونے پر، جو علمائے مذہب کے الجھے ہوئے ذہنوں میں موجود ہے اور جسے وہ درست طور پر
بیان کرنے کے بھی قابل نہیں۔
ہمیں شک ہے ان فرسودہ خیالات اور مذہبی رسومات کے درست ہونے پر،
جو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ علمائے مذہب نئے زمانے کو
سمجھنے کے خواہش مند نہیں یا اس قابل نہیں۔
ہمیں سبق آموز قصے کہانیاں پسند ہیں لیکن ہم انھیں تاریخی حقائق
تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ علمائے مذہب کو اسٹیٹمنٹ یعنی بیان،
دعوے، تنقیدی سوچ، دستاویزی شواہد اور تحقیقی نتائج جیسی بنیادی باتوں کا علم نہیں
یا فرق معلوم نہیں اور اگر وہ اس بارے میں جانتے ہیں تو پھر بے وجہ کسی بیان یا
دعوے کو تحقیقی نتائج پر فوقیت دینے پر اصرار کرتے ہیں۔
ایک معمولی سی مثال پیش کردیتا ہوں۔ اگر میں کہوں کہ علامہ
اقبال پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں تو یہ ایک بیان ہے۔ آپ تاریخ کی کتابیں کھول کر
دیکھیں گے اور بتادیں گے کہ اب تک بائیس افراد پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں جن میں
علامہ اقبال شامل نہیں۔
اب سمجھیں کہ مختلف علاقوں کی، خاص طور پر مصر کی گزشتہ پانچ
ہزار سال کی تاریخ موجود ہے۔ تاریخ داں اور تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ
حضرت موسیٰ کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ توریت میں ان کا ذکر جس دورانیے میں بیان کیا
گیا ہے، اس دور کے فرعون کی ممی دریائے نیل کے بجائے اہرام سے ملی ہے۔ بک آف
ایگزوڈس میں ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ مصر سے اپنی قوم کو لے کر چلے۔ وہ بہت بڑی ہجرت
تھی۔ تاریخ میں اس کے شواہد نہیں۔
یہ سب مبشر علی زیدی نہیں کہہ رہا، وہی یہودی تحقیق کرکے بتارہے
ہیں جو حضرت موسیٰ کو مسلمانوں سے زیادہ مانتے ہیں اور اسرائیل میں رہتے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ سوچنے والوں اور بغیر سوچے ماننے والوں کا
اتفاق رائے ہونا مشکل ہے۔ سائنسی فکر اور غیب پر ایمان یکجا نہیں ہوسکتے۔ اس لیے
ہمیں اختلاف رائے پر اتفاق کرلینا چاہیے۔
ایک آخری بات کہ مذہبی لوگوں کا اس بات پر سختی سے ایمان ہونا
چاہیے کہ دنیا ایک امتحان ہے اور ہر شخص نے اپنے اعمال (اور شاید اپنے خیالات) کا
حساب دینا ہے۔ میں اپنے پرچے میں کیا لکھ رہا ہوں، یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں کسی کی
نقل نہیں کرنا چاہتا۔ آپ بھی اپنے امتحان کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے کے
تاکاجھانکی میں آپ اپنا پرچہ خراب کر بیٹھیں۔
خدا اور نمرود
خدا کو منوانے کے خواہش مند ایسی سبق آموز کہانیاں گھڑتے ہیں کہ نتیجہ ان کی مرضی کے مطابق نکلتا ہے۔ حالانکہ ذرا سی ایڈیٹنگ سے کہانی الٹی گلے پڑسکتی ہے۔ میں ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
ایک قصہ یوں ہے کہ ایک شخص خدا کا انکار کرتا تھا۔ اس نے اپنے کمرے کے دروازے پر لکھا ہوا تھا،
God is no where
یعنی خدا کہیں نہیں ہے۔
ایک دن ایک بچہ وہاں آیا اور اس نے یہ جملہ یوں پڑھا:
God is now here
یعنی خدا اس وقت یہاں موجود ہے۔
چنانچہ وہ شخص ایمان لے آیا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
فرض کریں کہ کہانی کا مرکزی کردار کوئی پادری ہوتا اور وہ اپنے دروازے پر لکھتا، گاڈ از ناؤ ہئیر لیکن بچہ اسے پڑھتا، گاڈ از نو وئیر۔ پھر؟ کیا پادری صاحب ملحد ہوجاتے؟
۔
ایک بات علامہ نیاز فتح پوری نے نگار میں لکھی تھی جسے ان کے مضامین کے مجموعے من و یزداں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ حضرت ابراہیم نے نمرود سے کہا کہ میرا خدا مشرق سے سورج کو طلوع کرتا ہے۔ تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس پر نمرود لاجواب ہوگیا۔
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ نمرود اگر الٹ کر کہہ دیتا کہ میں سورج کو مشرق سے نکالتا ہوں۔ تو انے خدا سے کہہ کہ وہ سورج کو مغرب سے نکالے تو حضرت ابراہیم کے پاس کوئی جواب نہ رہ جاتا۔
۔
افریقی کہاوت ہے کہ
Until the lion learns how to write, every story will glorify the hunter
یعنی جب تک ببر شیر لکھنا نہیں سیکھے گا، ہر کہانی کا ہیرو شکاری ہی رہے گا۔
یہی معاملہ الحاد و مذہب کا ہے۔ ملحد قصے کہانیاں نہیں لکھتے کیونکہ انھیں کسی کو قائل نہیں کرنا ہوتا۔ جو تبلیغ کرنے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں، وہ سبق آموز قصے کہانیوں کی پوٹلی ساتھ لے لیتے ہیں۔
کیسی عجیب بات ہے کہ سیکڑوں مذاہب کے لاکھوں کروڑوں مبلغ ناکام ہوجاتے ہیں اور الحاد کا ایک بھی مبلغ نہیں لیکن ملحدین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
۔
طرفہ تماشا ہے کہ ایک طرف مذہب پرست کہتے ہیں کہ خدا کو بے دلیل مانو اور پھر خدا کے وجود پر دلائل پیش کرتے ہیں۔
آپ کی ہر دلیل اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے خود بھی خدا کو بے دلیل نہیں مانا۔ یہ الگ بات ہے کہ جن دلائل سے آپ قائل ہورہے ہیں، وہ ملحدین کو متاثر نہیں کرتیں۔
قاری اور کوڈا
مذہب پرستوں کے پاس جب دلائل ختم ہوجاتے ہیں (جو دراصل ان کے پاس ہوتے ہی نہیں) تو خدا پر سوال اٹھانے والوں کے ماں باپ تک پہنچ جاتے ہیں۔
میں نے اہل تشیع علما کی مجلسیں سنی ہیں کہ جو علی کی ولایت کو نہ مانے، اس کی ولدیت میں شک ہے۔
دوسرے مسالک کے علما بھی یہی کرتے ہیں۔ یعنی خدا کو بغیر دلیل کے مانو ورنہ اپنے باپ کو بغیر دلیل کے کیوں مانا؟ تمھیں کس نے بتایا کہ تمھاری ماں جس شخص کے ساتھ رہتی تھی، وہی تمھارا باپ ہے۔
گویا جو شخص خدا کو نہ مانے، اس کی ولدیت میں شک ہے۔
دوستو، ان ہی علما نے ہمیں بتایا کہ بعض انبیا کی بیویوں، بیٹوں، حتیٰ کے بعض انبیا کے والدین تک نے خدا کو نہیں مانا یا شرک کیا۔
مذاہب ہم تک بگڑی ہوئی شکل میں پہنچے ہیں اس لیے ہم مذاہب کے بانیوں پر تبصرے نہیں کرتے لیکن موجودہ دور کے بہت سے علمائے مذہب فرسودہ ذہن کے مالک ہیں۔ ان کی دلیل اس کا ثبوت ہے۔
اکیسویں صدی کے مہذب معاشرے اور افراد کسی بھی فرد کے ذاتی معاملات پر بات کرنے یا عیب نکالنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے سیکس ورکر بھی بطور انسان ملک کے سربراہ جیسی عزت کے لائق ہے۔ کُجا یہ کہ آپ فرض کرلیں کہ فلاں شخص خدا کو نہیں مانتا تو ضرور اس کی ماں نے غلط کام کیا ہوگا۔
میں نے ایدھی کے جھولے میں ملنے والے محترم بچوں کو مذہب پر سختی سے کاربند دیکھا ہے۔ یقین نہ آئے تو فیصل ایدھی سے پوچھ لیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کا کام فقط اخلاق کی تعلیم دینا ہے۔ یہ اکیسویں صدی میں بھی ویلڈ ہے۔ خدا کا وجود اب ثانوی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ جب تک قومی ریاست تشکیل نہیں پائی تھی، خدا کا وجود مرکزی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ اسی کے نام پر قوانین بنائے جاتے تھے۔
اب تک جتنے علمائے مذہب سے میری گفتگو ہوئی ہے، ان میں سب سے بہتر علامہ احمد جاوید اور علامہ طالب جوہری تھے۔ لیکن وہ بھی ایک مقام پر آکر ٹھہر گئے۔ یعنی خدا کو مان لو۔ میں نے کہا کہ دل نہیں مان رہا تو جھوٹ کیسے بولوں؟ کسی لڑکی سے محبت نہیں ہے تو کیسے آئی لو یو کہوں؟ انھوں نے کہا، شادی کرلو، محبت بعد میں ہوجائے گی۔
میں اس بات پر کم از کم فی الحال قائل نہیں ہوسکا۔
کچھ دوست کہتے ہیں کہ مجھے مذہبی علما سے سوالات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے بھائی، تاکہ پتا چلے کہ ان کے پاس اپنی مسجد سے باہر کی دنیا کا کوئی علم ہے یا نہیں۔ مسجد میں آجانے والوں کو نماز پڑھانا کوئی کمال نہیں۔ مسجد کے باہر سے لوگوں کو قائل کرکے اندر لانا اور نماز پڑھانا اصل کمال ہے۔
البتہ جو عالم ماں کے کردار اور ولدیت جیسی باتوں پر اتر آئے، اس میں اور گلیارے بابا کوڈا میں کوئی فرق نہیں۔
وما علينا الا البلاغ المبين
تشکیک حق ہے
تشکیک انکار کو نہیں، سوالات کو جنم دیتی ہے۔ متشکک کے سوالات مقلد کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کسی کو سوچنے پر مجبور کرنا اسے شعور فراہم کرنے جیسا ہے۔ شعور کے بغیر علم اور جہالت میں کوئی فرق نہیں۔ شعور کے ساتھ حاصل کیا جانے والا علم سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔ سچائی حق ہے۔
تشکیک حق ہے!
مزید سوالات
ایک طرف خدا اس قدر بے نیاز ہے کہ اربوں کھربوں ستاروں اور کہکشاؤں والی کائنات بناکر اسے فزکس کے قوانین پر چھوڑ دیا ہے اور اس میں قطعی مداخلت نہیں کرتا۔
وہی خدا بے شمار مخلوقات کو پیدا کرنے کے بعد نہ انھیں شعور دیتا ہے اور نہ فرشتے بھیج کر ان سے گفتگو کرتا ہے۔
دوسری جانب وہ بے نیاز خدا ایک مخلوق کو عقل عطا کرنے کے بعد اس کے پاس لاکھوں بار فرشتے بھیجتا ہے اور صحیفے، کتابیں اور قوانین فراہم کرتا ہے۔ یہ کیسی بے نیازی ہے؟ یہ فکر مندی کا اظہار نہیں؟
اگر یہ کائنات سو سال کی عمر والے انسان کے لیے تخلیق کی گئی تھی تو اربوں سال کی فاصلے پر کوئی ستارہ پیدا کرنے، اسے کروڑوں سال جلانے اور پھر بلیک ہول میں ڈھالنے سے انسان کو کیا حاصل؟
قیامت صرف زمین پر آئے گی یا پوری کائنات کا تباہ ہونا قیامت کہلائے گا؟ سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین جیسا معمولی اور چھوٹا سا سیارہ تباہ ہوجائے تو کائنات پر ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا روز حشر کے لیے پوری کائنات کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا؟
ابھی تک کائنات میں انسان جیسی کسی اور ذہین مخلوق کا سراغ نہیں مل سکا۔ اگر یہ بات مان لیں کہ خدا نے صرف ایک ذہین مخلوق کے لیے ساری کائنات بنائی تو پھر اس کا گھر یعنی زمین/نظام شمسی/ملکی وے کہکشاں کائنات کے مرکز میں کیوں نہیں؟ ہم کائنات کے ایک سرے پر کیوں بھٹک رہے ہیں؟
مذہبی علما بتاتے ہیں کہ جنات بھی مسلمان اور کافر ہوتے ہیں۔ جنات انسانوں پر نازل ہوئی الہامی کتابیں پڑھتے ہوں گے۔ انھوں نے کبھی کوئی تفسیر کیوں نہیں لکھی؟ لکھی ہے تو انسانوں کو کیوں نہیں پڑھوائی؟
الہامی کتابوں میں انسانوں کے ساتھ جنات کا ذکر بھی ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ جنات بھی ذہین مخلوق ہیں؟ انھوں نے سائنسی ترقی کیوں نہیں کی؟ کیا ان کے ہاں بھی بل گیٹس اور اسٹیو جابز پیدا ہوئے ہیں؟ کیا ان کی معیشت بلا سود بینکاری پر مبنی ہے؟
کیا انسان کے کاندھوں پر سوار فرشتے اب بھی قلم سے کاغذ پر اعمال لکھتے ہیں یا انھوں نے لیپ ٹاپ یا آئی پیڈ خرید لیے ہیں؟ کیا انسان کی ترقی سے فرشتوں نے کوئی فائدہ اٹھایا؟
کیا وجہ ہے کہ چاروں الہامی کتابیں فقط ڈھائی ہزار سال کے عرصے میں نازل کردی گئیں جبکہ انسان یعنی ماڈرن ہیومن کی عمر ڈیڑھ سے دو لاکھ سال ہے۔ اگر انسانی شعور کی ترقی کا انتظار کیا گیا تو آج کا انسان چار ہزار سال پہلے کے انسان سے زیادہ شعور رکھتا ہے۔
علوم اور قوانین وقت کے ساتھ بہتر ہوتے ہیں کیونکہ انسان کے شعور کی سطح ہر گزرتے دن کے ساتھ بلند ہوتی ہے۔ تو پھر صدیوں پرانے مذہبی علما کی تقلید کیوں کی جائے؟ جدید دور کا عالم ایک ہزار سال پہلے کے فقیہہ سے کیوں افضل نہیں؟
کیا الہامی کتابوں میں صرف مشرکین اور منافقین کو خبردار کیا گیا ہے یا ملحدین اور متشککین کے بارے میں بھی کوئی ہدایات ہیں؟
مذہبی علما خانہ کعبہ اور روضہ رسول کو جنت کا ٹکڑا کہتے ہیں۔ پھر وہاں سے جوتے کیوں چوری ہوجاتے ہیں؟ جیب کترے بٹوے کیسے نکال لیتے ہیں؟ اہل تشیع کربلا اور نجف کو جنت کا ٹکڑا کہتے ہیں۔ ان مقامات پر بہت ظلم ہوچکا ہے۔ کیا جنت میں بھی ظلم ہوگا؟
مردہ باد
وڈیرے اپنے گوٹھ میں اسکول نہیں بننے دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچے ان پڑھ رہیں۔ لوگ پڑھ لکھ گئے تو جان جائیں گے کہ وڈیرہ ان کا استحصال کررہا ہے۔ وہ اسے چیلنج کرنے لگیں گے۔ غلامی اور بیگار سے انکار کردیں گے۔ کھیت مزدوری کا پورا معاوضہ مانگیں گے۔ ممکن ہے کہ تھوڑی بہت زمین خرید کر خود مختار ہوجائیں۔ وڈیرے کی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی۔ ایک دن آئے گا کہ وہ اپنے حلقے سے الیکشن نہیں جیت سکے گا۔
پرانے خیالات کے والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلانا چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ بیٹیاں پڑھ لکھ گئیں تو جلدی شادی کرنے سے انکار کردیں گی۔ بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں بنیں گی۔ اپنے حقوق کے بارے جان جائیں گی۔ وراثت میں سے حصہ بھی مانگ سکتی ہیں۔ فیمنزم سے واقف ہوگئیں تو معاشی اور ممکن ہے کہ جنسی آزادی کی قائل بھی ہوجائیں۔ والدین کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
ایک مذہب کا ملا عام شہریوں کو دوسرے مذہب کی کتاب نہیں پڑھنے دیتا، دوسرے مسلک کی مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دیتا، دوسرے ملا کا خطبہ نہیں سننے دیتا۔ کچھ بس نہیں چلتا تو نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ اور نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیتا ہے۔ ایمان سے خارج کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔ ملا کو خدشہ ہوتا ہے کہ دوسرے مولوی کی بات سننے یا پڑھنے والا اپنی نیک پاک کمائی اس کے چندے کے ڈبے میں ڈال دے گا۔
اسٹیبلشمنٹ آزاد میڈیا اور غیر جانب دار تعلیمی نصاب نہیں چاہتی۔ آزاد میڈیا سوال اٹھاتا ہے۔ غیر جانب دار تعلیمی نصاب حریت پسند پیدا کرتا ہے۔ جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے۔ طالب علم پابندیاں تسلیم کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ انھیں چھپی ہوئی آمریت دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ دفاعی بجٹ کا حساب مانگتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کا خواب دیکھنے لگتے ہیں۔
وڈیرہ شاہی مردہ باد، پرانے خیالات مردہ باد، ملاازم مردہ باد، اسٹیبلشمنٹ مردہ باد
اسلام آج کے دور میں آتا تو؟
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تو نبی آج کے دور میں کیسے تبلیغ کرتے؟ یا سیکڑوں ہزاروں سال پہلے کے نبی آج آتے تو کیسے خدا کا پیغام پہنچاتے؟ کیا فقط خدا سے روشناس کرواتے یا قومی اور بین الاقوامی قوانین کی موجودگی میں شریعت بھی پیش کرتے؟ کیا یہ وہی ڈیڑھ ہزار سال پہلے پیش کی گئی شریعت ہوتی یا اس سے کچھ مختلف ہوتی؟
میں نے اس بارے میں کچھ علما اور مذہبی دانشوروں سے بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مجہول خیال ہے۔ مذہب اس بارے میں بحث نہیں کرتا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔ ہزاروں سال پہلے آنے والا مذہب جو بتاچکا، وہ حرف آخر ہے۔
میرا خیال ہے کہ (اگر خدا ہے تو) خدا نے (اور اگر خدا نہیں ہے تو) مقدس ہستیوں اور دور اندیش بندوں نے جس دنیا کے لیے قوانین بنائے تھے، وہ زیادہ سے زیادہ اٹھارہویں انیسویں صدی تک کے لیے مناسب تھے۔ قومی ریاستوں کی تشکیل، ترقی یافتہ معاشروں کے ظہور، صنفی اور نسلی امتیاز کے خاتمے کی تحریک، خلا کی تسخیر اور میڈیکل سائنس کی ترقی نے مذاہب کے فلسفے کو بری طرح زک پہنچائی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اسلام آج کے دور میں آتا تو خواتین کو گھر میں بند رہنے کے لیے نہ کہا جاتا، ان کی گواہی آدھی نہ ہوتی، وراثت میں حصہ کم نہ ہوتا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہوتا، پسند کی شادی کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔
کیا اکیسویں صدی میں آنے والا اسلام غلامی برقرار رکھتا؟ کیا غیر مذہب کے شہریوں سے جزیہ طلب کرتا؟ کیا مجرموں کے ہاتھ کاٹتا اور انھیں سنگسار کرتا؟
کیا اکیسویں صدی میں آنے والا کوئی نبی اقتدار حاصل کرنا چاہتا؟ اور اگر اقتدار مل جاتا تو حکومت کیسے کرتا؟ فرض کریں کہ مدینے جیسی ریاست بننے کے خواہش مند پاکستان کا حکمراں کوئی نبی ہوتا؟ وہ اقوام عالم کو کیسے تبلیغ کرتا؟ مسئلہ کشمیر کیسے حل کرتا؟ سود کے بغیر معیشت کیسے درست رکھتا؟ اسکینڈے نیویا کی ریاستوں سے بہتر فلاحی ریاست کیسے قائم کرتا؟
مجھے یہ بات بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اسلام آخری الہامی مذہب کیوں تھا؟ اس لیے کہ انسان کا شعور اس مقام پر آگیا تھا کہ اس کے بعد مذہب کو ماننے والوں کی تعداد کم ہونی تھی، نہ ماننے والوں کو بڑھنا تھا۔ اب خدا بھی آسمان سے نیچے اتر آئے تو اسے اپنے آپ کو منوانے کے لیے کئی امتحانوں سے گزرنا ہوگا۔
میں خدا کو ماننے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوں لیکن اسلام کو مانتا ہوں۔ اس طرح مانتا ہوں کہ جو ٹھیک ہے، وہ اسلام ہے۔ جو غلط ہے، وہ کفر ہے۔
ملا ازم یہ ہے کہ جو ملائیت ہے، وہ اسلام ہے۔ جو ملائیت نہیں ہے، وہ کفر ہے۔
ملائیت کا حال یہ ہے کہ گلیلیو نے جب بتایا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو پادریوں کا مذہب خطرے میں پڑگیا تھا۔ آج اسلام کا مرکز خانہ کعبہ ہے لیکن سوچیں کہ کل انسان چاند یا مریخ پر آباد ہوگیا تو کس طرف منہ کرکے نماز پڑھے گا؟ مذہب اس بات کا جواب نہیں دیتا کیونکہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ سوال پیدا نہیں ہوا تھا۔ آپ کسی ملا سے بات کرکے دیکھیں، وہ آج بھی اس بات کا جواب نہیں دے گا۔
مذہب کے پاس اکیسویں صدی کی دنیا کے بہت سے سوالات کے جواب نہیں ہیں۔ مذہبی علما اگر کسی سوال کا جواب دیتے ہیں تو اپنی فہم کے مطابق دیتے ہیں۔ ان کا فہم کسی نبی کے فہم جیسا نہیں۔ چنانچہ میں انھیں مذہب کا ترجمان ماننے سے انکار کرتا ہوں۔ میں ان کی تقلید کرنے سے انکار کرتا ہوں۔
چھٹی کا دن
کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں۔ جنت کا نظارہ ہے۔ آج سورج نے منہ نہیں دکھایا۔ صبح سے بارش ہورہی ہے۔ درجہ حرارت ایک ڈیڑھ یا پونے دو ہے۔ کھڑکی شارع کی طرف نہیں بلکہ عقبی جانب ہے جہاں جنگل ہے اور بیچوں بیچ ندی بہتی ہے۔ جب درخت ہرے بھرے ہوتے ہیں تو ندی دکھائی نہیں دیتی۔ پت جھڑ میں اوپر آسمان کُھلتا جاتا ہے اور نیچے پانی نظر آنے لگتا ہے۔ خیر آج تو اوپر سے بھی پانی برس رہا ہے۔
زندگی بھر شام کی نوکری کی۔ اخبار کی نائٹ شفٹ دو بجے ختم ہوتی تھی، چینل کی ایک بجے۔ سویرا کیا ہوتا ہے، ہمیں کیا معلوم؟ لیکن واشنگٹن کا دفتر ساڑھے چھ سات بجے لگتا ہے۔ میں پانچ دن خود کو یہ سمجھاتے بجھاتے اٹھاتا ہوں کہ ہفتے اتوار کو دیر تک سوئیں گے۔ لیکن وہی تہجد کے وقت آنکھ کھل جاتی ہے۔ آج کل پرندے درختوں کی کھوہ میں دبکے رہتے ہیں۔ سخت سردی جو ہے۔ مجھے بالکونی میں جاکر اذان دینا پڑتی ہے۔ کراچی کی پڑوسن کا مرغا یاد آتا ہے۔
یہاں ہماری کئی پڑوسنوں کے پاس کتے ہیں جنھیں ہم احترام سے ڈوگی کہتے ہیں۔ یہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ حسین پڑوسنیں انھیں گود میں لے کر ٹہلاتی ہیں۔ آتے جاتے نظر آجائیں تو میں مسکراتے ہوئے سر سہلا دیتا ہوں۔ پڑوسن کا نہیں، ڈوگی کا۔ پکی عمر کی پڑوسن سے مسکرا کر ملتے ہوئے خیال آتا ہے کہ اس کا کم بخت بوائے فرینڈ نہ آجائے۔ کم عمر پڑوسن سے فری ہوتے ہوئے جی ڈرتا ہے کہ کل کلاں کو می ٹو نہ کردے۔
ایک کتا البتہ ایسا ہے جو کبھی نظر نہیں آیا لیکن کبھی کبھی رات کو ڈکراتا ہے۔ اسے بھونکنا نہیں آتا۔ بیگم کہتی ہیں، اس کتے کی کیسی کتوں جیسی آواز ہے!
امریکا آئے گیارہ ماہ ہوگئے ہیں۔ کتابیں بڑھتی جارہی ہیں۔ دو سو سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ ہر ہفتے سوچتا ہوں کہ چھٹی کے دن سمیٹوں گا۔ لیکن چھٹی گروسری اور آوارہ گردی کرنے میں خرچ ہوجاتی ہے۔ آج بارش اور سردی کی وجہ سے باہر نکلنے کا ارادہ نہیں۔ اچھا، کچھ کرتے ہیں۔ کیوں نہ پہلے ان کی فہرست بنائی جائے۔ صبح میں نے اس کتاب کی ورق گردانی کی جو ہفت روزہ ٹائم کی کہانی پر مبنی ہے۔ اس کا نام ہے دا السٹریٹڈ ہسٹری آف دا ورلڈز موسٹ انفلوئنشل میگزین یعنی دنیا کے سب سے بااثر جریدے کی باتصویر تاریخ۔ بڑے حجم کے ساڑھے چار سو صفحات میں اسی نوے سال کے زمانے کو قید کردیا گیا ہے۔
امریکا میں ایک ویب سائٹ کا نام ہے بیٹر ورلڈ بکس۔ یہاں پرانی کتابیں کوڑیوں کے مول مل جاتی ہیں۔ میں نے پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے بہت کتابیں خریدی تھیں کیونکہ یہ کتاب بھیجنے کا ہرجانہ نہیں مانگتے۔ مہنگی کتابیں چند ڈالر کی مل جاتی ہیں۔ جس کتاب کا اوپر ذکر کیا ہے، اس کی اصل قیمت پچاس ڈالر ہے۔ وہ مجھے فقط ایک ڈالر میں ملی اور مفت گھر تک پہنچی۔ حالانکہ امریکی پوسٹ آفس کتاب منزل پر پہنچانے کے کم از کم تین ڈالر لیتا ہے۔ امیزون والے کتاب کی قیمت سے زیادہ رقم شپنگ فیس کے نام پر اینٹھ لیتے ہیں۔
تین نصیحتیں
میرے بیٹے نے اپنی پندرھویں سالگرہ کے دن فرمائش کی کہ میں اسے اپنے تجربات کی روشنی میں خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے کوئی نصیحت کروں۔
میں نے کہا کہ ایک نہیں، میں تین نصیحتیں کروں گا۔
میرے بیٹے! اپنا کرئیر زیادہ معاوضے والے کام میں نہیں، اپنی دلچسپی والے شعبے میں بنانا۔ جب میں نے جرنلزم جوائن کی تو اس میں دوسرے کاموں سے کم پیسہ تھا۔ میرے بائیس تئیس سال کے کرئیر میں ایک بھی دن ایسا نہیں جب کام پر جانے کو میرا دل نہ چاہا ہو۔ طوفان، ہڑتالیں اور تہوار مجھے کام پر جانے سے نہیں روک سکے۔ اپنا کام پسند ہو تو موچی بھی بادشاہ ہے۔ کام پسند نہ ہو تو امریکا کا صدر بھی کلرک ہے۔
میرے دلبر! پاکستان سے بہت محبت کرنا۔ خالص محبت۔ اور یاد رکھنا کہ اپنے وطن سے زیادہ محبت وہ لوگ کرتے ہیں جو دور سے اس کا حال دیکھ کر کڑھتے ہیں، جو پاکستان میں نہیں رہتے۔
اور میرے نور چشم، کبھی سچ کی کھوج نہ کرنا۔ سچ سامنے آجائے تو آنکھیں پھیر لینا۔ کوئی سچ بول رہا ہے تو سنی ان سنی کردینا۔ کبھی اس کی ہاں میں ہاں مت ملانا۔ جو سچ معلوم ہوجائے، اسے دوسروں کو مت بتانا۔
میری جان! یہ ہیں خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے تین نصیحتیں۔
لڑکپن کا دور
میں 1987 میں 15 سال کا تھا۔ ہر وقت مستقبل اور کریئر کے بارے میں سوچ کر ٹینشن میں رہتا تھا۔ ستمبر میں سالگرہ منائی تھی۔ نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ آٹھویں میں اسکول میں ٹاپ کیا تھا۔ بابا چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ نویں میں کیمسٹری اوربائیولوجی پڑھنا پڑی جو مجھے زہر لگتی تھیں۔ مجھے کہانیاں پڑھنا پسند تھا۔ تعلیم و تربیت اور نونہال میں نام چھپ چکا تھا۔ اشتیاق احمد کے ناولوں کے آخر میں چھپنے والے انعامی سوالات کے جواب دے کر کئی انعام جیت چکا تھا۔
میں یاد کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ میں نے پہلا عشق کب کیا؟ وہ تو خیر پنگھوڑے ہی میں کرلیا ہوگا۔ لیکن شاید نویں تک پہنچتے پہنچتے لڑکیاں اچھی لگنا شروع ہوگئی ہوں گی۔ میں کافی شریف بچہ ہوا کرتا تھا۔ لڑکیوں کو گھورتا نہیں تھا۔ اب بھی کافی شریف آدمی ہوا کرتا ہوں۔ بیوی ساتھ ہو تو اب بھی لڑکیوں کو نہیں گھورتا۔ لیکن ٹھہریں، مجھے 1987 کا سال یاد کرنے دیں۔ نہیں، نویں جماعت تک مجھے کوئی زوردار عشق نہیں ہوا تھا۔ تب تک مجھے کوئی شعر یاد نہیں ہوا تھا۔ تب تک میں نے موسیقی سننا شروع نہیں کی تھی۔
ہمارے گھر میں 1987 سے پہلے وی سی آر آچکا تھا لیکن میں نے بہت کم فلمیں دیکھی تھیں۔ سینما صرف دو بار گیا تھا اور وہ بھی بڑے کزنز کے ساتھ۔ فلم میں رومانوی مناظر سمجھ نہیں آتے تھے، ہیرو کی مار دھاڑ پر تالیاں بجاتا تھا۔
اسی سال پاکستان نے پہلی بار کرکٹ ورلڈکپ کے کچھ میچوں کی میزبانی کی۔ اسی سال مجھے کرکٹ سے دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔ پاکستان سیمی فائنل ہارا تو مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔ یہ دکھ آج تک برقرار ہے۔ پانچواں ورلڈکپ جیتنے کے بعد بھی چوتھے ورلڈکپ میں شکست کا غم نہیں بھلا سکا۔
نیا عشق کامیاب ہوجائے تب بھی پرانا عشق نہیں بھولتا۔
مجھے ان دنوں ویڈیو گیمز کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ انچولی میں ویڈیوز گیمز کی مشینوں کی دو تین دکانیں تھیں۔ میں پیک مین کا ماہر تھا۔ چند گیمز اور بھی یاد ہیں۔ بم جیک، کراٹے چیمپ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف ریسلنگ۔ میں نے انچولی کے میدانوں میں کرکٹ، ہاکی اور فٹبال بھی کھیلی ہے۔ کرکٹ میں بولنگ اور بیٹنگ کرنا نہیں آتی تھی لیکن فیلڈنگ اچھی کرلیتا تھا۔ مشکل کیچ پکڑ لیتا تھا۔ سائیکل چلانے کا بھی شوق تھا۔
میں نے ایک بار پیچ کس لے کر اپنا کیلکولیٹر کھول لیا تھا لیکن دوبارہ فٹ نہیں کرسکا تھا۔ میں آج تک ٹیکنیکل کام نہیں کرسکتا۔
تب تک میں ایک بار بھی ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھا تھا۔ انگریزی نہیں بول سکتا تھا۔ کمپیوٹر نہیں دیکھا تھا۔ چار سال بعد کمپیوٹر کورس کیا۔ اس کے تین سال بعد ونڈوز آئی۔ اس کے تین سال بعد انٹرنیٹ پہلی بار استعمال کیا۔ اس کے چار سال بعد پہلا موبائل فون خریدا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ میں پتھر کے دور میں نویں کا طالب علم تھا۔
میرا بیٹا حسین اب نویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ میں نے اسے اسکول کے پہلے دن سمجھادیا تھا کہ فرسٹ آنے کے چکر میں مت پڑنا۔ اسکول سیکھنے کی جگہ ہے، ٹینشن لینے کی نہیں۔ میں نے اسے بتایا ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے یا کچھ اور، میری کوئی خواہش نہیں۔ اسے فزکس پسند ہے اور اپنی مرضی سے کمپیوٹر پروگرامنگ اور روبوٹکس سیکھ رہا ہے۔ آج سے کئی سال پہلے ہیری پوٹر سیریز، پرسی جیکسن سیریز اور خدا جانے کون کون سے ناول ختم کرچکا ہے۔
حسین کو کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ فٹبال کی خبر رکھتا ہے۔ بولی ووڈ سے زیادہ رغبت نہیں۔ انگریزی فلمیں دیکھتا ہے۔ تمام سوپر ہیروز سے دوستی ہے۔ اداکاروں، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز سے واقف ہے۔ فلموں میں بلنڈرز نوٹ کرلیتا ہے اور پروڈکشن کی خامیاں بتاتا ہے۔
حسین اسکول میں کچھ کھیل لیتا ہے تو مجھے علم نہیں۔ اسکول میں جم جانا لازم ہے اور اسے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔ لیکن گھر آنے کے بعد وہ شام کو کسی میدان نہیں جاتا۔ خیر آج کل سردی بھی بہت ہے۔ لیکن وہ موسم گرما میں بھی گھر آنے کے بعد ویڈیو گیمز ہی کھیلتا تھا۔ اس کی ماں خفا ہوتی ہے کہ میں اسے روکتا کیوں نہیں۔ کیسے روکوں؟ میں خود کبھی رکا تھا؟
حسین دو سال کا تھا کہ جہاز کا سفر کرلیا۔ ہم نے پندرہ ملکوں کا سفر ایک ساتھ کیا ہے۔ میں آج بھی انگریزی ٹھیک سے نہیں بول سکتا۔ حسین روانی سے بولتا ہے بلکہ کراچی میں جرمن زبان بھی سیکھ رہا تھا۔ وہ اسکول جانے سے پہلے سے کمپیوٹر چلارہا ہے اور ہائی اسکول میں آنے سے پہلے اسمارٹ فون استعمال کرنا سیکھ گیا تھا۔
میں اپنے فون کا پروٹیکٹر نہیں بدل سکتا۔ حسین نے چند دن پہلے امیزون سے ایک کٹ منگوائی اور اپنے پرانے آئی فون کو کھول کر اس کی بیٹری تبدیل کرلی۔ مجھے تین سال پہلے عراق کا سفر یاد آرہا ہے جب ہمارے ہوٹل کی کسی خاتون کا موبائل فون خراب ہوا تو انھوں نے حسین سے ٹھیک کروالیا تھا۔
تو جناب یہ ہیں ہمارے حسین صاحب، جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں کہ انھیں ابھی تک پہلا عشق ہوا یا نہیں لیکن ہمیں ان سے عشق ہے۔ یہ اس دن پیدا ہوئے تھے جس روز میں نے جیونیوز جوائن کیا تھا یعنی 23 نومبر 2003۔
آج ان حضرت کی 15ویں سالگرہ ہے۔ انھیں بھی مبارک! ہمارا بیٹا جوان ہوگیا ہے۔ ہمیں بھی مبارک!
یوم شکرانہ
موسم سرد ہے۔ تھوڑا نہیں، بہت سرد۔ دوپہر کے ایک بجے منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈ۔ فیل لائیک مائنس تھری۔ امریکا میں سینٹی گریڈ کے بجائے فارن ہائٹ میں درجہ حرارت بتایا جاتا ہے۔ پاکستان سے نئے آنے والوں کو سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ 32 درجے فارن ہائٹ برابر ہے صفر ڈگری سینٹی گریڈ کے۔ اس کے بعد ہر 1.8 درجہ فارن ہائٹ ایک درجے سینٹی گریڈ کے مساوی ہوتا ہے۔
آج امریکا میں تھینکس گیونگ ڈے یعنی یوم شکرانہ ہے۔ یہ دن نومبر کی چوتھی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں عام تعطیل ہے لیکن صحافیوں کے لیے کون سی چھٹی۔ پاکستان میں بھی عید بقرعید عاشورہ چہلم ہر موقع پر دفتر حاضری دینا پڑتی تھی۔ میں روزانہ ٹرین سے واشنگٹن آتا ہوں لیکن اتوار یا کسی تعطیل پر دفتر آنا ہو تو کار لے آتا ہوں۔ گاڑی کھڑی کرنے کا مسئلہ نہیں ہوتا اور پارکنگ فیس بھی نہیں دینا پڑتی۔ لیکن آج پریڈ ہونی ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے، دفتر کے اطراف تمام سڑکوں پر پارکنگ ممنوع ہے۔ مجھے کافی دور کار چھوڑنا پڑی۔ دل میں دھڑکا لگا ہوا ہے کہ واپسی پر ملے گی یا نہیں۔ سخت سردی میں دفتر تک ایک میل پیدل چلنا بھی امتحان تھا۔
تھینکس گیونگ ڈے سے اگلا دن بلیک فرائی ڈے کہلاتا ہے۔ یہ کرسمس کے شاپنگ سیزن کا نقطہ آغاز ہے۔ اگلے ایک مہینے تک ہر شاپنگ سینٹر کرسمس کے رنگوں میں رنگا رہے گا اور اشیا کے رعایتی نرخوں کی وجہ سے کھڑکی توڑ رش دیکھنے کو ملے گا۔ چونکہ ہماری جیب میں پیسہ نہیں، چنانچہ ہم نے کھڑکی توڑ ونڈو شاپنگ کرنے کی نیت باندھ لی ہے۔
یہ وہ دن ہیں کہ صبح گھر سے نکلتے ہوئے جتنی سردی ہوتی ہے، شام کو دفتر سے نکلتے ہوئے اس سے زیادہ ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے۔ آج صبح سات بجے گھر سے نکلا تو درجہ حرارت منفی چار تھا اور فیل لائیک مائنس سیون۔ کراچی کے رہنے والوں کو سردی، منفی درجہ حرارت اور برفباری جیسی باتوں کا زیادہ علم نہیں ہوتا۔ کوئٹہ کی ہوا چل گئی تو کچھ پہن اوڑھ لیا ورنہ خواتین لان کی قمیصوں اور حضرات ٹی شرٹ میں گھومتے رہتے ہیں۔ میں خود کراچی میں دسمبر جنوری میں رات کو پنکھا چلاکر سوتا تھا۔
کراچی میں ان دنوں شاید شام چھ بجے مغرب کی اذان ہوتی ہوگی۔ واشنگٹن میں چار بجکر پچپن منٹ پر سورج ڈوب جاتا ہے۔ پانچ بجے اندھیرا دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ امریکا میں ہر سال نومبر میں گھڑیاں ایک گھنٹا پیچھے اور اپریل میں ایک گھنٹا آگے کردی جاتی ہیں۔ چنانچہ گرمیوں میں رات نو بجے بھی سورج آسمان کی چھت پر ٹنگا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں موسم کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے۔ بارش ہورہی ہے تو درجہ حرارت زیادہ ہوگا۔ سورج نکلا ہوا ہے تو درجہ حرارت گر جائے گا۔ ہوا نہ چل رہی ہو تو منفی پانچ بھی مسئلہ نہیں۔ ہوا چل رہی ہو تو پانچ ڈگری بھی ناقابل برداشت ہوسکتا ہے۔ کئی دن سے ہوا خوب چل رہی ہے۔ گھر سے نکلتا ہوں تو اپنے دروازے سے مرکزی سڑک تک پتوں کا فرش بچھا ہوتا ہے۔ وہ درخت جو بہار میں نوبیاہتا دلہن کی طرح بنے سنورے تھے، آج کل اجڑی ہوئی بیوہ کی طرح سوگوار دکھائی دے رہے ہیں۔
سہیلی کے آنسو
شہناز عزیز وائس آف امریکا واشنگٹن میں 1980ء کی دہائی سے کام کررہی ہیں۔ اس سے پہلے ریڈیو پاکستان سے پروگرام کرتی تھیں۔ بہت خوبصورت آواز ہے اور بہت پیارا انداز۔
بدھ کو دفتر میں پارٹی تھی۔ کچھ لوگوں نے آلو اور قیمے بھرے پراٹھے عید میلاد کا تبرک سمجھ کر کھائے، کچھ نے تھینکس گیونگ کی نیاز سمجھ کر۔
سب دعوت اڑانے میں مصروف تھے لیکن شہناز آپا اپنی کرسی پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔ جو خبر ہم ان سے چھپانا چاہ رہے تھے، وہ انھوں نے جیونیوز کی اسکرین پر دیکھ لی تھی۔
شہناز آپا فہمیدہ ریاض کی سہیلی ہیں۔ دونوں حیدرآباد میں پڑوسنیں تھیں۔ انھوں نے بہت سا وقت ساتھ گزارا۔ میں نے سنا ہے کہ فہمیدہ ریاض کا جوانی میں انتقال کرنے والا بیٹا کبیر یہاں امریکا میں رہتا تھا۔ وہ ادھر آتیں تو شہناز آپا کے ساتھ وقت گزرتا تھا۔
میں نے انھیں روتے دیکھا تو سوچا، میرے کئی دوست جوانی میں مرگئے۔ کیا میں ان کی موت پر یوں رویا تھا؟ اس کے بعد خیال آیا کہ جب اپنا وقت آئے گا تو کیا کوئی دوست مجھے یوں روئے گا؟
شہناز آپا کے آنسو بہت قیمتی لگے۔ دنیا میں ایک بھی ایسی سہیلی، ایک بھی ایسا سچا دوست ہو تو مرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
فہمیدہ ریاض کے ساتھ ایک ملاقات
طارق روڈ کے اطراف کی گلیوں میں گھومنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ وہاں پرانے ناظم آباد جیسا ماحول ہے۔ میں نے کسی دور میں ایک سروے کمپنی میں ملازمت کی تھی جس کا دفتر طارق روڈ کی ایک ذیلی گلی میں تھا۔ میں نے صرف دو ڈھائی ماہ اسمار انٹرنیشنل میں کام کیا ہوگا لیکن اس دوران میں گلیوں کی خوب خاک چھانی۔ پیراماؤنٹ بکس تھوڑے فاصلے پر اسی علاقے میں ہے، اگرچہ خالد بن ولید روڈ کے قریب ہے۔
میں بہت سال بعد ان گلیوں میں گھسا تو پریشانی ہوئی۔ پیدل گھومنا الگ معاملہ ہے، کار چلانا الگ بات۔ ہر گھر کے آگے چار گاڑیاں کھڑی ہوں تو آنا جانا مشکل ہوجاتا ہے۔ مجھے کئی چکر لگانے کے بعد ایک جگہ کار پارک کا موقع ملا۔
میں نے فون میں محفوظ اس پتے پر نظر ڈالی جہاں مجھے پہنچنا تھا۔ ایک دو گلیاں بھٹکا اور ایک دو لوگوں سے پوچھا، آخر اس گھر پر پہنچ گیا۔ بڑا سا مکان تھا۔ گھنٹی بجائی تو ایک صاحب باہر نکلے۔ میں نے آمد کی غایت بیان کی۔ انھوں نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔
میں ان کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھا۔ قدیم زمانے کا مکان، پرانا زینہ۔ اوپر چڑھنے کے بعد انھوں نے بائیں جانب ایک کمرے تک رہنمائی کی اور خود باہر رک گئے۔
میں جھجکتا ہوا اندر داخل ہوا۔ کمرے میں تھوڑا سا اندھیرا اور بہت سی اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ بیچ میں ایک مسہری بچھی تھی جس کے سرہانے دو چار کتابیں دھری تھیں۔ فہمیدہ ریاض ایک کونے پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھیں۔ شاید پانی کے ساتھ کوئی دوا نگل رہی تھیں۔
یہ گزشتہ سال میرے امریکا آنے سے پہلے کی بات ہے۔
میں نے کہیں سے فہمیدہ ریاض کا نمبر لے کر فون کیا تھا۔ ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے بے حد بے تکلفی سے پوچھا، ’’مبشر! تم میرے گھر کیسے آؤ گے؟ تمھارے پاس گاڑی ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا، جی ہاں تو انھوں نے کہا، ’’کیا تم مجھے فلاں جگہ لے چلو گے؟‘‘ مجھے اب یاد نہیں کہ وہ کہاں جانا چاہتی تھیں لیکن میں نے فوراً کہا تھا، ’’کیوں نہیں!‘‘ انھوں نے مجھے گھر کا پتا بتادیا۔
لیکن جب میں ان سے ملنے پہنچا تو وہ کہیں جانے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ شاید وہ بھول چکی تھیں کہ انھوں نے مجھ سے کہیں لے جانے کا وعدہ لیا تھا۔ لیکن وہ مجھ سے ایسے ہی ملیں جیسے بہت بار مل چکی ہیں۔ شاید وہ سب ہی سے ایسے ملتی ہوں گی۔
اس سے پہلے صرف دو بار ان سے تھوڑی سی گفتگو ہوئی تھی۔ ایک بار کراچی آرٹس کونسل میں، جب میں نے ان سے ایک کتاب پر دستخط کروائے تھے۔ دوسری بار کراچی لٹریچر فیسٹول کے ناشتے کی میز پر، جہاں انھوں نے علی اکبر ناطق سے ان کی کوئی نظم فرمائش کرکے سنی تھی۔ یہ کوئی ایسی ملاقاتیں نہیں تھیں کہ انھیں میرا نام تک یاد رہتا۔
سچ یہ ہے کہ اس دن فہمیدہ ریاض سے مل کر دل دکھا۔ وہ بہت تنہا معلوم ہوئیں۔ میں ان کی دو تین کتابیں ساتھ لے کر گیا تھا۔ ایک کا نام ’’تم کبیر‘‘ تھا۔ کبیر ان کے بیٹے کا نام تھا جو جوانی میں انتقال کرگیا۔ انھوں نے کبیر کی یاد میں نظم لکھی تھی۔ ادیب دوسروں کے ہاتھ میں اپنی کتابیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر افسردہ ہوئیں۔ انھیں بیٹا یاد آگیا۔ انھوں نے پتا نہیں کس دل سے اس کتاب پر دستخط کیے۔
ایک ملازمہ گلاس میں شربت لے آئی۔ میں نے ان سے ایک دو کتابوں پر بات کی اور چند سوال کیے جن کا انھوں نے روایتی خوش اخلاقی سے جواب دیا۔ میں نے جلدی جلدی مشروب ختم کیا اور ان سے اجازت چاہی۔ رخصت ہونے سے پہلے انھیں اپنی کتابیں پیش کیں۔
‘‘میں انھیں پڑھوں گی۔ میں انھیں ضرور پڑھوں گی مبشر!‘‘ انھوں نے معصوم بچوں کی طرح وعدہ کیا۔ میں خوش ہوگیا۔ اتنا خوش کہ وہاں سے دو گلیاں دور اپنی کار تک گنگناتا ہوا گیا۔
اگلے اتوار کو میں فریئر ہال میں پرانی کتابوں کے بازار پہنچا تو ایک دکاندار نے مجھے ایک طرف لے جاکر کہا، ’’میرے پاس ایک شخص کا مال آیا ہے۔ بہت سی کتابیں ہیں۔ آپ شوقین ہیں۔ آپ پہلے دیکھ لیں۔‘‘
وہ زیادہ کتابیں نہیں تھیں۔ ستر پچھتر ہوں گی۔ شاعری کی کتابیں، ناول، انسانی حقوق کمیشن کے مجلے۔ لیکن ان میں اپنی کتابیں دیکھ کر میں چونکا۔ ایک کتاب کھول کر پہلا صفحہ دیکھا۔ اس پر لکھا تھا، فہمیدہ ریاض کے لیے محبت کے ساتھ، مبشر زیدے!
سوالات
اسلام آنے سے پہلے مکہ میں مشرک ہوتے تھے یا یہودی اور مسیحی۔ ممکن ہے کہ کچھ ملحد بھی ہوں۔
رسول پاک کے آبا و اجداد کا مذہب کیا تھا؟
تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ رسول پاک کے دادا عبدالمطلب مشرک تھے۔ بی بی خدیجہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسیحی تھیں۔
جو لوگ یہ نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے موحد لوگ دین ابراہیمی پر عمل پیرا تھے۔ یہ دین ابراہیمی کیا تھا؟
جب نئی شریعت آجاتی ہے تو پرانی منسوخ ہوجاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی شریعت آجانے کے بعد کون سا دین ابراہیمی؟
مساوات کا درس
ہر مذہب اپنے آغاز میں ظاہر ہے کہ دعوتی مرحلے میں ہوتا ہے اس لیے کوئی مصلح یہ نہیں کہتا کہ تمام انسان برابر ہیں۔ وہ اپنے ماننے والوں کو برتر اور باقی سب انسانوں کو کمتر قرار دیتا ہے۔ یہ ہمیں ملحدوں نے بتایا کہ تمام انسان برابر ہیں۔
اقبال جرم
علامہ اقبال آج زندہ ہوتے تو ثاقب نثار انھیں سپریم کورٹ طلب کرچکا ہوتا اور یہ سوال کرتا:
تمھیں شاعر مشرق کس نے بنایا؟ سچ سچ بتاؤ!
تمھاری پی ایچ ڈی کی ڈگری جعلی معلوم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کا نام بھی مشکوک ہے۔ کیوں نہ تمھیں جیل بھیج دیا جائے؟
تم نے پی ٹی وی پر اپنا کلام کیوں دیا؟ کون سے پروڈیوسر نے ریکارڈ کرایا؟ اس کی دو سال کی تنخواہ کاٹ کر ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے۔
درسی کتابوں میں تم نے اپنی اخلاق باختہ نظمیں کیوں شائع کرائیں؟ ان سے ٹیکسٹ بک بورڈ کو کتنا مالی نقصان ہوا؟
دوسروں کی زمینوں میں غزل کہنا اور انگریزی نظموں کا خیال چوری کرنا بھی کرپشن ہے۔ کیوں نہ تمھارا سارا کلام ضبط کرلیا جائے؟
مذہب، ریاست اور فرد
کوئی مذہب، کوئی نظریہ، کوئی ریاست اور کوئی نظام فرد سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
تمام مذاہب، نظام اور ممالک فرد کی فلاح کے لیے وجود میں آئے ہیں ورنہ ان کا کوئی جواز نہیں۔
جو مذہب یا نظریہ، نظام یا ریاست فرد کو تحفظ، انصاف اور اطمینان فراہم نہ کرسکے، اس کے جتنے مرضی قصیدے گھڑ لیں، وہ ناکام ہے۔
جب تک سیاسی گروہ آئین اور قانون کا احترام کرنے والی ریاست تشکیل نہیں دے سکے تھے، نیک بندوں نے مختلف جغرافیائی حدود میں آسمانی قوتوں کے نام پر قوانین فراہم کیے تاکہ جنگل کے قانون کے بجائے انسانوں کا معاشرہ تشکیل پاسکے۔ ان میں کچھ کو مذہب کا نام دیا گیا۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مذہب مختصر عرصے تک ہی موثر رہا۔ مذہب کے نام پر بنی ریاستیں کئی صدیوں تک قائم رہیں لیکن وہ درحقیقت بادشاہتیں تھیں۔ عوام استحصال کا شکار ہی رہے۔
سیکولر جمہوریت کے سوا کوئی نظام ایسا نہیں جس میں ریاست نے اپنے شہریوں کو تحفظ، انصاف اور اطمینان فراہم کیا ہو۔ اگرچہ اس میں بھی کچھ مسائل موجود ہیں لیکن بہرحال ریاست اپنے شہری سے قوانین کے احترام اور ٹیکس کی ادائیگی سے زیادہ تقاضے نہیں کرتی۔ یہ مذہب سے بہتر ہے جو اپنے ماننے والوں سے جان کی قربانی بھی طلب کرتا ہے۔
کسی مذہب، نظریے، نظام یا ریاست کی خاطر جان دینا یا کسی کی جان لینا کوئی خوشگوار خیال نہیں۔ قومی ریاست میں ٹیکس گزاروں سے مذہبی چندے لینے کا بھی کوئی جواز نہیں۔
آج کے دور کی ریاست صرف موت سے پہلے کی زندگی پر یقین رکھتی ہے۔ چنانچہ اس کا فرض ہے کہ کام کرنے کے قابل تمام افراد سے ٹیکس وصول کرے اور اس سے ریاست کے تمام شہریوں کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنائے۔
موت کے بعد زندگی کا سوال مذہب سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر ایمان رکھنے والوں کو علی شریعتی کا یہ قول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو مذہب زندگی میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا، وہ مرنے کے بعد بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔
محفوظ ملک
جوان بیٹیوں والے ہندو، چُوڑے کی سطح سے اٹھنے کی خواہش والے مسیحی، شیعہ اور خاص طور پر ڈاکٹر، ظاہر ہوجانے والے احمدی، مذہب کی احمقانہ تعبیر پر سوال اٹھانے والے دانشور ، کسی بھی ذہنی سطح اور فرقے کے مولوی کو چیلنج کرنے والے ایکٹوسٹ، مذہبی مقدمے لڑنے والے وکیل اور سننے والے جج، کالعدم تنظیموں کی ریاستی حمایت پر اعتراض کرنے والے سیاست دان، لاپتا افراد خاص طور پر بلوچوں کا نام لینے والے بلاگر، عزت و احترام کا تقاضا کرنے والے قبائلی، اظہار کی آزادی مانگنے والے صحافی۔۔۔
ان سب کے لیے پاکستان دنیا کا سب سے محفوظ ملک ہے۔