وائس آف امریکا کے لیے انٹرویوز
ادیب اور صحافی کے پاس پیسہ آجائے تو مزاحمت نہیں کرتا، ناصر عباس نیر
ناصر عباس نیر اردو ادب کے اہم ترین نقادوں میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب میں پی ایچ ڈی کے بعد جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ حاصل کی۔ سولہ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بیشتر تنقید کی ہیں۔ لیکن وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور ان کے افسانوں کے کئی مجموعی شائع ہوچکے ہیں۔ اخبارات میں ادبی کالم بھی لکھتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں برسوں پڑھاتے رہے۔ آج کل اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
میں نے دریافت کیا کہ ایک زمانہ تھا کہ صحافی سنسرشپ کا شکار ہوتے تھے تو ادیب شاعر ان کے ساتھ احتجاج کرتے دکھائی دیتے تھے۔ آج کل صحافی سنسرشپ کی دہائیاں دے رہے ہیں، لیکن ادیب لاتعلق بیٹھے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
ناصر صاحب نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ ادیب شاعر براہ راست صحافت سے منسلک تھے۔ اس وقت سنسرشپ ہوتی تھی تو وہ براہ راست اس سے متاثر بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ وہ اس کے خلاف مزاحمت بھی کرتے تھے، سنسرشپ کی شکایت بھی کرتے تھے اور عملی جہاد بھی کرتے تھے۔ اب صحافت اور ادب میں فاصلہ ہوگیا ہے۔ بہت سے ادیب صحافیوں کو ادب کا حصہ نہیں سمجھتے اور یہی صورت صحافیوں کی ہے۔ جس طرح آج کے ادیب کو مصوری کا علم نہیں، موسیقی سے ناواقف ہے، فلم اور تھیٹر کے بارے میں نہیں پتا، اسی طرح وہ صحافت سے بھی دور ہوگیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے سماج میں عمومی طور پر لاتعلقی پیدا ہوئی ہے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے خانوں میں رہنے لگے ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے۔
دوسری وجہ بالکل سامنے کی صورتحال ہے کہ اردو میں کوئی ایک ادیب اور شاعر ایسا نہیں جس کی آواز مزاحمتی معلوم ہوتی ہو۔ پہلے فیض صاحب تھے، منٹو تھے، جالب تھے یا دوسری زبانوں کے شاعر ہوا کرتے تھے۔ ان کی آواز سنائی دیتی تھی اور اونچے سروں میں سنائی دیتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ادیب نظمیں لکھ رہے ہیں، افسانے لکھ رہے ہیں، ناول لکھ رہے ہیں۔ ان میں کہیں نہ کہیں وہ جبر کے خلاف لکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ادب میں مزاحمت ختم ہوگئی لیکن وہ جن اداروں یا طاقتوں کے خلاف ہونی چاہیے، وہاں تک اس کا اثر نہیں ہے۔ ادب میں اگر مزاحمت ہے بھی تو اسے وہ پڑھتے نہیں ہیں۔
کچھ اور تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔ پہلے جو ادیب مزاحمت کرتے تھے، وہ ترقی پسندوں کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پروگریسو آئیڈیالوجی تھی۔ ساٹھ ستر کی دہائی کے بعد وہ آئیڈیالوجی ختم ہوگئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب ہم بعد از نظریات عہد میں جی رہے ہیں۔ ترقی پسندوں کی باقیات تو موجود ہیں لیکن یہ سوال بھی ہے کہ ان کی آواز کیوں سنائی نہیں دیتی۔ اس کا سبب غالباً آئیڈیالوجی کا خاتمہ ہے اور نئے حالات میں انھیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ ذمے داری اس ترقی پسند گروہ کی ہے کہ اپنی پوزیشن کو واضح کرے کہ اب وہ کہاں کھڑے ہیں۔
ایک اور رخ یہ ہے کہ پہلے ادیب صرف اس بات سے متاثر نہیں ہوتے تھے کہ ان کی چیزیں چھپنے سے روکی جارہی ہیں۔ وہ معاشی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتے تھے۔ اب صحافیوں اور ادیبوں کا بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جس کی معاشی صورتحال بدل گئی ہے۔ کارپوریٹ کلچر یا لبرل اکانومی یا گلوبلائزیشن کی وجہ سے لوگوں کے پاس بہت پیسہ آگیا ہے۔ جن معاشی مسائل کی وجہ سے لوگ مزاحمت کرتے تھے، اب وہ ان کا شکار نہ ہونے کی وجہ سے مزاحمت نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہے کہ عوام معاشی مصائب کا شکار نہیں ہیں۔ بالکل ہیں۔ لیکن ادیب ان سے کٹا ہوا ہے۔ ادیب کے پاس پیسہ آیا ہے۔ اچھی بات ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ادیب کو نظریات پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
میں نے بتایا کہ اصغر ندیم سید کہتے ہیں کہ ادیب میڈیا سنسرشپ سے متاثر نہیں ہو رہا اس لیے وہ اس کے خلاف بات نہیں کر رہا۔
ناصر صاحب نے کہا کہ اصغر ندیم سید نے بالکل ٹھیک بات کی کہ جو خبریں روکی جا رہی ہیں یا کالم روکے جا رہے ہیں، وہ صحافیوں کے روکے جا رہے ہیں۔ صحافیوں کی آواز زیادہ دور تک پہنچتی ہے۔ ادیبوں کی کتابیں نہیں روکی جارہیں۔ آپ کتاب میں جو مرضی لکھ دیں، وہ چھپ جاتی ہیں۔ رسائل میں آپ چیزیں بھیجتے ہیں، وہ چھپ جاتی ہیں۔ ادیب اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اظہار پر کوئی پابندی نہیں ہے تو وہ کس بات پر احتجاج کریں۔
میں نے کہا کہ حبیب جالب نے سیاست میں حصہ لیا اور جلسوں میں نظمیں سناتے تھے۔ آج کے ادیب کی سیاست میں دلچسپی ہے یا نہیں؟
ناصر صاحب نے کہا کہ ایک حد تک ٹھیک ہے کہ ادیب شاعر سیاسی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔ لیکن ایک بات اور بھی ہے۔ میڈیا ایک دھماکے سے پھیلا ہے، اس کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے، چینل بڑھ گئے ہیں، سوشل میڈیا آگیا ہے۔ ان چیزوں کی کثرت سے یہ ہوا کہ طاقتور طبقوں نے اپنے بیانیے بہت مہارت سے پھیلائے ہیں۔ ادیبوں نےان بیانیوں کو چیلنج کرنے کے بجائے انھیں جذب کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب کوئی ادیب اگر مزاحمت کرتا ہے تو ادیبوں ہی کا کوئی گروہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ ادیب مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔
یہ خوفناک صورتحال ہے کہ ادیب مجموعی صورتحال کو سمجھ کر اس کے ذمے داروں کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے بعض اوقات ان کا دفاع کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں۔ ادیب قومی سیاست سے بالکل لاتعلق نہیں ہوئے۔ لیکن کچھ ادیب ایسے ہیں جو سیاست دانوں اور ان کے پیچھے جو طاقتیں ہیں، ان کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں۔ ادیبوں میں غیر تنقیدی رویے نے جنم لیا ہے اور وہ سیاسی بیانیوں کو چیلنج کرنے کے بجائے ان کی توثیق کرنے لگے ہیں۔ جو ادیب انھیں ذرا ہٹ کے نظر آتا ہے، وہ اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔
میں نے سوال کیا کہ پاکستان میں مارشل لا ادوار میں اور بعض اوقات نام نہاد جمہوریت میں بھی گھٹن کا ماحول رہا۔ لیکن، بڑا ادب پیدا نہیں ہوا جس کے لیے ایسے حالات موزوں کہے جاتے ہیں؟
ناصر صاحب نے کہا کہ یہ بہت بڑا سوال ہے۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ معاشرے میں گھٹن ہو تو وہاں بڑا ادب پیدا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص جب اپنے سامنے خطرہ دیکھتا ہے تو اس کے اندر جذباتی اور تخلیقی توانائی بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح جو سماج خطرے میں ہو تو اس میں بڑا ادب پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے جس قدر بہترین تخلیقی توانائی درکار ہوتی ہے، وہ بیدار ہوجاتی ہے۔ افریقا اور لاطینی امریکا میں نوآبادیاتی دور کے بعد جو بڑا ادب پیدا ہوا ہے، وہ سارا اسی ماحول میں ہوا ہے۔ برصغیر میں دوسری زبانوں میں بڑا ادب پیدا ہوا ہے۔ لیکن آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں نہیں لکھا گیا۔ عبداللہ حسین، قرة العین حیدر، انتظار حسین، مرزا اطہر بیگ سب نے بہت عمدہ ناول لکھے ہیں۔ لیکن ویسا عالمی کلاسیکی ادب جیسا دوسرے ملکوں میں سامنے آیا، وہ نہیں ہے۔ ہمارے ادیب اتنا بڑا ناول نہیں لکھ سکے۔
لیکن ہاں، افسانے لکھے گئے ہیں۔ منٹو جیسا افسانہ نگار ہمارے پاس ہے۔ اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ منٹو نے تمام بیانیوں کو چیلنج کیا، ان کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ بڑا ادیب بڑے سوال اٹھاتا ہے۔ اس بارے میں حقیقت وہی ہے، جو آپ نے کہا۔
ایک عجیب بات یہ ہے کہ ادب کو اس طبقے نے اپنا لیا جس کا تعلق دائیں بازو سے ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس وقت جتنے مقبول ناول ہیں، وہ انھوں نے لکھے ہیں۔ ابویحیٰ ہوں، عمیرہ احمد ہوں، جس طرح سیاست پر بعض غیر سیاسی طاقتوں نے قبضہ جمالیا، ادب اور ناول پر بھی ترقی پسندوں کے بجائے دائیں بازو والے طبقے نے قبضہ جما لیا ہے۔ ترقی پسندوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔
نئی نسل کو معیاری تعلیم کے حصول سے روکنا بھی سنسر شپ ہے، اجمل کمال
اجمل کمال اگر کوئی اور کمال نہ بھی کرتے تو آج جیسے ادبی جریدے کا اجرا اور تیس سال تک معیاری ادب کی پیشکش بہت کافی تھی۔ وہ اپنے ادارے کے تحت اس قدر سستی ادبی کتابیں چھاپتے ہیں کہ دوسرے پبلشر کبھی خسارے کے ایسے سودے نہ کریں۔ اجمل صاحب ایڈیٹر اور پبلشر ہونے کے علاوہ مترجم اور نقاد بھی ہیں لیکن وہ خود کو سنجیدہ ادب کا قاری کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ان دنوں وہ دہلی میں ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
میں نے اجمل صاحب سے پوچھا کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں پاکستان میں مزاحمتی ادب لکھا گیا اور بعد میں جمع کر کے چھاپا گیا۔ آپ تازہ ادب سے واقف رہتے ہیں۔ کیا آج کل ایسا ادب لکھا جارہا ہے؟
اجمل کمال نے کہا کہ مزاحمتی ادب کی اصطلاح میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میرا خیال ہے کہ ادب مزاحمت نہیں کرتا بلکہ معاشرہ یا اس کے کچھ گروہ ادب کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ میں ادب میں تمام فنون لطیفہ اور علوم کو شامل کرتا ہوں۔ یہ کسی ادیب، فنکار یا عالم کے دنیا کو دیکھنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے زندگی کے تجربے، مشاہدے، تخیل اور جمالیات سے کام لیتا ہے۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ ادب کا بڑا موضوع نیرودا کے الفاظ میں ریزیڈنس آن ارتھ یعنی انسان کی زندگی اس سیارے پر ہے۔ اس میں وہ اپنا وژن تخلیق کرتا ہے اور اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں تک پہنچے۔ لیکن اس کی بات بعض اوقات معاشرے کو قبول نہیں ہوتی۔ جو پابندی لگائی جاتی ہے، جس کی طرف مزاحتمی ادب کی اصطلاح اشارہ کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ جو بھی شے تخلیق کی گئی ہے، وہ لوگوں تک پہنچنے نہ پائے۔ یعنی پڑھنے پر پابندی لگائی جاتی ہے، لکھنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔
جس چیز کے خلاف کوئی ریاست، گروہ یا میڈیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے تخلیق کار کا مقصد کسی پر حملہ کرنا نہیں ہوتا۔ لیکن اسے دوسروں تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ادب اور آرٹ میں تخیل اور جمالیات کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔ سائنسی اور سماجی علوم میں مشاہدے اور تجربے پر زیادہ زور ہوتا ہے۔ یہ چیزیں کسی معاشرے کے لیے برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں تو اس کے متحرک لوگ اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ضیا دور کے بعد بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔ جیسے چوبیس گھنٹے چلنے والے نیوز چینل ہیں۔ میرے خیال میں یہ خود ادب اور علم پر پابندی لگانے کا طریقہ ہے۔ کیونکہ یہ کسی شخص کو کسی بات پر غور کرنے کی مہلت نہیں دیتے۔ نیوز چینلوں کا مقصد کوئی وژن فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ ادب اور علم کا مقصد وژن فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلوں کا مقصد اشتہارات دکھانا ہوتا ہے۔
ن م راشد نے کہا تھا کہ پہلے آدمی کتابوں کی کمی کی وجہ سے جاہل رہ جاتا تھا۔ اب کتابوں کی زیادتی کی وجہ سے جاہل رہ جاتا ہے۔ لوگ شام کے چھ سات گھنٹے ٹی وی چینلوں کے سامنے بیٹھ کر گزارتے ہیں اور یہی ان چینلوں کا مقصد ہوتا ہے۔ ہر اینکر آپ کو یہ کہتا سنائی دے گا کہ ہمارے ساتھ رہیے۔ اس لیے کہ وہ اشتہار دکھاتے ہیں۔ کیا اس پورے سلسلے سے عوام کی اطلاعات تک رسائی بہتر ہوئی یا ان کے وژن میں کوئی بہتری ہوئی؟ پرائیویٹ چینلوں میں موسیقی کا کوئی سنجیدہ پروگرام آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ ادب کی سنجیدہ اڈاپٹیشن نہیں ہوں گی۔ کسی علم کی کوئی بات نہیں ہو گی۔
حکومت، مختلف گروہ، عوام اور میڈیا مل کر معاشرہ بناتے ہیں۔ ان سب کا اس بات پر زور ہے کہ ادیب، فنکار اور عالم جو وژن بناتے ہیں، اسے پھیلنے سے کسی طریقے سے روک دیا جائے۔ ادیب اپنی کسی داخلی ضرورت کے تحت اپنا وژن پیش کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ اسے پڑھیں بلکہ ساری دنیا کے لوگ پڑھیں اور اس سے کچھ راہنمائی حاصل کریں۔ لیکن یہ اس کی دسترس میں نہیں ہے۔ اس کے پاس جو صلاحیت ہے، اس سے وہ صرف اپنے وژن کو خوبصورت شکل دے سکتا ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔ بلھے شاہ اور ٹالسٹائی اپنی زندگی گزار کے رخصت ہو گئے لیکن ان کا کام موجود ہے۔ اس میں ان کا ذاتی مفاد نہیں تھا کہ ان کی باتیں سب لوگوں تک پہنچیں۔ اس میں معاشرے کا مفاد ہے۔ اگر معاشرہ اس کی مزاحمت کرتا ہے تو نقصان بھی اس کا ہے۔
میں نے کہا کہ اجمل صاحب، میں آپ کی بات سے یہ سمجھا ہوں کہ ہمارا معاشرہ یا ریاست اگر ہماری نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم فراہم نہیں کر رہی یا اعلیٰ تعلیم کے حصول سے روک رہی ہے تو یہ بھی ایک طرح کی سنسرشپ ہے؟
اجمل کمال نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں، ہمارا آج کل کا میڈیا خود سنسرشپ کا ہتھیار ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم حاصل کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی بھی سنسرشپ ہے۔ دنیا کے بہترین لوگوں نے ادب، آرٹ اور علم میں جو وژن پیدا کیا، جس سے دنیا بہتر ہو سکتی ہے، جس سے انسان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، اس کا عوام تک پہنچنا کچھ لوگوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ اور اس میں میڈیا بہت بڑا عنصر ہے۔ میڈیا بڑی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ادیب کی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔
میں نے کہا کہ آپ پچیس تیس سال سے ایک اعلیٰ ادبی جریدہ شائع کر رہے ہیں۔ یعنی لوگوں تک ادب پہنچا رہے ہیں۔ یہ بات کہ اپنے ادب کو لوگوں تک پہنچانا ادیب کا مسئلہ نہیں ہے اور وہ اس سے لاتعلق رہ سکتا ہے، میں سمجھا نہیں۔ اس میں نہ پڑھنے والے کی غلطی تو صاف ظاہر ہے لیکن پہنچانے والے کی سستی بھی سامنے آتی ہے۔
اجمل کمال نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ ادیب یا عالم کا مسئلہ نہیں ہے۔ دراصل ان کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ اس کا حل معاشرے کے پاس ہے کیونکہ بڑے فیصلے عوام کی اکثریت کرتی ہے یا وہ لوگ جو فیصلہ ساز قوت رکھتے ہیں۔ ادیب کو اگر ادب کی تشہیر کا کام کرنا پڑے گا تو اس پر زیادہ بوجھ پڑ جائے گا۔ وہ لکھے بھی اور اسے عوام تک پہنچائے بھی۔ لوگوں کو خود ادب کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ اس کی بجائے وہ ادب کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں نے سوال کیا کہ پاکستان میں مزاحمتی ادب کے مجلے تو شائع ہوئے لیکن ادب کا معیار عالمی درجے کا نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
اجمل کمال نے کہا کہ جب آپ مزاحمتی ادب کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اچھے معیار کا نہیں تو یہ آپ بلاوجہ ادب کو مختلف خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ گویا آپ توقع کرتے ہیں کہ کسی ایک خانے کا ادب عالمی معیار کا مواد فراہم کرے گا۔ منٹو نے فسادات کی کہانیاں لکھیں جنھیں مزاحمتی ادب کی محدود تعریف میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن اسی موضوع پر اسی وژن کے ساتھ راجندر سنگھ بیدی نے بھی لکھا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی ایک کا معیار دوسرے سے کم ہے۔ اگر آپ فوری اثر پیدا کرنے والی تحریروں کو مزاحمتی ادب کہیں گے تو آپ اس قسم کو آپ نافذ کریں گے جو ادیبوں کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ یہ لٹریری اسٹیبلشمنٹ کی وضع کی ہوئی تعریف ہوتی ہے اور اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جو ادبی نہیں ہوتے۔
آپ کچھ مثالیں چن لیتے ہیں۔ بہت سی مثالیں ایسی ہوں گی جو آپ کی تعریف پر پوری نہیں اتریں گی۔ مثلا مارکیز ہے تو اطالو کلوینو بھی ہیں جن کے بارے میں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے کسی جبر کا سامنا رہا۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس نے بڑے ناول نہیں لکھے یا اس کا کسی بھی طریقے سے معیار کم ہے۔ یعنی آپ کلاسیفکیشن کر دیتے ہیں کہ جو فوری نوعیت کی چیزیں ہیں، انھیں اعلیٰ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور باقی چیزوں کو کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ ادب نہیں ہے۔ یہ تعریف میرا خیال ہے کہ درست نہیں ہے۔
دونوں طرح کے ماحول میں دونوں طرح کی مثالیں ملیں گی۔ یعنی جبر کے ماحول میں بہت سی ایسی چیزیں لکھی گئی ہیں جن کی جمالیاتی یا تخیل کے اعتبار سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو ماحول ہے، وہی اعلیٰ ادب تخلیق کروائے گا۔ تخلیقی ادیب کے پاس بہت بڑا اوزار اس کا تخیل ہے۔ جب تک وہ اس کے پاس ہے، آپ اسے کسی قسم کی پابندی میں نہیں رکھ سکتے۔ وہ دنیا کو جس طرح دیکھتا ہے، اسے بیان کرنے کے ایک ہزار ایک طریقے وہ خود تلاش کرلیتا ہے۔
مزاحمتی ادب کے مجلے کی کوشش نہایت نیک نیتی سے کی گئی تھی لیکن میرے خیال میں وہ ادب کو دو حصوں میں بانٹ دیتی ہے۔ اور میرے خیال میں جس وجہ سے بانٹتی ہے، وہ بالکل غلط ہے اور اس سے جو ادب باہر رہ جاتا ہے، اس کے ساتھ ناانصافی ہو جاتی ہے۔ جب آپ ایک حصے کو مزاحمتی ادب کہتے ہیں تو دوسرے حصے کو کچھ نہ کہیں لیکن وہ غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔ یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے کیونکہ دونوں میں اچھی اور بری چیزیں موجود ہیں۔ ادب کو دیکھنے کے طریقے اور ہوتے ہیں۔
میڈیا ہی نہیں، این جی اوز بھی سیلف سنسرشپ پر مجبور ہیں، آئی اے رحمان
آئی اے رحمان کو آج بیشتر لوگ انسانی حقوق کے رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں۔ پوری زندگی انھوں نے اظہار کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ وہ کئی عشروں تک پرنٹ میڈیا سے وابستہ رہے اور ’پاکستان ٹائمز‘ کے ایڈیٹر رہے۔ تین کتابیں بھی تصنیف کیں۔ گزشتہ تین عشروں سے وہ انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر ہیں اور اپنی خدمات کے اعتراف میں کئی عالمی ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیں۔
میں نے آئی اے رحمان سے پوچھا کہ ان کا میڈیا سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ آج کل پاکستان میں میڈیا کس حال میں ہے؟
آئی اے رحمان نے کہا کہ ’’پاکستان میں میڈیا کی صورتحال خاصی خراب ہوگئی ہے۔ مختلف قسم کی غیر قانونی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ کئی علاقوں میں اخبارات تقسیم نہیں ہونے دیتے۔ صحافیوں کو ان کے فرائض انجام دینے سے روکا جاتا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا پر پروگرام چل رہا ہوتا ہے کہ درمیان میں ہدایت آجاتی ہے۔ نہایت منظم طریقے سے سوچ پر پابندی لگائی جارہی ہے‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ’’حکومت نے ایک مسودہ تیار کیا ہے کہ وہ پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نیا قانون لانا چاہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور یہ اچھی بات نہیں ہے۔ ملک بحران میں ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے اظہار کی آزادی بہت ضروری ہے۔ ورنہ آپ کو متبادل رائے نہیں ملے گی اور آپ غلطیوں کا شکار ہوجائیں گے‘‘۔
میں نے بے اختیار سوال کیا کہ میڈیا پر پابندیاں لگ رہی ہیں تو انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟
آئی اے رحمان نے بتایا کہ ’’میڈیا پر پابندیاں لگانے والوں کی جانب ہی سے یہ بندوبست بھی کیا جارہا ہے کہ ملک میں سول سوسائٹی کی کوئی تنظیم نہ رہے۔ بین الاقوامی این جی اوز کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنا سامان باندھیں اور یہاں سے چلے جائیں۔ مقامی تنظیموں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ نئی تنظیموں کی رجسٹریشن نہیں کی جا رہی۔ پرانی تنظیموں کی رجسٹریشن کی تجدید نہیں کی جا رہی۔ انھیں آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ نے انسانی حقوق کی تنظیموں کا ذکر کیا۔ اور بھی تنظیمیں ہیں جو احتجاج کرسکتی ہیں لیکن وہ سب حالات سے مجبور ہوکر خاموش ہوگئی ہیں یا خاموش کر دی گئی ہیں۔ یہ سیلف سنسرشپ، یعنی خود ہی خاموش ہوجانا ایسی بیماری ہے جو پاکستان میں پھیل گئی ہے۔ میڈیا والے بھی سیلف سنسرشپ پر مجبور ہیں اور این جی اوز بھی اپنی سلامتی اسی میں دیکھ رہی ہیں کہ خاموش ہوجائیں‘‘۔
میں نے دریافت کیا کہ ایوب خاں، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟
آئی اے رحمان نے کہا کہ ’’وہ معاملہ ختم ہوچکا کہ کون ضیا الحق کے ساتھ تھا اور کون ضیا الحق کے خلاف تھا۔ وہی لوگ ہیں جو وردی بدل کر اور کپڑے بدل کر کبھی اس جماعت میں ہیں اور کبھی اس جماعت میں ہیں۔ اب حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ہماری سیاست میں ایسی کھچڑی پک گئی ہے کہ کل آپ کیا تھے اور آج کیا ہیں، اس بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پاکستان کا یہ دور اچھا نہیں ہے اور مستقبل میں مشکلات میں اضافہ ہوگا‘‘۔
میں نے سوال کیا کہ جبر کی جو صورتحال آپ نے بیان کی ہے، وہ تو مارشل لا والی ہے۔ ان حالات میں سب کو عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمان کا خیال آتا ہے جو ایسے مواقع پر آواز اٹھاتے تھے۔
آئی اے رحمان نے کہا کہ ’’پاکستان میں جب پہلی بار مارشل لا لگایا گیا تو اسے سب سے کم جبر کی ضرورت تھی۔ جو اس کے بعد آیا، اسے زیادہ جبر کی ضرورت ہوئی۔ جیسے وقت گزرے گا، مارشل لا رجیم کو زیادہ جبر کی ضرورت پڑے گی۔ یہی ہو رہا ہے۔ جابر حکمرانوں کو اپنی غلطی کبھی نظر نہیں آتی۔ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم تو بالکل ٹھیک ہیں‘‘۔
بقول اُن کے، ’’عاصمہ کا ایک مقام تھا، وہ ہر ایک سے کہہ سکتی تھیں کہ یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ ہماری وہ حیثیت نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آدمی جب دیکھتا ہے کہ پیچھے کوئی ہے یا نہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے‘‘۔
میں نے پوچھا کہ جب انسان ہر جگہ سے مایوس ہوجاتا ہے تو عدالتوں کی طرف دیکھتا ہے۔ کیا چیف جسٹس سے کوئی امید ہے؟
آئی اے رحمان نے کہا کہ ’’میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ سپریم کورٹ کا جو دائرہ ہے، اس سے باہر جاکر کام کرنا ٹھیک نہیں ہے‘‘۔
میں نے آخری سوال کیا کہ پاکستان کے حالات کب تک ٹھیک ہونے کی امید کریں؟
آئی اے رحمان نے زور دے کر کہا کہ ’’پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ حالات ضرور ٹھیک ہوں گے۔ پاکستان کے عوام انصاف پسند اور انصاف دوست ہیں۔ ان کے دل میں جمہوریت کے لیے جذبہ ہے۔ حالات ضرور بدلیں گے۔ لیکن ابھی کچھ عرصے تک امید کی کرن نظر نہیں آتی‘‘۔
سماجی زندگی میں تعطل اور سیاسی جماعتوں کا کردار صفر ہے، عابد حسن منٹو
عابد حسن منٹو کا تعارف کوئی ایک حوالہ نہیں ہو سکتا۔ وہ پاکستان کے قابل ترین وکلا میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر رہ چکے ہیں۔ مارشل لا کے مختلف ادوار میں اس کے خلاف تحریکوں میں سرگرم رہے۔ نصف صدی سے زیادہ سیاسی جدوجہد کی۔ بائیں بازو کی جماعتوں کو منظم کیا اور ورکرز پارٹی آف پاکستان کے صدر ہیں۔ ادبی نقاد ہیں اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں بیس سال پڑھاتے رہے۔
قیام پاکستان کے وقت عابد حسن منٹو پندرہ سال کے تھے۔ ستر اکہتر سال کی سیاسی اور سماجی تاریخ ان کے پیش نظر ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کچھ سیاست دان اور صحافی سیاسی جماعتوں پر دباؤ اور میڈیا سنسرشپ کی بات کرتے ہیں۔ کیا ہمارے وکلا کو یہ سنسرشپ دکھائی نہیں دے رہی؟
عابد حسن منٹو نے کہا کہ بھئی، یہ باتیں میں سن رہا ہوں۔ ایک تو وہ سنسرشپ ہوتی ہے جو حکومت کسی قانون کے مطابق اعلانیہ کرتی ہے۔ ویسا تو نہیں ہے۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کافی پابندیاں ہیں اور کوئی آزادی نہیں ہے۔ چونکہ قانون کے مطابق کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور اس کے بارے میں حکومت کا کوئی بیان نہیں ہے اس لیے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے ملک میں آج کل اسی طریقے سے کام ہو رہے ہیں کہ کوئی اعلان نہیں کرتے، کوئی قانونی جواز نہیں ہوتا اور کسی قانون کا حوالہ نہیں دیتے۔ کچھ موضوعات پر گفتگو کرنے اور بیان دینے پر پابندیاں ہیں۔ میڈیا کو کافی مسائل ہیں۔
میں نے دریافت کیا کہ بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ اتنا بڑا جلسہ کرتی ہے لیکن قومی میڈیا اسے دکھا نہیں سکتا۔ کیا عوام کے احتجاج کو نظرانداز کرنا مناسب ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بارے میں آواز کیوں نہیں اٹھا رہیں؟
عابد حسن منٹو نے کہا کہ ہماری انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان باتوں پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل نادیدہ طریقے سے روک دیا گیا ہے۔ اس وقت سیاست کا کوئی وجود نہیں۔ ون وے ٹریفک ہے۔ جو سرکار چاہتی ہے، وہی ہو رہا ہے۔ ایسا مارشل لا ادوار میں بھی ہوا، مختلف حکومتوں میں بھی ایسے اقدامات کیے گئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لکھنے والے، پڑھنے والے، بولنے والے، پریس والے، ہم خود بھی منظم نہیں ہیں۔ کوئی اس کے خلاف بیان دینے یا موقف اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ چاروں جانب بہت زیادہ پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے لوگ ہل جل بھی نہیں سکتے۔
میں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے سیاست دان مقتدر قوتوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور تحریک چلاتے تھے۔ ادیبوں شاعروں میں فیض اور جالب جیسے لوگ تھے جو جیل جانے سے نہیں گھبراتے تھے۔ وکلا ہر تحریک میں پیش پیش ہوتے تھے۔ اب ایسا کیوں نہیں ہے؟
عابد حسن منٹو نے کہا کہ وجہ یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ زیادہ سے زیادہ غیر سیاسی ہوتا جارہا ہے۔ اس میں سیاست کے عنصر کو نادیدہ طریقے سے منہا کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اپنا کوئی کردار نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں کوئی اسٹینڈ نہیں لے رہیں۔ لوگ دبی آواز میں شکایت کرتے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں میدان میں آ کر کچھ نہیں کہتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد، سیاسی تحریک کو ازسرنو جنم دینے اور میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔
جب سیاسی جماعتیں کسی دباؤ یا خوف یا اپنی بے عملی کی وجہ سے یہ کام نہیں کر رہیں تو کسے کرنا چاہیے؟ دانشوروں کو، ادیبوں کو یا وکلا کو آگے نہیں آنا چاہیے؟ آپ کس جانب دیکھیں گے؟
عابد حسن منٹو نے کہا کہ میں خود جب تک وکالت کرتا تھا تو وکلا نے بہت سی تحریکیں چلائیں۔ ضیا مارشل لا کے خلاف 80ء کی دہائی میں بہت کامیابی سے تحریک چلائی۔ لوگ جیلوں میں بھی گئے، اس کے نتیجے میں ایم آر ڈی بھی بنی اور مارشل لا کو ہٹانے کی جدوجہد تیز ہوئی۔ لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی ماحول موجود تھا۔ سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ اب سیاسی جماعتیں کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایسی جگہ پر کھڑا ہے جہاں سماجی زندگی میں تعطل ہے اور کوئی ان تمام مسائل کے باوجود، ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اور ان تمام پابندیوں کے باوجود کسی سرگرمی کے لیے تیار نہیں۔ وکلا نے ماضی میں ضرور جدوجہد کی لیکن اب وہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ یہ سیاسی سرگرمی کی غیر موجودگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر میدان میں سیاسی سرگرمی ہورہی ہو، عوام میں سیاسی شعور ہو تو چیزیں اپنا راستہ بناتی ہے۔
میں نے آخری سوال کیا کہ اگر بظاہر جمہوری دور میں یہ حال ہے تو خدانخواستہ اگر غیر مسطور مارشل لا لگ گیا تو کیا ہو گا؟
عابد حسن منٹو نے کہا کہ اگر سیدھا مارشل لا لگ جائے گا تو کچھ آواز اٹھنا شروع ہو جائے گی۔ فی الحال نادیدہ قوتوں نے غیر محسوس طریقے سے پابندی لگائی ہوئی ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا اپنا کردار صفر ہے۔
میڈیا پابندی کا شکار ہے تو صحافی باہر نکلیں، ادیب ساتھ دیں گے، اصغر ندیم سید
اصغر ندیم سید استاد ہیں، پینتیس سال پڑھا چکے ہیں۔ شاعر ہیں اور مجموعہ کلام چھپ چکا ہے۔ ڈراما نگار ہیں اور چاند گرہن سمیت کئی مقبول سیریل لکھ چکے ہیں۔ کالم بھی لکھتے ہیں۔ اصغر ندیم سید نے مارشل لا کے ادوار دیکھے ہیں اور سنسرشپ بھگتی ہے۔ انھوں نے ایک حساس ادیب کی حیثیت سے اپنی تحریروں میں زباں بندی کے کرب کا اظہار کیا ہے۔ چار سال پہلے وہ ایک حملے میں زخمی بھی ہوئے۔
میں نے اصغر ندیم سید کو بتایا کہ گزشتہ دنوں میں نے بارہ پندرہ سینئر صحافیوں کے انٹرویوز کیے جن میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ ملک میں میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔ پھر پوچھا کہ ماضی میں ادیب شاعر سنسرشپ کے خلاف صحافیوں کے ہم آواز ہوتے تھے۔ اس بار ہمارے ادیب شاعر کیوں خاموش ہیں؟
اصغر ندیم سید نے کہا کہ آج کل ویسے حالات نہیں ہیں جیسے ایوب خان کے زمانے میں تھے یا ضیا الحق کے زمانے میں تھے۔ میں نے لڑکپن میں ایوب خان کا دور دیکھا ہے۔ پھر میری جوانی کے گیارہ سال مارشل لا کے جبر میں گزرے ہیں۔ اس دور میں اور موجودہ دور میں فرق ہے۔ یہ جمہوری دور ہے۔ اگر صحافت پر کسی قسم کی پابندی ہے تو وہ ویسی نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ ایسے موضوعات ہیں جو حکومت شاید نہیں چاہتی کہ سامنے آئیں۔ لیکن ٹی وی ٹاک شوز میں حکومت کے خلاف کھلم کھلا الزامات لگائے جاتے ہیں۔ میں سمجھ نہیں پارہا کہ آپ کس سنسرشپ کی بات کررہے ہیں۔ اب کوئی عدالت کے خلاف بات کرے گا تو پھر تو پیمرا کہے گی کہ بھئی یہ توہین عدالت ہے۔ اسی طرح اگر کچھ اداروں کے خلاف، سیکورٹی ایجنسیوں کے خلاف بات ہوگی تو خیال رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ چل رہی ہے۔ اس بارے میں کوئی پروگرام کرتا ہے تو اور بات ہے۔ لیکن عام آدمی، ایک شاعر جو نظم کہتا ہے، جو ادب تخلیق کرتا ہے، اس پر پابندی کی میں نے کوئی بات نہیں سنی۔
میں نے کہا کہ ماضی میں ضمیر نیازی جیسے صحافی اگر سنسرشپ کے خلاف لکھتے تھے تو فیض، جالب اور فراز بھی نظمیں کہتے تھے۔ اب صحافیوں اور ادیبوں کی سوچ میں فاصلہ کیسے ہوگیا ہے؟ پہلے تو ادیب شاعر خود صحافت کا حصہ ہوتے تھے۔
اصغر ندیم سید نے کہا کہ جی ہاں، اب آپ نے بات کی ہے۔ ضیا الحق کے زمانے میں ہم ادیب شاعر بولے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آدھا اخبار سنسر کی قینچی سے کٹا ہوا ہوتا تھا۔ سب کو پتا ہے کہ اس وقت جتنے اخبار تھے، رات کو ان کی کاپی مارشل لا والوں کے سامنے پیش ہوتی تھی۔ اور وہ ناپسندیدہ خبریں اکھاڑ دیتے تھے۔ اگلے دن اخبار چھپتا تھا تو وہ جگہ خالی ہوتی تھی۔ وہ اور طرح کا اک دور تھا۔ آج اخبار کو اس طرح کی سنسرشپ کا سامنا نہیں ہے۔ اگر کسی شاعر کے مجموعہ کلام یا کسی ادیب کے افسانے یا کسی نقاد کی کتاب کو ضبط کیا جائے گا تو میں نہیں سمجھتا کہ ادیب خاموش رہیں گے۔ لیکن اگر عدالت کے بارے میں، سیکورٹی ایجنسیوں کے بارے میں یعنی ہمارے اداروں کے بارے میں تحقیق کیے بغیر یا کسی بھی وجہ سے کوئی کچھ لکھے اور اس پر پابندی لگے تو پھر ادیب شاعر اس پر ردعمل نہیں دے گا۔ ادیب تب ردعمل دیتا ہے جب انسانی اقدار کو خطرہ ہوتا ہے۔ ادیب تب کھڑا ہوتا ہے جب انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یا اگر صحافت پر بھی قدغن ہوگی تو بھی بولیں گے۔ لیکن صحافی خود تو کھڑا ہو۔
آپ صحافیوں کو جانتے ہیں۔ لفافہ جرنلزم کی اصطلاح خود انھوں ہی نے وضع کی ہے۔ خود صحافی ہی صحافیوں کے بارے میں یہ لکھ رہے ہیں۔ ایک بات۔ اور دوسری بات، آپ نے دیکھا ہے کہ صحافی اب ٹی وی میں چلا گیا ہے۔ ٹی وی میں جانے کے بعد وہ اسٹیک ہولڈر بن گیا ہے۔ مبشر زیدی! میں نے نیا ’فینومنا‘ دیکھا ہے کہ کالم نویس یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حکومت بنا بھی سکتا ہے اور گرا بھی سکتا ہے۔ ایسے لوگ سیاست دانوں کے مشیر بن گئے ہیں۔ اس صورتحال کو ضیا الحق دور سے نہ ملائیں۔ اس وقت ہماری جان پر بنی تھی۔ ادیب شاعر شاہی قلعے میں قید تھے۔ اس زمانے میں گورنمنٹ کالجوں کے سو پروفیسروں کو تبدیل کرکے باہر نکال دیا گیا تھا۔ ادیب شاعر نے ان حالات کا جم کر مقابلہ کیا۔ کوڑوں کو بھی برداشت کیا۔ آج کوڑوں والی صورتحال نہیں ہے۔ آج اگر صحافت پر قدغن آرہی ہے تو سب سے پہلے صحافی کو باہر آنا پڑے گا۔ کیوں نہیں آتے؟ کیوں کہ ان کے اپنے مفادات پر زد پڑتی ہے۔ یہ سامنے آئیں، میں دیکھتا ہوں کہ ادیب کیسے نہیں باہر آتے۔
میں نے بتایا کہ صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے نو اکتوبر سے احتجاج کر رہی ہے اور صحافی باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے احتجاج قومی میڈیا پر نہیں دکھائے جاسکتے۔ مثال کے طور پر پشتون تحفظ موومنٹ کا کوئی احتجاج آپ نے ٹی وی پر نہیں دیکھا ہوگا۔ انسانی حقوق کمیشن بھی میڈیا سنسرشپ کے بارے میں رپورٹ جاری کرچکا ہے۔
اصغر ندیم سید نے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جی ہاں میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ ایک نادیدہ قسم کی۔۔۔ مالکان کو بلاکر۔۔۔ آپ نے بالکل صحیح بات کی۔ لیکن اس کے مقابلے میں سپریم کورٹ نے صحافیوں کی تنخواہوں کا مقدمہ بھی سنا ہے۔ جہاں تک نادیدہ قسم کی سنسرشپ کی بات ہے تو ہم تیار ہیں۔ ہم ادیب شاعر یقیناً کوئی پیچھے نہیں رہے گا۔ لیکن پی ایف یو جے کو اپنے کیس کو تھوڑا سا سامنے لانا پڑے گا۔ سب سے پہلے تو خود جس پر زد پڑتی ہے، وہ سامنے آتا ہے۔ پھر دوسرے طبقے ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
میں نے کہا کہ مقتدرہ قومی زبان نے مزاحمتی ادب کے نام سے ایک مجلہ شائع کیا تھا جس میں ضیا الحق دور میں احتجاجی ادب تخلیق کرنے والوں کی شاعری اور افسانے شامل کیے گئے تھے۔ لیکن کوئی بڑا اردو ناول سامنے نہیں آیا جیسے مشرقی یورپ یا لاطینی امریکا کے ادیبوں نے لکھے، چین میں آج بھی مزاحمتی ادب تخلیق کیا جارہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ گھٹن کا ماحول بڑے ادب کی تخلیق کے لیے سازگار ہوتا ہے۔
اصغر ندیم سید نے کہا کہ یہ سوال تو اسی سلسلے میں ہے کہ اردو میں بڑا ادب کیوں سامنے نہیں آیا؟ آپ نے ٹھیک بات کی ہے۔ چلی کے ادیب ہوں، لبنان کے ہوں، مصر کے ہوں، انھوں نے بڑا ادب تخلیق کیا ہے۔ یا تو ہماری روایت میں کمی ہے یا ہماری زبان کی طاقت میں کچھ کسر ہے۔ میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن ضیا الحق کے دور میں انیس ناگی کا ناول ’دیوار کے پیچھے‘ بہت اہم تھا۔ انور سجاد کا ناول ’خوشیوں کا باغ‘ بہت اہم تھا۔ افسانے میں تو بہت کام تھا۔ احمد داؤد، سمیع آہوجا اور منشا شاد اور بہت سے لوگوں نے علامتی انداز میں یا کھل کھلا کر بھی لکھا۔ مزاحمتی ادب کا مجلہ مقتدرہ قومی زبان نے نہیں، اکادمی ادبیات نے دو جلدوں میں شائع کیا تھا۔ اس میں میری تحریریں بھی شامل تھیں۔ کچھ بھی ہو، آج عدالتیں آزاد ہیں۔ کچھ بھی ہو، آج جمہوریت ہے۔ کچھ بھی ہو، پارلیمان موجود ہے۔ کچھ بھی ہو، احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ اس فرق کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
ہمارے ہاں ادیب کا ایک عجیب و غریب مخمصہ ہے۔ ہم لوگوں کا ایکسپوژر نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے دوسری زبانوں کے ادب کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم لوگوں کا وژن بڑا نہیں ہے۔ ہم لوگ سفر تک نہیں کرسکتے۔ ہم اپنے ملک کو تو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتے۔ بڑا ادب، بڑا ناول تجربے کی دین ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے بصیرت، تجربہ اور مصائب ہوتے ہیں۔ وہ سب چیزیں اردو کے ادیب کے پاس نہیں۔ ہمارا ادیب بہت مختصر مدت میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ کہ آج چھپ جائے اور کل دو تبصرے ہوجائیں۔ لمبی اننگز کھیلنے والے نہیں ہیں۔ ہمارا ادیب عالمی ادب کے ساتھ جڑا ہوا نہیں ہے۔ وہ سب سے کٹا ہوا ہے۔
میں نے سوال کیا کہ کیا ہمارے ادیب شاعر کو سیاسی فکر کا حامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ سیاسی غیر جانب داری ادب کی تخلیق میں معاون ہوتی ہے یا نہیں؟
اصغر ندیم سید نے کہا کہ غیر جانب دار کوئی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غیر جانب دار ہے تو ادیب نہیں ہے۔ ہر اچھے ادیب کو پوزیشن لینی پڑتی ہے، کوئی موقف اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اچھا ادیب بنیادی طور پر سیاسی فکر کا مالک ہوتا ہے ورنہ وہ پھر انسانی مسائل کو دیکھ نہیں پائے گا۔ اچھا ادیب پوزیشن لیے بغیر لکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ طے ہے کہ سیاسی بصیرت کے بغیر آپ ایک لفظ نہیں لکھ سکتے۔ اگر لکھیں گے تو سماج سے اس کا تعلق نہیں ہوگا۔ اس کی ادب میں کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔
خبردار! میڈیا سنسرشپ کی بات کرنا منع ہے، عمرچیمہ کا انٹرویو
عمر چیمہ ’دی نیوز‘ کے انویسٹی گیٹو رپورٹر ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کا صحافی ہونا آسان کام نہیں۔ ہر اسٹوری کے ساتھ کئی دشمن پیدا ہوجاتے ہیں۔ ہر بااثر شخص خفا ہو جاتا ہے اور صحافی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ رپورٹر کو آئے دن دھمکیاں ملتی ہیں۔ کبھی کبھی تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عمر چیمہ کو بھی ایک بار اغوا کرکے تشدد کیا جا چکا ہے۔
عمر چیمہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی کسی دھمکی کو خاطر میں نہیں لائے۔ تشدد انھیں کام کرنے سے نہیں روک سکا۔ وہ جس قدر لکھ سکتے ہیں، اتنا لکھتے ہیں۔ جس قدر بول سکتے ہیں، اتنا بولتے ہیں۔
میں نے عمر چیمہ سے پوچھا کہ میڈیا سنسرشپ انھیں کس حد تک متاثر کر رہی ہے اور کیا یہ کسی ایک جانب سے ہے یا مختلف حلقوں کی طرف سے ہے؟
عمر چیمہ نے کہا کہ ہم نے جب سے صحافت شروع کی ہے، کافی باتیں سنتے آئے ہیں۔ مختلف قسم کی دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں۔ لیکن گھٹن کا جیسا ماحول آج ہے، پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ اس طرح کی سنسرشپ ہے کہ جس میں اس بات پر بھی سنسرشپ ہے کہ آپ یہ ذکر نہیں کرسکتے کہ سنسرشپ ہے۔
کون سا ادارہ ہے، کون لوگ ہیں جو دباؤ ڈالتے ہیں، اس بارے میں بات کرنے پر بھی پابندی ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی آزادی کی اتنی قدر نہیں کی جتنا اب احساس ہو رہا ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے اور اس کا تحفظ کتنا ضروری ہوتا ہے تاکہ آپ ایک آزاد شہری رہ سکیں۔
سنسرشپ اتنی عجیب شے ہے کہ آپ کے خیالات کی قاتل بن جاتی ہے۔ آپ نے کچھ لکھنا ہو، کسی چیز کے بارے میں رپورٹ کرنا ہو، ذہن میں کوئی آئیڈیا آئے یا کہیں سے کوئی خبر ملے لیکن پھر خیال آئے کہ اوہو، اس پر تو ہم لکھ ہی نہیں سکتے۔ سوچیں کہ پھر کیا احساس ہوتا ہوگا۔ اس طرح تخلیقی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ کام متاثر ہوتا ہے۔ خبر ضائع ہوجاتی ہے۔ ذرائع متاثر ہوتے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ ذہنی اذیت ہوتی ہے۔ آپ کچھ معاملات پر بہت ’سلیکٹو‘ ہوجاتے ہیں اور بہت شور مچاتے ہیں اور کچھ چیزوں پر خاموش رہتے ہیں۔
آپ نے پوچھا کہ سنسرشپ کیا صرف ایک طرف سے ہے؟ جی ہاں، ایک طرف ہی سے ہے۔ کن کی طرف سے ہے، یہ سنسرشپ کا حصہ ہے کہ اس بارے میں بات نہیں کرنی۔ اس کے بڑے مضمرات ہیں جو میری ذات سے بڑھ کر ہیں۔ بس تھوڑے کو زیادہ جانیے۔
میں نے دریافت کیا کہ کون آپ کو سنسرشپ کی پابندی کرنے کا کہتا ہے؟ دھمکیاں دینے والے تو آپ کو مجبور نہیں کر سکتے۔
عمر چیمہ نے کہا کہ میں اس سلسلے میں کس سے شکوہ کروں؟ اگر میرے سینئر مجھے بتائیں کہ کن حالات سے گزر رہے ہیں اور پھر کہیں کہ آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے۔ بعض کام ایسے ہیں کہ ان کی قیمت مجھے اپنی ذات سے ادا کرنا پڑتی ہے اور میں کرتا ہوں۔ لیکن آپ کے کسی کام کی قیمت پورے ادارے کو چکانی پڑے تو آپ سوچتے ہیں کہ میری وجہ سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ہمارے ادارے کو جس طرح کے مسائل کا سامنا ہے، ہمیں ان سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ مشکل وقت ہے، بحران کا عالم ہے، یہ وقت گزر جائے گا۔ امید ہی زندگی ہے اور اسی امید پر معاملات چل رہے ہیں کہ یہ وقت گزر جائے گا۔
جنگ گروپ کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جہاں آپ کو بہت زیادہ آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ آج کل المیہ یہ ہے کہ آزادی موجود ہے۔ لیکن اسے استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ اس کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آپ کو اپنے دوستوں اور ’کولیگز‘ کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ اس کے جو معاشی اثرات ہوتے ہیں، اس کے بارے میں دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے خاندان کا بڑا آپ کو مسائل کے بارے میں بتا رہا ہو تو سب کے لیے سبق ہوتا۔ ایسی صورتحال کا سامنا ہے۔
میں نے سوال کیا کہ صورتحال کب تک برقرار رہنے کا امکان ہے؟ بعض سینئر صحافی کہتے ہیں کہ انھیں بہت دیر تک حالات بدلنے کی امید نہیں۔
عمر چیمہ نے کہا کہ میں صحافی برادری کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں۔ ہم باتیں بہت سنتے رہے ہیں۔ سنا تھا کہ ہم سے پہلے بہت جدوجہد ہوئی تھی۔ اب وقت آیا ہے تو ہماری کمیونٹی اس امتحان میں ناکام ہوئی ہے۔ مستقبل میں جب یہ وقت ماضی کا حصہ بن چکا ہوگا اور ہم اسے یاد کریں گے یا تاریخ لکھنے والے اس کے بارے میں روشنی ڈالیں گے تو اچھے الفاظ میں ذکر نہیں کریں گے۔ مجموعی طور پر ہماری صحافتی برادری کا آزادی کے چھن جانے پہ ویسا ردعمل نہیں ہے، جیسا ہونا چاہیے۔
یہ سلسلہ کب تک چلے گا، میرا خیال ہے کہ یہ کافی حد تک ہم پر منحصر ہے کہ کس قدر مزاحمت کرتے ہیں۔ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے چل پڑیں تو اس بحران سے جلدی نکل سکتے ہیں۔ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اختیار ہے، وہ کب تک اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن، اگر ہم خاموشی سے بیٹھے رہیں گے تو یہ سلسلہ برس ہا برس چلتا رہے گا۔ ہم ایک نیو نارمل میں داخل ہوجائیں گے کہ ہمیں جتنی گنجائش ملے گی۔ ہم اسے غنیمت سمجھیں گے۔ لیکن ایک متحرک کمیونٹی کے طور پر ہمیں وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی جدوجہد شروع کر دینی چاہیے۔
میں نے کہا کہ نئے نئے چینل آرہے ہیں اور صحافی بڑی بڑی تنخواہوں کی پیشکش پر ادھر ادھر جارہے ہیں۔ یہ صحافت کے لیے کتنی مبارک بات ہے؟ آپ کو پیشکشیں تو ہوئی ہوں گی؟ کبھی ادارہ بدلنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟
عمر چیمہ نے کہا کہ سچی بات ہے، مجھے کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ ہم اب جنگ گروپ کے ہوکر رہ گئے ہیں۔ ہم کسی اور کے لیے قابل قبول نہیں رہے۔ دوسرے اداروں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے پاس گئے تو ان کے لیے بوجھ بن جائیں گے۔ یہاں بہت اچھا ماحول ہے۔ ایک دو چیزیں بہت اچھی ہیں کہ یہ ’لیگیسی میڈیا گروپ‘ ہے۔ ان کا صحافت کے ساتھ خاص تعلق ہے اور یہ اس کی قدر کرتے ہیں۔
نئے چینلوں کے آنے سے بظاہر میڈیا انڈسٹری میں وسعت آرہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ صحافت کی خدمت کم ہے اور خطرات زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ نئے لوگ بااثر اشرافیہ میں شامل ہونے کے لیے اس شعبے میں آرہے ہیں۔ ان کو پتا ہے کہ اس میں منافع تو کم ہے، لیکن اس کے ذریعے وہ اپنے دوسرے کاروباری مفادات کا تحفظ کریں گے۔
نئے میڈیا گروپس کے ساتھ میڈیا میں ’کارپوریٹ کلچر‘ آرہا ہے۔ انجام کار صحافیوں کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کوئی پہلا ملک نہیں جہاں ایسا ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے بھارت میں ایسا ہوا ہے، ترکی میں ہوا ہے، مشرقی یورپ کے کئی ملکوں میں ہو رہا ہے۔ راپرٹ مرڈوک کی ایمپائر کتنی بڑھ چکی ہے۔ یہ میڈیا کی کارپوریٹرائزیشن ہے۔ اس سے صحافیوں کو شاید نوکریاں زیادہ ملیں گی۔ لیکن صحافت کی موت واقع ہوتی جارہی ہے۔
میں نے سوال کیا کہ ماضی میں میڈیا سنسرشپ پر سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی تھیں۔ لیکن اس بار خاموش ہے۔ کیا ابھی تک سیاست دانوں کو احساس نہیں ہوا؟
عمر چیمہ نے کہا کہ انھیں اس کا تاخیر سے احساس ہوا ہے۔ جب انھیں احساس ہوا کہ ان کی آواز دب گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا سنسرشپ کی زد میں آگیا ہے تو وقت گزر چکا تھا۔ اب میڈیا اپنے بحران سے گزر رہا ہے اور وہ اپنے بحران کا شکار ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے پچھتاوے کا احساس تو موجود ہے۔
مجھے معلوم نہیں کہ پچھتاوے کا سلسلہ جاری رہے گا یا اس پچھتاوے کو کسی عملی جدوجہد کی شکل دی جائے گی۔ مجھے عملی جدوجہد کا امکان کم نظر آتا ہے لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہر بحران میں مواقع ہوتے ہیں اور ابھی جو حالات ہیں، انھوں نے ایک موقع فراہم کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور صحافی مل کر مشترکہ جدوجہد کریں۔
سیلف سنسرشپ کا مطلب مزاحمت کا سفر ختم ہوا، اویس توحید
نوے کی دہائی کے آغاز پر دی نیوز کے ساتھ متعدد نوجوان صحافیوں نے کریئر شروع کیا جن میں سے کئی نے بعد میں بہت نام کمایا۔ اویس توحید ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے اے ایف پی اور بی بی سی جیسے غیر ملکی خبر رساں اداروں میں کام کیا، گارڈین اور وال اسٹریٹ جرنل کے لیے خدمات انجام دیں اور پاکستان کے کئی نیوز چینلوں کے سربراہ رہے۔
میں نے اویس توحید سے پوچھا کہ آپ نے مقامی اور غیر ملکی، دونوں طرح کے میڈیا کے ساتھ کام کیا ہے۔ پاکستان میں میڈیا کو کس طرح کی سنسرشپ کا سامنا ہے؟ اور سنسرشپ ہے بھی یا نہیں؟
اویس توحید نے کہا کہ بالکل، پاکستان میں میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔ ریاستی عناصر کی جانب سے بھی اور غیر ریاستی عنصر کی جانب سے بھی۔ نائن الیون کے بعد سے پاکستان کے صحافی دو دھاری تلوار پر چل رہے ہیں۔ ہمارے ایک سو پندرہ ساتھی شہید ہو چکے ہیں۔ پہلے غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دھمکیاں آتی تھیں اور وہ غریب صحافیوں کو قتل کردیتے تھے۔
کئی سال بعد ایک اور سلسلہ شروع ہوا کہ صحافیوں کے رشتے داروں کو ہراساں کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ گزشتہ تین چار سال میں کچھ مزید تبدیلی آئی۔ صحافیوں کو قتل تو نہیں کیا جارہا تھا لیکن ہراساں کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔ دھمکیوں والے فون آتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو کالز آتی تھیں کہ کس طرح کوریج کی جائے۔
اب بات سیلف سنسرشپ تک آن پہنچی ہے۔ بہت سے صحافیوں اور ایڈیٹرز نے اپنے تئیں یہ فیصلہ کیا کہ کچھ ریڈ لائنز ہیں اور انھیں کراس نہ کیا جائے۔ بعض موضوعات کے بارے میں آپ کا خیال ہوتا ہے کہ ان پر بات کرنے سے اسٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتوں یا کالعدم تنظیموں سے کہیں نہ کہیں آپ کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ انھیں خود ریڈلائنز قرار دے بیٹھیں تو اس کا مطلب ہوا کہ آپ بند گلی میں پہنچ گئے ہیں۔ آپ ایک ایسے دروازے پر پہنچ گئے ہیں جس سے آگے آپ جانا نہیں چاہ رہے۔ آپ اس کھڑکی تک پہنچ گئے ہیں جس کے شیشے کے پار آپ دیکھنا نہیں چاہ رہے۔ جب آپ ریڈ لائن کراس نہیں کرتے اور سیف زون کے اندر رہنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مزاحمت کا سفر ختم ہوا۔
مزاحمت ماضی میں پاکستانی صحافت کا خاصا ہوا کرتی تھی۔ ضیا الحق کا دور یاد کیجیے، نوے کا عشرہ دیکھ لیجیے، ہمارے ساتھیوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے لیکن مزاحمت ترک نہیں کی۔ مشرف دور میں ہم نے خود عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں گرفتاریاں پیش کیں۔ لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ویسی مزاحمتی تحریک موجود نہیں۔ ایک طرف ہراساں کرنے اور دھمکانے کا منظم طریقہ ہے اور دوسری جانب سیلف سنسرشپ ہے۔
میں نے دریافت کیا کہ صحافی کیوں ایڈیٹرز یا مالکان کی سیلف سنسرشپ کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے؟
اویس توحید نے کہا کہ میڈیا کے اندر بھی کئی طرح کے مسائل ہیں۔ ہمارے میڈیا اداروں میں پروفیشنل ازم نہیں ہے بلکہ زیادہ تر سیٹھ کلچر ہے۔ ایڈیٹر کے عہدے کا تقدس مجروح ہو چکا ہے کیونکہ مالکان کی بہت زیادہ مداخلت ہے۔ دنیا بھر میں ایڈیٹرز کی موثر تنظیمیں ہیں۔ بھارت میں ہے۔ میکسیکو میں مافیا صحافیوں کو ہراساں کر رہی تھی۔ اٹلی میں بھی یہی حال تھا۔ پھر وہاں ایڈیٹرز کی تحریک چلی۔ سری لنکا میں بھی ایڈیٹرز نے تحریک چلانے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں ایڈیٹرز کی تنظیم کی کمی ہے۔
ایک تنظیم ہے تو اس میں بھی مالکان بیٹھے ہیں یا ان کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ ریاستی اداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کی ساجھے داری شروع ہو جاتی ہے۔ صحافی جو پہلے ہی تقسیم ہیں، وہ سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں جبکہ مالکان آزادی صحافت کے نام پر سازباز کرتے ہیں۔
میرے خیال میں پاکستان کی صحافت کے ماڈل میں بہت مسائل ہیں کیونکہ یہ ماڈل سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے میڈیا حکومت کا یرغمال جاتا ہے۔ باقی آمدن بھی پرائیویٹ اشتہاروں سے ملتی ہے اس لیے کارپوریٹ سیکٹر بھی ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ سبسکرپشن سے آمدنی نہیں ہوتی جیسے برطانیہ یا امریکہ میں ہے کہ جہاں چینل دیکھنے کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں۔
میں نے سوال کیا کہ میڈیا انڈسٹری میں بھی طبقاتی نظام پیدا ہو گیا ہے۔ ایک ہزاروں کی تنخواہ والے ہیں اور دوسرے لاکھوں والے۔ کیا اس سے بھی میڈیا کے مسائل بڑھے ہیں؟ کیا یہی معاشی بحران کا سبب ہے؟
اویس توحید نے کہا کہ ہر شخص زیادہ سے زیادہ معاوضہ چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ دنیا کی تمام آسائشیں اسے ملیں۔ 1980 کی دہائی تک پاکستان میں صحافت جہاد کی طرح تھی، مشن کے طور پر ہوتی تھی۔ نوے کی دہائی میں ہم نے اسے تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا۔ دی نیوز کا آغاز ہوا تو صحافیوں کو زیادہ تنخواہیں ملیں۔ اس کی وجہ سے ڈان میں بھی معاوضے بڑھائے گئے۔ کنٹریکٹ کے بجائے مستقل ملازمتیں دی گئیں۔
اس کے بعد بڑا جمپ 2002 میں آیا جب پرائیویٹ ٹی وی چینل آئے۔ اخبار میں پسے ہوئے لوگ دس دس ہزار پر کام کرتے تھے، انھیں پچاس پچاس ہزار روپے ملنے لگے۔ نیوز چینلوں میں مسابقت ہوئی تو کارکنوں کو دوگنا تین گنا تنخواہوں پر پیشکشیں ہونے لگیں۔ میں کئی چینلوں کی سربراہی کر چکا ہوں۔ ایک بار میں نے جس اینکر کو چالیس ہزار روپے پر ملازم رکھا، کچھ عرصے بعد اس کی سولہ لاکھ روپے کی سیلری سلپ بھی سائن کی۔ واقعی اسکرین پر آنے والوں اور دوسرے ورکنگ جرنلسٹس کے درمیان بڑا فرق ہو گیا ہے۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ بگاڑ کیسے آیا، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا مشرف دور کے بعد ہوا۔ میڈیا نے ریاست کے کھیل میں اسٹیک ہولڈر کے طور پر گھسنے کی کوشش کی۔ کچھ مالکان اور اینکرز ایسے تھے جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اس کام میں پڑ گئے کہ کون کس ادارے کا سربراہ ہو گا۔ میڈیا میں خرابی ہوئی اور اس وجہ سے دھڑے بندی بھی ہوئی۔
میں نے پوچھا کہ کیا میڈیا کا مالی بحران اس نہج پر جا رہا ہے کہ کچھ ادارے بند ہوجائیں گے؟ کیونکہ تنخواہیں کئی کئی ماہ تاخیر کا شکار ہیں اور آج کل ملازمین بھی نکالے جارہے ہیں۔
اویس توحید نے کہا کہ جتنے بھی صحافیوں کی نوکریاں جا رہی ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم معاشی بحران میں مالکان کے ساتھ ہیں لیکن جب وہ مالی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو ہمیں اعتماد میں نہیں لیتے۔ انھیں سینئر صحافیوں کے ساتھ اپنے بزنس ماڈل پر گفتگو کرنی چاہیے اور یہ بھی بتانا چاہیے ان کے ساتھ دوسرے کاروبار کیا ہیں۔ کسی کا رئیل اسٹیٹ کا کام ہے، کسی کی فیکٹریاں ہیں، کسی کے اسکول کالج ہیں۔ ٹی وی چینل مالکان کو اپنا کچاچٹھا سامنے رکھنا چاہیے تاکہ پتا چلے کہ بحران صرف میڈیا سے متعلق ہے یا دوسرے کاروباروں میں بھی مندا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا تغیرات سے گزر رہا ہے لیکن اس کی آواز بند کرنے کی کوشش کرنا سماج کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہو گا۔
میں نے بتایا کہ بعض سینئر صحافیوں کا خیال ہے کہ بہت سے نئے نیوز چینلوں کی آمد کی حوصلہ افزائی اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ ان کے شور میں سنجیدہ میڈیا گروپس کی آواز دب جائے۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟
اویس توحید ہنس پڑے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کالج میں رشید احمد صدیقی کا مضمون پڑھا تھا جو الیکشن کے بارے میں تھا۔ اس میں یہی کہا گیا تھا کہ جو زیادہ زور سے بولے گا، وہی حق پر ہے۔ بہت سے اینکرز ٹی وی پر زور سے بولتے ہیں، شاید یہی سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔
ہمارے ٹی وی چینلوں کی اسکرین پر وہ حضرات بھی آ گئے ہیں جن کا جونرا ٹی وی اور کرنٹ افیئرز نہیں ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں ٹیلی وینجلسٹ کے لیے الگ چینل ہیں، الگ فورم ہے کہ وہاں وہ وعظ کرتے رہیں۔ یہاں پر وعظ کرنے والے مین اسٹریم میڈیا میں آ گئے ہیں۔ میں نے ایک کانفرنس میں کہا کہ صحافت کا آنگن ٹیڑھا ہو گیا ہے کیونکہ ہم ٹی وی پر آنے والے ڈاکٹر حضرات کی جراحت کے سبب مشکل میں پڑ گئے ہیں۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ مدھم بولنے والے، کونٹینٹ پر زور دینے والے اور توازن برقرار رکھنے والے کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن شور شرابے سے کچھ عرصے کے لیے تو آواز دبائی جاسکتی ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔
پاکستانی میڈیا نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا
ملک میں میڈیا سنسرشپ کی سطح کیا ہے، یہ کسی اخبار کے ایڈیٹر اور ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جو اخبار زیادہ چھپتا ہے، جو نیوز چینل زیادہ دیکھا جاتا ہے، اسے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب کہ ایڈیٹر یا ڈائریکٹر نیوز کو لوگوں کے فون سننا پڑتے ہیں جو سیلف سنسرشپ پر مجبور کرتے ہیں۔ انھیں ایسے ناپسندیدہ لوگوں سے رابطے رکھنے پڑتے ہیں جو بات نہ ماننے پر انھیں دھمکیاں دیتے ہیں۔
وائس آف امریکا نے ایک ایسے ایڈیٹر سے گفتگو کی جسے میڈیا کی آزادی کی خواہش ہے لیکن اپنے ادارے کا مفاد بھی عزیز ہے کیونکہ اس سے بہت سے کارکنوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایڈیٹر صاحب کی خواہش پر ان کا نام نہیں لکھا جارہا۔
سوال: پاکستان میں سنسرشپ یا سیلف سنسرشپ کیوں کی جارہی ہے اور اس کا ذمے دار کون ہے؟
جواب: یہ کوئی راز نہیں ہے کہ سنسرشپ پر کون مجبور کر رہا ہے. لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ حالات یہاں تک کیسے پہنچے۔ اس کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ ہم یعنی صحافی۔ ہم یعنی میڈیا گروپس۔ ہم جب موقع دیں گے، گنجائش فراہم کریں گے تو طاقتور قوتیں آگے آئیں گی۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں میڈیا کو کافی آزادی تھی۔ پھر انھوں نے افتخار محمد چودھری کو معزول کیا۔ عدلیہ بحالی کے نام پر میڈیا افتخار چوہدری کی اخلاقی حمایت کر سکتا تھا. لیکن صحافی ان کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ جیونیوز اور دوسرے چینلوں نے طویل نشریات پیش کرنا شروع کردیں۔ ان کی جلسے اور تقاریر براہ راست دکھائی جاتیں۔ ایک حد سے آگے جانا مناسب نہیں تھا۔ اس کا نقصان ہوا۔
عدلیہ کو معلوم ہوا کہ وہ بہت اہم ہے اور عوام اس کے ساتھ ہیں۔ عوام اس وقت اس کے ساتھ تھے، آج شاید وہ صورتحال نہیں۔ لیکن جج ابھی تک اسی طرح سوچ رہے ہیں۔ ان کے ریمارکس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب ریاستی اداروں کو احساس ہوا کہ میڈیا بادشاہ گر بن رہا ہے۔ قومی امور میں مداخلت کر رہا ہے اور ضرورت سے زیادہ پاؤں پھیلا رہا ہے۔ انھوں نے سوچا کہ میڈیا کو کنٹرول نہ کیا تو مستقبل میں بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
سوال: ایک خیال یہ ہے کہ ریاستی اداروں نے بعض نئے لوگوں کو میڈیا کی جانب آنے کی ترغیب دی تاکہ بہت سے چینل ہوجائیں اور پرانے میڈیا اداروں کا اثر کم ہوجائے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب: اس بات میں سچائی ہوگی. لیکن اس حد تک کہ چند چینلوں پر ہاتھ رکھا گیا ہوگا۔ زیادہ میڈیا ادارے اس لیے ہوگئے ہیں کہ میڈیا کسی بھی دوسرے کاروبار کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش بزنس بن گیا تھا۔ کاروباری طبقے کے لیے لینڈ مافیا کے ڈان ایک ماڈل بن گئے۔ انھوں نے کیا کیا؟ زمینوں پر قبضہ کیا اور چند جرنیلوں کو بیس بیس لاکھ روپے ماہانہ پر ملازم رکھ لیا۔ اس کے بعد جو بھی کام کرنا چاہا، اس میں رکاوٹیں دور ہوتی چلی گئیں۔
کئی کاروباری افراد نے بھی یہی سوچا کہ نیوز چینل کھول لیتے ہیں اور بیس بیس لاکھ روپے والے اینکروں کو ملازم رکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد نیوز چینل چلے یا نہ چلے، دوسرے کاروبار چلتے رہیں گے اور ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
آپ دیکھ لیں کہ اس وقت ملک میں چالیس پینتالیس نیوز چینل ہیں۔ بمشکل چار یا پانچ چینل ایسے ہیں جن کی بقا کا انحصار میڈیا کی آمدن پر ہے۔ باقی کوئی چینل گھی والے کا ہے، کوئی چینل بیکری والوں کا ہے، کوئی چینل تعلیمی اداروں والے کا ہے۔ میڈیا کی صنعت مالی بحران کا شکار ہے. لیکن انھیں کوئی پریشانی نہیں کیونکہ ان کا پیسہ کہیں اور سے جنریٹ ہو رہا ہے۔
سوال: اگر پیسہ کہیں اور سے کمایا جا رہا ہے تو پھر تنخواہیں کیوں تاخیر کا شکار ہیں اور چھوٹے ملازم کیوں نکالے جارہے ہیں؟ بیس تیس اور چالیس لاکھ تنخواہوں والے لوگ تو محفوظ ہیں۔
جواب: ایک چینل بریکنگ نیوز چلاتا ہے تو دوسرے بھی چلاتے ہیں کیونکہ یہ بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ ایک چینل تنخواہوں میں اضافہ کرتا ہے تو دوسرے چینلوں کو بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ انھیں خطرہ ہوتا ہے کہ اچھے کارکن انھیں چھوڑ کر نہ چلے جائیں۔ اسی طرح جب ایک چینل تنخواہوں میں تاخیر کرتا ہے تو دوسرے اور تیسرے چینل کو بھی یہی حربہ سوجھتا ہے۔ ہر چینل کے مالی حالات خراب نہیں ہیں۔
حقیقی میڈیا اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے اشتہارات کم ہوئے ہیں اور ڈسٹری بیوشن متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان مشکلات کا سبب بڑے نام اور بڑے اینکر نہیں ہیں۔ جب حالات بہتر ہوں گے تو وہی لوگ انھیں ریٹنگ فراہم کریں گے۔ اس لیے ان اداروں کے پاس یہی صورت بچتی ہے کہ وہ کم تنخواہ والے کچھ کارکنوں سے معذرت کرلیں۔
سوال: کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کا مستقبل مخدوش ہے اور یہ صورتحال بہت عرصے تک برقرار رہے گی۔ کیا پرانے اور مستحکم ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے؟
جواب: ہم اپنی بقا کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ مقتدر ریاستی اداروں کی بات مان رہے ہیں۔ ریڈ لائن کراس نہیں کر رہے۔ قاری اور ناظر کو بھی خود سے دور ہونے سے روک رہے ہیں۔ مشکل حالات سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ میڈیا کا وجود حکومت کے اپنے لیے بھی ضروری ہے۔ اس طرح سوچیں کہ عمران خان ایک کروڑ نہ سہی، ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وہ گھر گھر دروازہ کھٹکھٹا کر تو لوگوں کو نہیں بتائیں گے کہ میں نے آپ کی کتنی خدمت کی ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے جو ان کی بات گھر گھر پہنچاتا ہے۔ میڈیا کا گلا گھونٹنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی آواز کو خود ہی خاموش کروا دیں۔
سوال: آپ کے خیال میں یہ بات ریاستی اداروں کی سمجھ میں بھی آئے گی؟ کیونکہ انھیں سیاسی حکومت جیسی مجبوریاں درپیش نہیں ہوتیں؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ پرانے اور مستحکم میڈیا اداروں کا اثر کم کرنے کے لیے کچھ نئے گروپس کی حمایت کررہی ہے۔ شاید وہ کچھ ایسی صورت چاہتی ہے کہ ایک گروپ کی بات کراچی میں سنی جارہی ہے تو لاہور میں دوسرا چینل مقبول ہو۔ میڈیا بکھر جائے اور سب کے پاس الگ الگ اشوز ہوں۔ اس طرح میڈیا ویسی قوت نہیں رہ پائے گا جو ریاستی اداروں کے لیے دردسر بن جاتا ہے۔
سوال: لیکن میڈیا کے تقسیم ہونے سے ریاست کی وحدت متاثر نہیں ہوگی؟ کیونکہ مقامی ذرائع ابلاغ کو زیادہ مقبولیت ملنے سے علاقائی تعصب اور نسل پرستی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے؟
جواب: جی ہاں، یہ خدشات تو ہوں گے. لیکن ہم نہیں جانتے کہ کسی نے ایسا سوچا بھی ہے یا نہیں۔ میڈیا آزاد ہو تو ہر طرح کے حساس موضوع پر گفتگو کی جاسکتی ہے اور مسائل کا بہتر حل نکل سکتا ہے۔ میڈیا پابندیوں کا سامنا کر رہا ہو تو پھر غلط فیصلوں پر کوئی ٹوکنے والا نہیں ہوتا۔
میڈیا میں مالی بحران کے ذمے داروں کو سب جانتے ہیں، مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان ان صحافیوں میں شامل ہیں جو کسی حکومت اور ریاستی ادارے کو پسند نہیں آتے۔ وہ سچ کی کڑوی گولی کو شیرے میں ڈبو کر پیش نہیں کرتے۔ وہ اپنے ٹی وی پروگرام اور کالم میں صورتحال کو جوں کا توں پیش کرتے ہیں اور یہ بات کسے پسند آسکتی ہے؟ مطیع اللہ جان ربع صدی سے صحافت کے خارزار میں ہیں۔ چھ سال سے نوائے وقت میڈیا گروپ سے منسلک تھے۔ اخبار کے لیے کالم لکھتے تھے اور ٹی وی کے لیے پروگرام ’اپنا اپنا گریبان‘ پیش کرتے تھے۔ لیکن بدھ کی شام میں نے انھیں فون کیا تو ان کے پاس ایک بری خبر تھی۔
میں نے فون ملایا اور پوچھا کہ پاکستان میں میڈیا کی صورتحال کے بارے میں کچھ کہیے۔
مطیع اللہ جان نے کہا، آپ جس وقت مجھ سے بات کر رہے ہیں، کچھ دیر پہلے مجھے اپنے ادارے کی جانب سے برخواستگی کا پروانہ دیا گیا ہے۔ چھ سال کی رفاقت آج ختم ہوگئی۔ اس صورتحال میں میڈیا کے بارے میں کیا رائے قائم کروں۔
سنسرشپ کو عام طور پر میڈیا اداروں کی پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بار سنسرشپ کسی پالیسی کی تبدیلی کے لیے نہیں ہے۔ میڈیا کے پرانے ادارے ڈان، جنگ اور نوائے وقت کا باقاعدہ طور پر گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ان کے لیے مالی مشکلات کھڑی کی گئی ہیں۔ جو ادارے اسے بنیاد بنا کر صحافیوں کو ملازمت سے نکال رہے ہیں، وہ غلط نہیں ہیں۔ لیکن، اس مالی بحران کے پیچھے کون ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے، یہ بھی سب جانتے ہیں۔
اب حکومت کو تھوڑا سا احساس ہوا ہے۔ آج کی خبر ہے کہ میڈیا مالکان سے فوج کے ترجمان کی ملاقات ہوئی اور دوسرے متعلقہ اداروں سے بھی۔ وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ میڈیا کے واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن اس مالی بحران کے پیچھے جو وجہ ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ سب معاملات عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے سے جاری تھے اور وہی تسلسل برقرار ہے۔
میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی کالم ایسا لکھا یا پروگرام ایسا کردیا جس سے لوگ ناراض ہوگئے؟
مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ کسی ایک پروگرام کی بات نہیں ہے۔ کافی عرصے سے فوج کے ترجمان کی طرف سے اور کمرشل اداروں کی طرف سے بھی ایسے اشارے مل رہے تھے کہ لوگ مجھ سے خوش نہیں ہیں۔ افواج پاکستان کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں میری اور کئی دوسرے صحافیوں کی تصویریں دکھا کر کہا کہ یہ لوگ فوج مخالف اور ریاست دشمن عناصر ہیں۔ اس کے بعد ’نیکٹا‘ کی طرف سے ’تھریٹ لیٹر‘ جاری کیا گیا جس میں مجھ سمیت کئی صحافیوں کے نام شامل تھے۔ اس میں کہا گیا کہ ہماری جان کو خطرہ ہے اور دہشت گرد نشانہ بنا سکتے ہیں۔
جب اس طرح کی خبریں آپ کے اور ادارے کے بارے میں پھیلائی جائیں تو اثر تو پڑتا ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت میڈیا کے نظریاتی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پھر نئے چینلوں کو جگہ دی جارہی ہے۔ محدود مارکیٹ میں نئے نئے چینلوں کو جگہ دی جائے تو بزنس متاثر ہوتا ہے۔ اشتہارات بھی روک دیے گئے۔ سپریم کورٹ نے بھی بہت سے ایڈورٹائزرز کی گرفتاری کے احکامات دیے اور ان کے مقدمات نہیں نمٹائے۔ ان سے جو تھوڑے بہت اشتہارات ملتے تھے، وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ اس طرح سے مختلف حربوں سے میڈیا کی صنعت کو مالی بحران کا شکار کردیا گیا۔
میں نے سوال کیا کہ حکومت نے اشتہارات کے واجبات ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا اس کے بدلے میں ناپسندیدہ صحافیوں کو فارغ کرنے کی شرط تو نہیں لگائی گئی؟
مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے۔ اسے اتفاق کہہ لیں کہ آج ہی عمران خان کا بیان چھپا ہے اور آج ہی مجھے پروانہ تھما دیا گیا۔ بہت سے صحافیوں کی سوشل میڈیا پر موجودگی کو محدود کیا گیا ہے۔ میرے ادارے نے کبھی اس سلسلے میں دباؤ نہیں ڈالا تھا۔ لیکن جو کچھ بھی ہوا، وہ اچانک ہوا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ میڈیا کے خلاف اس مہم کا حصہ ہے جو عام انتخابات سے پہلے شروع کردی گئی تھی۔ اب عمران خان مجبور ہیں کہ اسے لے کر آگے چلیں۔ یہ مسئلہ ایک کمزور سیاسی حکومت کا نہیں، براہ راست طاقتور ریاستی اداروں کا ہے۔ ملک کو جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس میں میڈیا کے لیے شاید گنجائش اور بھی کم ہوگی۔ مستقبل میں سعودی ماڈل اور چینی ماڈل کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ آنے والا وقت میڈیا کے لیے خوشگوار نہیں ہوگا۔
کیا آپ کے ادارے نے کبھی آپ کو آگاہ کیا تھا کہ آپ کی وجہ سے اسے دباؤ جھیلنا پڑتا ہے؟ کیا آپ کو آج کے فیصلے کی وجہ معلوم ہے؟
مطیع اللہ جان نے کہا کہ کچھ وجوہات کا آپ کو پہلے سے علم ہوتا ہے۔ کچھ باتیں اشاروں میں ہوتی بھی رہی ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ کبھی کسی نے مجھ تک بات نہیں پہنچائی۔ لیکن اتنے تسلسل سے یہ چیزیں نہیں تھیں۔ اب دیکھیں، جیسے مجھ پر حملہ ہوا تھا۔ آج تک اس کی تحقیقات کا کچھ پتا نہیں۔ حامد میر کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی تھی۔ لیکن آج تک ہماری یونین اسے منظرعام پر نہیں لاسکی۔ اس کے بعد آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور پھر ’نیکٹا‘ کا ’تھریٹ لیٹر‘۔ ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں ادارے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بزنس کے نقطہ نظر سے میری وجہ سے ادارے پر دباؤ تھا اور ایک بار کسی سطح پر مجھے مطلع کیا گیا تھا۔
میں نے دریافت کیا کہ اب آپ کیا کریں گے؟ ان حالات میں نئی ملازمت کے لیے کیا آپ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے؟
مطیع اللہ جان نے کہا کہ پیشہ ور صحافی کی سوچ اور نظریات کا اس قسم کے واقعات سے بدلنا ناممکن ہوتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ اپنے سانس کی رفتار بدل دو یا سانس لینا بند کردو تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اپنی بات کہنا کسی بھی صحافی کے لیے سانس لینے جیسا ہوتا ہے۔
میں اب کیا کروں گا۔ یہ بہت مشکل سوال ہے۔ میں چند ہفتوں بعد پچاس سال کا ہونے والا ہوں۔ آدھی زندگی میں نے صحافت میں گزاری ہے۔ پہلی بار مجھے ایسی صورتحال پیش آئی ہے۔ لیکن یہ قطعی ناممکن ہے کہ میں اپنے نظریات بدل لوں۔ میں وہی کروں گا جو ایک صحافی کو کرنا چاہیے، چاہے کسی ادارے سے منسلک ہو یا نہیں۔
میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جس قسم کی سپورٹ مجھے صحافی دوستوں اور سوشل میڈیا پر عام لوگوں کی طرف سے مل رہی ہے، اس سے بہت حوصلہ حاصل ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی عام لوگ ایسے ہیں جو حق اور سچ کی آواز کا ساتھ دیتے ہیں اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت میڈیا پر دباؤ ڈالنے سے انکار کرتی ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے چار جون 2018 کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاک فوج نے کبھی کسی میڈیا گروپ کو ڈکٹیشن نہیں دی اور نہ کسی صحافی کو فوج کی مرضی کے مطابق خبر لکھنے کے لیے کہا ہے۔
قبائلی صحافی سے زیادہ کوئی غیر محفوظ نہیں
پاکستان میں میڈیا کو عمومی سنسرشپ کا سامنا ہے۔ لیکن، قبائلی علاقوں کے صحافی کئی سال سے خاص قسم کی سنسرشپ اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طرف جنگجوؤں کے جتھے ہیں اور دوسری جانب سیکورٹی فورسز۔ دونوں خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور غیر جانب دار رپورٹنگ پسند نہیں کرتے۔ صحافی بالکل نہتے ہیں اور انھیں اکثر دھمکیوں، حملوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وائس آف امریکا نے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سے گفتگو کی لیکن ان کے تحفظ کی خاطر نام نہیں لکھا جا رہا۔
سوال: قبائلی علاقوں کے صحافیوں کو کس قسم کی سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
جواب: ملک کے دوسرے حصوں کے لوگ قبائلی علاقوں میں سنسرشپ کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہاں مقامی سطح پر کوئی اخبار نہیں نکلتا۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے صحافیوں کے خبریں بھیجنے پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ اب فاٹا کہنے کو خیبرپختونخواہ میں شامل ہوگیا ہے اور ایجنسیوں کو ضلع بنا کر ڈپٹی کمشنر تعینات کیے گئے ہیں۔ لیکن صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ ویسی رپورٹنگ نہیں کی جا سکتی جیسے کرنی چاہیے۔ حکومت اور سیکورٹی اداروں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک فوکل پرسن مقرر کریں گے جو ہمیں خبریں فراہم کریں گے۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اکثر ہمیں اپنے ذرائع سے خبر مل جاتی ہے۔ لیکن جب ہم تصدیق کے لیے سرکاری حکام سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ جواب نہیں دیتے۔
قبائلی علاقوں کے جتنے بھی صحافی ہیں، وہ وہاں نہیں رہنا چاہیے۔ وہ وہاں رہ بھی نہیں سکتے کیونکہ مواصلات کا نظام نہیں ہے۔ نہ موبائل فون چلتا ہے، نہ انٹرنیٹ ہے۔ لینڈلائن فون یا تو سرکاری دفاتر میں ہیں یا کسی کسی شخص نے بہت سفارش کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں سے کہہ سن کر لگوا لیا ہے۔ کسی صحافی کے پاس کوئی اہم خبر ہو تو اسے اپنے ادارے تک پہنچانے کے لیے قبائلی علاقے سے نکل کر بنوں یا پشاور آنا پڑتا ہے۔ فاٹا میں پریس کلبوں پر بھی پابندی تھی۔ بہت عرصے بعد گزشتہ ماہ میران شاہ کا پریس کلب کھولا گیا ہے۔ وزیرستان میں پچیس ستائیس صحافی تھے۔ لیکن بیشتر نے صحافت چھوڑ دی۔ چھ سات کام کام کر رہے ہیں۔ لیکن وہ بھی منتقل ہوچکے ہیں۔ اس کا ایک سبب کمیونی کیشن سسٹم نہ ہونا اور دوسری وجہ عدم تحفظ ہے۔
صحافی بڑے شہروں سے نکلنے والے اخبارات اور نیوز چینلوں کو خبر بھیجتے ہیں۔ خبر حساس ہو تو وہ اگلے ہی دن نشانہ بن جاتے ہیں۔ حیات اللہ اس کی ایک مثال ہیں۔ انھوں نے میر علی میں میزائل حملے کے بعد تصاویر بنائیں۔ اس کے بعد وہ لاپتا ہوگئے اور کچھ عرصے کے بعد ان کی لاش ملی۔
ملک ممتاز دوسرے صحافیوں سے کہتے تھے کہ احتیاط کریں، زیادہ خطرناک خبریں نہ دیں۔ لیکن وہ خود صبر نہیں کرپاتے تھے۔ جب بھی ہیلی کاپٹر سے یا جیٹ طیاروں سے بمباری ہوتی تھی اور بچے، خواتین اور عام شہری ہلاک ہوتے تھے تو وہ خبر دیتے تھے۔ اس بنیاد پر انھیں وارننگ دی گئی تھی۔ لیکن وہ نہیں رکے۔ ایک دن کالے شیشوں والی گاڑی میں سوار لوگوں نے انھیں قتل کردیا۔
پاکستان میں سب سے زیادہ صحافیوں پر قبائلی علاقوں میں حملے ہوئے ہیں۔ اب تک سولہ صحافی فاٹا میں قتل کیے جاچکے ہیں۔ متحرک صحافیوں کو اب بھی دھمکیاں ملتی ہیں اور سیکورٹی ادارے بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔
سوال: آپ خبر دیتے ہیں تو خطرہ کہاں سے ہوتا ہے؟ دھمکیاں کون دیتا ہے؟
جواب: پہلے قبائلی علاقوں میں ہر قسم کے جنگجو تھے۔ ازبک، تاجک، عرب، چیچین، سب بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد وہ افغانستان منتقل ہوگئے یا اگر ہیں تو چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن کچھ مہینوں سے قبائلی علاقوں میں دوبارہ ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی ہے۔ ماضی میں ہر قبائلی کے پاس اسلحہ ہوتا تھا۔ حملہ کرنے کے لیے آنے والوں کو مزاحمت کا خطرہ رہتا تھا۔ فوجی آپریشنز میں سب لوگوں سے ہتھیار لے لیے گئے۔ اب عام لوگوں کے پاس اسلحہ نہیں ہے۔ ٹارگٹ کلر رات کے اندھیرے میں کسی بھی گھر میں گھستے ہیں اور اپنے ہدف کو قتل کردیتے ہیں۔ چھ ماہ میں صرف شمالی وزیرستان میں اٹھائیس افراد اس طرح قتل کیے جاچکے ہیں۔ ان میں بااثر افراد یا ملک بھی شامل ہیں۔فوجی آپریشنز کے دوران جن جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالے تھے، فوج نے اب انھیں اپنا تسلیم کرکے اسلحہ دے دیا ہے۔ وہ لوگ طاقت حاصل کرگئے ہیں اور اپنے مخالفین کو مار دیتے ہیں۔ صحافی سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے جنگجوؤں کے خلاف خبر چلائی تو انھیں بھی اسی طرح قتل کردیا جائے گا۔
اسی طرح صحافی سیکورٹی فورسز سے بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اگر آپ نے ان کے خلاف کوئی خبر دی تو آپ خود خبر بن جائیں گے۔ اس لیے وہ سوچتے ہیں کہ آئی ایس پی آر نے جس طرح بھی خبر جاری کی ہے، جو بھی لکھ دیا ہے، اسی طرح آگے بھیج دو۔
بعض اوقات کوئی واقعہ ہوتا ہے، مثال کے طور پر دھماکا ہوتا ہے۔ آپ کے پاس مصدقہ خبر ہوتی ہے اور سیکورٹی فورسز کے مقامی لوگ ہی آپ کو آگاہ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے میڈیا ادارے اسے شائع نہیں کرتے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ آئی ایس پی آر سے خبر جاری ہوگی تو چھاپیں گے۔ کئی گھنٹے بعد راولپنڈی سے خبر جاری ہوتی ہے تو اسے اخبارات اور چینل لے لیتے ہیں۔ اس طرح قبائلی علاقوں کے صحافی کا کردار ختم ہوجاتا ہے اور وہ کسی ایونٹ کی کوریج نہیں کرسکتا۔
سوال: قبائلی علاقوں کے بعض صحافیوں کو گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تھی۔ ان صحافیوں نے کیا کیا تھا؟ انھیں گرفتار کرنے کی کیا وجہ تھی؟
جواب: اس سوال کا جواب مل جائے تو کیا بات ہے۔ شمالی وزیرستان کے چار پانچ صحافیوں کو اٹھایا گیا تھا۔ انھوں نے سیکورٹی اداروں سے کہا کہ آپ ایک فون کردیتے تو ہم خود آجاتے۔ اس طرح حراست میں لینا یا اغوا کرنا اچھی بات نہیں۔ لیکن کوئی بات نہیں سنتا۔ ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ آنکھوں پر پٹی چڑھا کر اور ہاتھ پیچھے باندھ کر کئی گھنٹے زمین پر بٹھا کر رکھا۔ پھر تفتیش میں بچوں جیسی باتیں پوچھیں کہ نام کیا ہے، والد کا نام کیا ہے، کہاں رہتے ہو، کیا کرتے ہو۔ ایسے سوالات کی کیا تُک بنتی ہے۔
صحافیوں پر جسمانی تشدد نہیں کیا۔ لیکن، ان کے سامنے دوسرے ملزموں پر تشدد کرکے ڈرایا گیا۔ پھر کسی کو بارہ گھنٹے بعد چھوڑ دیا، کسی کو چوبیس گھنٹے بعد۔ صحافیوں کے ساتھی اور ایڈیٹر بھاگ دوڑ کرتے ہیں اس لیے انھیں رہائی مل جاتی ہے۔ عام لوگوں کا پتا نہیں کیا حشر کیا جاتا ہوگا۔ ایک صحافی اسکالرشپ پر امریکا سے واپس آیا تو اسے دو ہفتے بند رکھا۔ ایسے لوگوں نے پریشان ہو کر صحافت چھوڑ دی۔
ایک بار شمالی اور جنوبی وزیرستان کے تمام صحافیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا۔ یہ لوگ جب کسی چیک پوسٹ پر جاتے تو اور شناختی کارڈ دکھاتے تو کمپیوٹر پر ان کے نام کے آگے ہتھکڑی بنی ہوئی آجاتی۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی دکھائی دیں، انھیں گرفتار کرلیا جائے۔ صحافیوں نے گورنر سے شکایت کی اور انھوں نے کور کمانڈر سے بات کی۔ اس کے بعد وہ مسئلہ حل ہوا۔
پاکستان میں میڈیا کو کسی سنسرشپ کا سامنا نہیں، محمود شام
پرائیویٹ نیوز چینلوں کی آمد سے پہلے محمود شام پاکستان میں میڈیا کا شاید سب سے بڑا نام تھا۔ وہ جنگ اخبار کے گروپ ایڈیٹر تھے۔ شام صاحب نے ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں صحافت کا آغاز کیا۔ قندیل، نوائے وقت اور مساوات میں کام کیا۔ بچوں کے رسالے ٹوٹ بٹوٹ، معیار، اخبار جہاں اور اور جنگ کے ایڈیٹر رہے۔ بلامبالغہ درجنوں کتابیں تصنیف کر چکے ہیں جن میں شعری مجموعے، سفرنامے، انٹرویو اور کالموں کے مجموعے شامل ہیں۔ ان دنوں ایک جریدے اطراف کے ایڈیٹر ہیں اور جنگ میں کالم کا سلسلہ جاری ہے۔ چھ دہائیوں سے صحافت میں سرگرم ہونے کے باوجود آج بھی تازہ دم ہیں۔
پاکستان میں بہت سے لوگ میڈیا سنسرشپ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن، شام صاحب نے دوسروں سے ذرا مختلف گفتگو کی۔ میں نے ان سے پہلا سوال یہی پوچھا تھا کہ کیا پاکستان میں میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے؟
شام صاحب نے کہا کہ صورتحال کو سنسرشپ نہیں کہنا چاہیے کیونکہ ہم تو آزادی سے لکھ رہے ہیں۔ یہ میڈیا کے اداروں کی خود کھڑی کی ہوئی مشکلات ہیں۔ میڈیا مالکان کی قومی اداروں سے جو بات چیت ہوتی ہے، اس کی روشنی میں انھوں نے اپنی کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں۔ وہ خود چیزیں روکتے ہیں، پرنٹ میں بھی اور الیکٹرونک میڈیا میں بھی۔ مارشل لا ادوار میں پریس ایڈوائس براہ راست آتی تھی۔ اخبارات اور رسالے لے کر وزارت اطلاعات میں جانا پڑتا تھا۔ ان کے افسر جانچتے تھے کہ کیا چیز چھپنی چاہیے اور کیا نہیں۔ اب اس طرح کا نظام نہیں۔
عام شہری اور ملٹری کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ سیاست دانوں اور جرنیلوں کا ہے۔ سیاست دان اپنی نااہلی اور کرپشن کی ذمے داری ملٹری پر ڈال دیتے ہیں کہ اس نے انھیں کام نہیں کرنے دیا۔ جرنیل جو کرتے ہیں، اس میں ساری فوج کا کردار نہیں ہوتا۔
آپ دیکھیں کہ بھارت میں پاکستان سے متعلق پالیسی پر سب ایک ہیں۔ حکومت بھی، فوج بھی، میڈیا بھی۔ انڈین میڈیا اس طرح کی بات نہیں کرتا کہ اس پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دباؤ ہے۔ وہاں خارجہ پالیسی جو بھی طے ہے، پاکستان پالیسی ہو یا کشمیر پالیسی، وہ سوچی سمجھی اور متفقہ ہے۔ ہمارے ہاں بھارت سے متعلق پالیسی پر اختلافات ہیں، کشمیر پالیسی پر بھی اختلافات ہیں۔
پاکستان میں بہت زیادہ نیوز چینل ہیں۔ پاکستان کو اتنے نیوز چینلوں کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟ کیا ہماری صنعت اتنی ترقی کر رہی ہے کہ اتنے سارے چینل کو زندہ رکھ سکتی ہے؟ ہماری برآمدات بہت کم ہیں اور درآمدات زیادہ ہیں۔ کون اشتہار دے گا اور دے رہا ہے؟ یہ سب باتیں سوچنے والی ہیں۔
میں نے کہا، شام صاحب! اگر ہماری معیشت میں دم نہیں تو نئے نیوز چینل کیسے آرہے ہیں؟ پرانے نیوز چینل اور اخبارات بھی تنخواہیں نہیں دے پا رہے؟
شام صاحب نے کہا کہ میڈیا ورکر کی ملازمت کا تحفظ حکومت کی ذمے داری نہیں ہے۔ میڈیا اب بالکل آزاد ہے اور کاروبار کی طرح چل رہا ہے۔ اگر میڈیا مالکان خسارہ برداشت نہیں کرسکتے تو اس میدان میں آتے کیوں ہیں؟ اگر یہ نقصان کا سودا ہے اور حکومت یا ریاست کی طرف سے اگر سنسرشپ جیسی پابندیاں ہیں تو نئے چینل کیوں آ رہے ہیں؟ تین چار ماہ میں تین چار نئے چینل آچکے ہیں اور خبر ہے کہ مزید آئیں گے۔ جو آرہے ہیں وہ، کسی امید ہی میں آرہے ہیں۔
شام صاحب نے کہا کہ میڈیا کی صنعت میں سب سے بڑا مسئلہ تنخواہوں میں فرق ہے۔ اینکر پرسنز کی تنخواہیں بہت زیادہ ہوچکی ہیں۔ بول نے اپنے صدور اور سی ای او کو ایک کروڑ روپے تک تنخواہیں دیں۔ اس وقت بھی جو بڑے اینکر پرسنز ہیں، کوئی چالیس لاکھ لے رہا ہے اور کوئی ساٹھ لاکھ۔ اس سے معاشی عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔ اتنی بڑی تنخواہوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کسی اور صنعت میں اتنی زیادہ تنخواہیں نہیں ہیں۔ نہ حکومت میں، نہ فوج میں اور نہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں۔ صرف ایک ٹاک شو کرنے والوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں اور جو بے چارے بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں، ان کی تنخواہیں بیس پچیس ہزار سے زیادہ نہیں۔ انھیں اگر تاخیر سے تنخواہیں ملتی ہیں ایسا ان بڑی تنخواہ والوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ میڈیا مالکان کو اینکر پرسنز کی تنخواہیں کم کرنی پڑیں گی، کیونکہ یہ بالکل غیر منطقی بنیاد پر ہیں۔ امریکا اور برطانیہ جیسے ملکوں میں بھی تنخواہوں میں اتنا بڑا فرق نہیں ہے۔
میں نے دریافت کیا کہ کیا اس کسادبازاری کی وجہ سے کچھ اخبارات اور نیوز چینل اپنا وجود کھو سکتے ہیں؟
شام صاحب نے کہا، جی ہاں۔ کچھ اخبارات اور چینل بند ہوجائیں گے۔ کافی ادارے مشکل میں ہیں۔ چار چار پانچ پانچ تنخواہوں کا فرق پڑ چکا ہے۔ جنگ گروپ سب سے بڑا ادارہ ہے۔ وہاں بھی تنخواہیں تین تین ماہ تاخیر کا شکار ہیں۔ وہاں بھی ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے۔ اگر انھوں نے حکومت پر انحصار کیا تھا کہ وہ انھیں اشتہارات دیتی رہے گی تو یہ غلط منصوبہ بندی تھی۔ نئی حکومت خود مسائل کا شکار ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پہلے کی طرح ان کو نوازے اور مبارک باد کے اشتہارات دے۔ بحریہ ٹاؤن والے بڑے بڑے اشتہارات دے کر کبھی کبھی انھیں بیل آؤٹ کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے میڈیا اداروں کی اپنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جتنا کاروبار ممکن ہے، اس کی بنیاد پر معاشی منصوبہ بنانا چاہیے۔
میں نے سوال کیا کہ میڈیا اداروں کو خبریں، کالم اور انٹرویو روکنے کی ہدایت کون دیتا ہے؟
شام صاحب نے کہا کہ مجھے تو کسی نے نہیں کہا ابھی تک۔ دفتر کی انتظامیہ اگر کسی سے کہتی ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں تو وہ ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔ اسے لوگ باہر کیوں لے جاتے ہیں؟ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ کالم روکا گیا ہو تو اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا جائے۔
میں نے کہا کہ شام صاحب، پہلے سوشل میڈیا ہوتا ہی نہیں تھا۔
شام صاحب نے اپنی بات جاری رکھی کہ پہلے بڑے بڑے کالم نویس ہوتے تھے۔ وہ کہیں جاکر نہیں کہتے تھے کہ میرا کالم نہیں چھپا۔ وہ ایڈیٹوریل پالیسی کے مطابق تبدیلی کردیتے تھے اور اخبار چھاپ دیتا تھا۔ ہم نے بہت مشکل حالات میں اپنی بات کہی ہے۔ ضیا الحق مارشل لا سے زیادہ سفاک زمانہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس میں پری پبلی کیشن سنسرشپ تھی۔ اخبارات اور رسائل بند بھی ہوئے۔ صحافی گرفتار ہوئے۔ نئے لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ہی نہیں۔
شام صاحب نے ایک بار پھر کہا کہ میڈیا ادارے مالی مشکلات کا شکار اس لیے ہیں کہ معاشی عدم توازن ہے اور اس کی وجہ اینکر پرسنز کی بڑی بڑی تنخواہیں ہیں۔ مالی مشکلات سرکاری سنسرشپ یا کسی اور پابندی کی وجہ سے نہیں ہیں۔ یہ محض جواز ڈھونڈا جارہا ہے۔
اسٹبلشمنٹ کہتی ہے سر جھکاؤ ورنہ گردن دبا دی جائے گی، احفاظ الرحمان
احفاظ الرحمان پاکستان میں صحافت کی احتجاجی تحریک کا بڑا نام ہیں۔ منہاج برنا اور ضمیر نیازی جیسا بڑا نام۔ انھوں نے این ایس ایف کے رہنما کی حیثیت سے ایوب خان کے دور میں طلبہ کے احتجاج میں حصہ لیا۔ ضیا الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں آزادی صحافت کی تحریکوں میں گرفتار ہوئے۔ پی ایف یو جے کے صدر بھی رہے۔ ضیا دور میں بلیک لسٹ ہوئے تو چین جا کر کئی سال اردو پڑھاتے رہے۔ جنگ میں برسوں کام کرنے کے بعد اب ایکسپریس میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ ادیب، شاعر اور مترجم ہیں اور کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔
احفاظ صاحب کی طبیعت اچھی نہیں اور گلے میں تکلیف کی وجہ سے بول نہیں سکتے۔ میں نے انھیں سوال ارسال کیے اور انھوں نے لکھ کر جوابات بھیجے۔ اس پیغام رسانی کے لیے میں ادبی جریدے اجرا کے ایڈیٹر اقبال خورشید کا شکرگزار ہوں۔
سوال: پی ایف یو جے کہتی ہے کہ میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔ کیا آپ متفق ہیں؟ کیا یہ ضیا دور جیسی سنسرشپ ہے؟
احفاظ الرحمان: اب سب، جن میں سی پی این ای اور اے پی این ایس بھی شامل ہیں، واضح الفاظ میں اور بار بار تسلیم کر چکی ہیں کہ زخم رسیدہ میڈیا سینسر شپ کی زد پر ہے اور بے چارگی کی مجسم کہانی بن کر رہ گیا ہے۔ اس دور میں، عیاں اور نہاں، اس قدر شدید عذاب مسلط کر دیا گیا ہے کہ اس کی مثال ماضی میں نظر نہیں آتی۔ نئے نئے حربے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ پوری اسٹیبلشمنٹ، جس میں متعدد ایجنسیوں کا کردار نمایاں ہے،کھلم کھلا کہتی ہیں کہ ہمارے سامنے سب سر جھکا کر رہو، ورنہ گردن دبا دی جائے گی۔ اس دعوے کی تائید میں بے شمار ناقابل تردید مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس دور میں ضیا دور سے زیادہ عیاری کے ساتھ میڈیا کے لیے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔
سوال: کیا وجہ ہے کہ ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرز کمزور ہو گئے ہیں اور مالکان نیوز روم پر قابض ہیں؟ ایڈیٹرز کیوں اپنے کردار سے دست بردار ہو گئے ہیں؟
احفاظ الرحمان: ورکنگ ایڈیٹر کا منصب طویل عرصے سے زوال پذیر ہے۔ ورکنگ ایڈیٹر حقائق کو جوں کا توں پیش کرتا ہے، کوئی کمی بیشی اس کے نزدیک روا نہیں ہوتی اور اُسے صحافتی اخلاقیات ازبر ہوتی ہیں۔ ایک طرف وہ مقتدر طبقات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے اور دوسری طرف اشتعال انگیزی، سنسنی خیزی اور عریاں نگاری سے گریز کرتا ہے۔ اسے اپنے پیشے کی حرمت کا پاس ہوتا ہے۔ کوئی طاقت، کوئی فتنہ گر اسے اپنے سامنے جھکا نہیں سکتا۔
ایک زمانے میں حالات بہتر تھے، جب پی ایف یو جے ایک تھی اور سی پی این ای بھی اطاعت گزار نہیں تھی۔ مالکان باوقار اور حقیقی صحافیوں سے مرعوب رہتے تھے۔ پھر انھوں نے رفتہ رفتہ اپنے مالی و طبقاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے خیمے کے اندر گھسنا شروع کیا اور اصل کرداروں کو نکال باہر پھینکا۔ افسوس، کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ اکثر ایڈیٹر اور نیوز ایڈیٹر موقع پرستی کا راتب کھانے لگے۔ ذاتی مفادات کی تکمیل ان کا مشن بن گیا۔ بعض واقعتاً مجبور تھے لیکن بیشتر محض اپنی کھال بچانے کے لیے گنگا نہانے کے راستے پر چل نکلے۔ عافیت کی تلاش میں وہ اپنے اصل کردار سے محروم ہوتے چلے گئے۔ اب خبروں اور مضامین کے نام پر محض عبرت کی داستانیں شائع کر رہے ہیں۔
سوال: اخبارات اور نیوز چینل کارکنوں کو نکال رہے ہیں اور بڑے میڈیا گروپس بھی وقت پر تنخواہیں نہیں دے پا رہے۔ اس زوال کا کیا سبب ہے؟ کیا مستقبل میں کچھ اخبارات اور چینل بند ہونے کا خطرہ ہے؟
احفاظ الرحمان: اخبارات اور نیوز چینل دھڑا دھڑا کارکنوں کو نکال رہے ہیں اور زیادہ مال دار گروپ بھی تنخواہیں نہیں دے رہے۔ احتجاج کے سارے دروازے، ساری زبانیں بند ہیں۔ اخباری کارکن زبانی جمع خرچ اور کاغذی دھمکیوں پر جدوجہد کی عمارت کھڑی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کردار کی پستی کے باعث فعال آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ کمزور افراد کی کمزور آوازوں کے سامنے مالکان کی من مانیاں یقیناً بڑھتی رہیں گی۔ اخبارات اور چینل بند ہونے کے امکانات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب قربانی دینے کا جذبہ نہیں ہو گا تو زور آور طاقتیں آپ کی پشت میں سلاخیں پیوست کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ خاموش تماشائیوں کے سامنے ہر قسم کے کرتب کامیاب ہو جاتے ہیں۔
سوال: پرانے چینلوں کا حال خراب ہے تو نئے چینل کیسے آئے جا رہے ہیں؟
احفاظ الرحمان: جی ہاں، نئے چینل بھی کھل رہے ہیں۔ یہ کوئی جادوگری نہیں۔ ایک عرصے سے میڈیا میں یہ چلن عام ہو گیا ہے کہ خالص کاروباری سیکٹر کے طالع آزما میڈیا میں گھستے جا رہے ہیں۔ صحافت کے روشن کرداروں کو اجاگر کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ ان کے پاس بیت المال ہے، لوٹ مار کے سارے سامان ان کے قبضے میں ہیں۔ وہ میڈیا میں آ کر اپنا سوشل سٹیٹس بڑھانا چاہتے ہیں۔ بلند سوشل سٹیٹس کی بنیاد پر بلیک میلنگ کرنا ان کے نزدیک آسان ہے۔ اس راہ سے وہ با آسانی اپنے تجارتی و مالی مفادات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
سوال: صحافی متحد کیوں نہیں ہو رہے؟ کیا اس انتشار میں مالکان اور اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی جیتی جا سکتی ہے؟
احفاظ الرحمان: بے کردار گندم، کاجو فروشوں نے ذاتی سود اور مالی مفادات کے لیے پی ایف یو جے کی تقسیم در تقسیم میں بی جمالو کا کردار ادا کیا اور کامیاب رہے۔ یہ بے چہرہ لوگ سر سے پاؤں تک سیاہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ میں اس بات سے قطعی متفق نہیں کہ کوئی بیرونی عامل انھیں تقسیم کر رہا ہے۔ یہ تماشا ’’کرنی‘‘ کا پھل ہے۔ یہ پھل وہ اس وقت تک کھاتے رہیں گے، جب تک خود غرضوں کی قبر سے باہر نکلنے کی جستجو سچے دل سے نہیں کریں گے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ اس نفاق کے باعث وہ مالکان اور اسٹیبلشمنٹ سے تو کیا، ان کے معمولی کارندوں سے بھی کوئی لڑائی نہیں جیت سکتے۔ یہ لوگ عام گلی کوچوں اور بازاروں میں احتجاج کرنے کے بجائے محض پریس کلبوں کے سامنے دس بیس کی تعداد میں جمع ہو کر خوف زدہ آوازوں میں نعرے بلند کرتے ہیں۔ وہاں سے نکل کر دفتر میں آ کر اپنے زخم چاٹتے ہیں۔ جب تک ریگل چوک، لکشمی چوک، حسین آگاہی اور قصہ خوانی میں اخباری کارکنوں کے جلوس نہیں نکلیں گے، حالات نہیں بدلیں گے۔ ان دس بیس کاغذی احتجاجیوں کا عمل بنجر رہے گا۔
ان کا حال اس ناٹک جیسا ہے:
’’دیکھیے،جناب مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، ہماری تنخواہوں میں فوری اضافہ کر دیں۔۔۔ ورنہ!‘‘
’’ورنہ کیا؟‘‘
کچھ نہیں حضور، ورنہ ہم اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔‘‘
حق اظہار ختم ہوجائے تو پھر جمہوریت کہاں؟ امتیاز عالم
امتیاز عالم کو صرف صحافی نہیں کہا جا سکتا۔ وہ انسانی حقوق کے علم بردار ہیں اور خطے میں امن کے لیے آواز اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ وہ صحافیوں کو جامعات میں پڑھانے والے اساتذہ کے استاد رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں صحافت کی آزادی کے لیے کام والی تنظیم ’سیفما‘ کے سربراہ ہیں۔ ساری زندگی عملی صحافت میں گزاری اور موقر اخبارات میں کالم لکھے۔ کالم نگاری اور نیوز چینلوں پر تجزیہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔
میں نے امتیاز عالم سے چھوٹا سا سوال کیا کہ پاکستان میں میڈیا کا گلا کون گھونٹتا ہے؟
امتیاز صاحب نے کہا کہ وہ میڈیا ہاؤسز جو اہمیت رکھتے ہیں، یعنی جنگ گروپ، ڈان گروپ اور نوائے وقت گروپ، اور کچھ افراد جو اصولوں اور آزادی صحافت کی بات کرتے ہیں، ان کے لیے لکھنا اور بولنا کافی مشکل ہوگیا ہے۔ ان کی تحریریں نہیں چھاپی جاتیں۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ہمیں ہدایات دی گئی ہیں۔ الیکشن سے پہلے اور بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ نیوز چینلوں کی نشریات اور جنگ اور ڈان کی تقسیم کو روکا گیا۔ یہ سب ہم نے دیکھا۔ چند روز پہلے آئی ایس پی آر حکام اور میڈیا مالکان کی ملاقات ہوئی ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جو پہلے ہوا سو ہوا، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ اگر ایسا وعدہ کیا گیا ہے تو اچھی بات ہے۔
بقول اُن کے، ’’یہ بات درست نہیں کہ آئی ایس پی آر کے لوگ میڈیا میں مداخلت نہیں کرتے رہے۔ وہ کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مائیکرو منیجمنٹ کرتے رہے ہیں کہ کون سی خبر چھپنی ہے اور کون سی نہیں چھپنی۔ یہ لفظ کیوں اور وہ کیوں ہے یا کوئی تاثر کیوں دیا جارہا ہے۔ یہ سب ہوتا رہا ہے۔ اگر اب یہ رک گیا ہے یا رک جائے گا تو مثبت پیشرفت ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ چھپ گیا ہے۔ جیو آف ایئر کیا جاتا تھا، ڈان کینٹونمنٹ ایریاز میں نہیں جاسکتا تھا، یہ سب کو پتا ہے، یہ راز نہیں ہے۔ جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر اب وہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ نہیں کریں گے تو میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں‘‘۔
میں نے امتیاز صاحب کو بتایا کہ بعض کالم نگار سوشل میڈیا پر بتاتے ہیں کہ ان کے کالم روکے گئے ہیں۔ میری محمود شام صاحب اور ارشاد عارف صاحب سے اس بارے میں بات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایڈیٹر کو کالم روکنے کا حق ہوتا ہے۔ پہلے بھی کالم روکے جاتے تھے۔ لیکن کوئی سوشل میڈیا پر اعلان نہیں کرتا تھا۔
امتیاز صاحب نے کہا کہ ’’اب ایڈیٹر ہوتا کہاں ہے؟ بس ایسے ہی لوگ انھوں نے رکھے ہوئے ہیں۔ چند ایک ہی اخبارات میں ایڈیٹر رہ گئے ہیں، جیسے ڈان میں۔ ایک آدھ اور کہیں ہوگا۔ انگریزی اخبار میں کچھ املا وغیرہ ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ اردو میں وہ بھی نہیں ہے۔ ضابطہ اخلاق کیا ہے، مہذب اظہار کیا ہے، میڈیا کی اخلاقیات اور اخلاقی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے کالم ایڈٹ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جہاں تک نقطہ نظر کا معاملہ ہے، ایڈیٹر کو یہ حق حاصل نہیں کہ کالم کو اپنی ایڈیٹوریل پالیسی کے مطابق ایڈٹ کرے‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں لکھتے ہیں، انھیں بھلا کیا تکلیف ہے؟ جو لوگ انتہاپسندوں پر تنقید نہیں کرتے یا دہشت گردی یا ان پالیسیوں کے بارے میں سوال نہیں اٹھاتے جو خطے میں بحران کا سبب ہیں، ان کے کالم چھپنے سے کسی کو تکلیف نہیں ہوتی۔ تکلیف تو ان سے ہے جو اختلاف کرتے ہیں‘‘۔
میں نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا کہ میرے منہ میں خاک، کیا کچھ اخبارات یا چینل بند ہونے کا خدشہ ہے؟ کیونکہ میڈیا انڈسٹری میں مندی کا رجحان ہے۔
امتیاز صاحب نے کہا کہ ’’ہاں۔ مجموعی طور پر میڈیا انڈسٹری کی حالت ٹھیک نہیں۔ بہت سے اخبار بند ہو رہے ہیں یا بند ہوجائیں گے۔ لوگ ملازمتوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دور کے سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں اور آئندہ کی بھی امید کم ہے۔ میڈیا معاشی حساب سے خسارے میں ہے۔ اس دوران میڈیا میں کچھ تگڑے گروپ آرہے ہیں اور کچھ لوگ لائے جا رہے ہیں۔ اسکول سسٹم والے لوگ آگئے ہیں، بیکری والے آگئے ہیں۔ اور بھی طرح طرح کے لوگ آرہے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں‘‘۔
امتیاز صاحب احتجاجی صحافت میں ہمیشہ سرگرم رہے۔ میں نے دریافت کیا کہ ’پی ایف یو جے‘ آج کل میڈیا سنسرشپ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ صحافی برادری بری طرح تقسیم ہے۔ ایک دھڑے کے احتجاج سے بھلا کیا ہوگا؟
امتیاز صاحب نے کہا کہ ’’احتجاج سے فائدہ ہو یا نہ ہو، مزاحمت ضروری ہے چاہے پانچ لوگ کریں۔ سنسرشپ کے خلاف مزاحمت کرنا، اظہار رائے کے حق کے لیے کھڑے ہونا صرف صحافی کا کام نہیں۔ یہ تمام شہریوں کا فرض ہے، یہ معاشرے کی ذمے داری ہے۔ آگہی کا حق پورے معاشرے کے لیے ہے، صرف صحافیوں کی ذمے داری نہیں ہے۔ حق اظہار ختم ہوگیا تو پھر جمہوریت کیا رہ گئی؟‘‘
جیو اور ڈان کے ساتھ فوج کے تعلقات جلد معمول پر آجائیں گے، مجیب الرحمان شامی کا انٹرویو
مجیب الرحمان شامی پاکستان کے انتہائی سینئر صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ روزنامہ ’پاکستان‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ ’دنیانیوز‘ پر نقطہ نظر کے عنوان سے پروگرام میں تجزیے پیش کرتے ہیں۔ ان کے کالم کئی اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان کی زیر ادارت ہفت روزہ ’زندگی‘ ایک زمانے میں بہت مقبول تھا۔ ان کے کئی حکمرانوں سے قریبی تعلقات رہے اور بہت سے درون خانہ معاملات سے آگاہ ہیں۔
میں نے پہلا سوال کیا کہ کئی سینئر صحافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کے حالات خراب ہیں۔ کئی اہم صحافی اصرار کرتے ہیں کہ حالات بالکل خراب نہیں۔ آپ بتائیں کہ کون سی بات درست ہے۔ اور فوجی ترجمان سے ملاقات میں کیا گفتگو رہی؟
شامی صاحب نے کہا کہ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ میڈیا بہت مشکل حالات کا شکار ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میڈیا کی معیشت پر بہت دباؤ ہے۔ گزشتہ دور حکومت کے اشتہارات کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں۔ نئی حکومت نے اشتہارات میں بہت کمی کردی ہے۔ چھوٹے اخبارات خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن، بڑے میڈیا ہاؤسز بھی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کوئی اشتہاری مہم نہیں چل رہی، کسی کا کاروبار نہیں چل رہا۔ سرکار کے علاوہ پرائیویٹ بزنس سے ملنے والے اشتہارات بھی گھٹ گئے ہیں۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے نیوز پرنٹ بہت مہنگا ہوگیا ہے۔ اتنا کہ اخبارات اپنے صفحات کم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز ملازمین کی چھانٹی کر رہے ہیں یا خطرہ ہے کہ کریں گے۔ کارکنوں میں اضطراب کی لہر ہے اور میڈیا کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بعض میڈیا ہاؤسز کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ ان کی سرکولیشن میں رکاوٹ ڈالی جارہی تھی۔ ان کا بزنس معمول کے مطابق نہیں تھا۔ اس ساری صورتحال نے بھی مالکان کو، ایڈیٹرز کو اور کارکنوں کو پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے۔
شامی صاحب نے بتایا کہ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی دعوت پر میڈیا اونرز ان سے ملے۔ طویل ملاقات میں تمام مسائل بیان کیے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وعدہ کیا کہ ان سے متعلق میڈیا ہاؤسز کو جو شکایات ہیں، انھیں وہ دور کردیں گے اور حالات کو معمول پر لائیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے گئے ہیں اور توقع ہے کہ جیو، جنگ اور ڈان کے ساتھ معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔
شامی صاحب نے کہا کہ جب وزیر اطلاعات کا ذکر ہوا تو ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ نے انھیں فون کرکے کہا کہ میڈیا کے مسائل پر گفتگو کے لیے آپ کی طرف آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بجائے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ میرے پاس آئیں، میں ادھر آجاتا ہوں۔ وہ رات 11 بجے وہاں آئے اور اجلاس میں شریک ہوگئے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے کوئی نظام وضع کیا جائے گا۔ اس کے لیے کمیٹی بن گئی ہے۔
عام خیال ہے کہ حکومت کا رویہ اور اقدامات میڈیا دوست نہیں ہیں اور وہ میڈیا کے مسائل سے بے پرواہ ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ میڈیا کو اس کے حال پر چھوڑ دے اور جو بھی ان پر گزرے، سو گزرے۔ اس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا مالکان کی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ تبادلہٴ خیال میں امید ہے کہ کوئی مثبت پیشرفت ہوگی۔
میں نے کہا کہ شامی صاحب، اخبارات اور ٹی وی چینل سرکاری اشتہارات کی توقع کیوں رکھتے ہیں۔ اور بزنس نہیں رہا تو نئے میڈیا ادارے کیوں بن رہے ہیں؟
شامی صاحب نے کہا کہ جی ہاں، میڈیا ہاؤسز کو اپنے معاملات کو خود دیکھنا چاہیے۔ لیکن اس وقت ملک کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، مارکیٹنگ ممکن نہیں رہی اور سب لوگوں نے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بڑے گروپ بھی دباؤ میں آگئے ہیں۔ جن میڈیا ہاؤسز مالکان کے دوسرے کاروبار ہیں تو وہ وہاں سے پیسہ نکال کر یہاں لگا رہے ہیں۔ لیکن جو چھوٹے اور علاقائی اخبارات ہیں، ان کی ستر اسی فیصد آمدن کا ذریعہ سرکاری اشتہارات ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا آسان نہیں رہا۔ حکومت بھی چاہ رہی ہے کہ اگر کچھ اخبارات اور میڈیا ہاؤسز بند ہوتے ہیں تو ہوجائیں۔ اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
میں نے کہا کہ گزشتہ روز میری طلعت حسین سے گفتگو ہوئی۔ ان کا خیال ہے کہ نئے چینلوں کے ذریعے میڈیا انڈسٹری کا ڈھانچا بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی غدر مچایا جاتا ہے تاکہ کان پڑی آواز نہ آئے۔
شامی صاحب نے کہا کہ الطاف حسن قریشی صاحب نے کئی عشرے پہلے بھٹو صاحب کے دور میں شعر کہا تھا کہ:
اندھوں نے مل کے شور مچایا ہے چار سو
تا سن سکے نہ کوئی کسی دیدہ ور کی بات
صورتحال سب کے سامنے ہے۔ سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا طوفان برپا ہے۔ لوگوں کو ہدف بنا کر مہم چلائی جاتی ہے۔ خود مجھے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا فورمز بہت متحرک ہیں اور ہنگامہ مچاتے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ اداروں پر بھی شک کا اظہار کرنے والے موجود ہیں۔ لیکن جب مچھلی بازار میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے تو یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کس نے کس کو کیا کہا ہے اور اس میں کس کا ہاتھ ہے۔
بڑے بزنس ہاؤس میڈیا میں آ رہے ہیں اور نئے چینل کھول رہے ہیں تو یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ ان کے پیچھے کوئی قوت ہے یا ان کی اپنی خواہشات انھیں اس میدان میں لائی ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی تنخواہیںں، خاص طور پر اینکرز کے مشاہرے اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ ان کا مقابلہ کرنا سب کے بس کی بات نہیں رہی۔ اس بارے میں ہم شک کا اظہار کر سکتے ہیں۔ الزام لگا سکتے ہیں۔ لیکن یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
میں نے کہا کہ ’پی ایف یو جے‘ کے کئی دھڑے ہوچکے ہیں اور ان کے درمیان فرقہ واریت جیسی مخاصمت ہے۔ ایک دھڑے نے سنسرشپ کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ کیا اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور کیا صحافی کبھی متحد ہوں گے؟
شامی صاحب نے کہا کہ یہ بات آپ کی درست ہے، ہماری صحافت میں فرقہ واریت زوروں پر ہے۔ ان کے بجائے اب پریس کلب صحافیوں کے اتحاد کا مرکز بن رہے ہیں۔ صحافیوں کی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی پریس کلب چلا رہی ہیں کیونکہ وہاں تمام لوگ یکجا ہوجاتے ہیں۔ لیکن دوسری تنظیمیں سب نے اپنی اپنی بنالی ہیں۔ مختلف عناصر کے پیچھے مختلف طاقتیں کام کر رہی ہیں۔ مالکان کی تنظیم ’سی پی این اِی‘ بھی دھڑے بازی کا شکار ہوگئی ہے۔ ایک زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آزادی صحافت کے مسائل پیش آتے تھے تو سب لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے اور میڈیا ہاؤسز ایک دوسرے کے خلاف مہم نہیں چلاتے تھے۔ لیکن، اب وہ روایات ختم ہوگئی ہیں۔ بڑے مفادات والے لوگ اور بزنس ہاؤسز میڈیا میں آئے ہیں تو اپنی آلائشیں بھی ساتھ لائے ہیں۔ اس صورتحال نے پروفیشنل ازم کو متاثر کیا ہے۔ جن لوگوں کا اوڑھنا بچھونا صحافت تھی، ان کے لیے حالات سازگار نہیں رہے اور کشادہ ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔
بدترین سینسرشپ وہ ہے جو جمہوریت کے نام پر کی جائے، طلعت حسین
طلعت حسین تین عشروں سے صحافت میں سرگرم ہیں اور اس وقت بھی سیاسی ٹاک شو کی میزبانی کرتے تھے، جب پرائیویٹ نیوز چینلوں کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی وی پر ان کا پروگرام نیوز نائٹ بہت مقبول تھا۔ وہ دی نیوز کے ایڈیٹر اور آج ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز رہ چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں کالم لکھتے رہے۔ پی ٹی وی، آج، ڈان اور ایکسپریس نیوز کے بعد اب جیونیوز پر سیاسی گفتگو کا پروگرام کرتے ہیں۔
میں نے طلعت حسین سے صرف اتنا پوچھا کہ کیا ملک میں کوئی سینسرشپ ہے یا کسی نے یونہی یہ ہوائی اڑائی ہے؟
طلعت حسین نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر سینسرشپ نافذ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر آپ مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں اور تھوڑا سا تنقیدی زاویہ نگاہ رکھتے ہیں تو آپ کے کام کی نگرانی ہو رہی ہے۔ آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ سنسرشپ کی نوعیت کیا ہے۔ پاکستان میں صحافت کی تاریخ کوئی خاص اچھی نہیں۔ فوجی آمروں کے علاوہ سویلین حکومتوں کے ادوار میں بھی سنسرشپ رہی ہے۔ پھر یہ سنسرشپ کس طرح مختلف ہے؟ بظاہر آپ کو نظر آئے گا کہ میڈیا آزاد ہے کیونکہ ملک میں 100 سے زیادہ ٹی وی چینل ہیں، لگ بھگ 200 ریڈیو چینل ہیں، سیکڑوں اخبارات ہیں۔ ہر قسم کی بولی اور ہر طرح کی رائے سنائی دیتی ہے۔ لیکن وہ عمومی رائے ہوتی ہے۔ اگر آپ حقائق کے ساتھ بات کریں اور نتائج اخذ کریں تو وہ قابل قبول نہیں۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہوگی یا ہوئی ہے۔ لیکن جب آپ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ دھاندلی کہاں ہوئی، کس طریقے سے ہوئی، کیسے ووٹرز کو روکا گیا، نتائج میں کیوں تاخیر ہوئی تو یہ کوئی نہیں چھاپے گا۔ اگر چھاپے گا تو اس کا اخبار آگے پیچھے ہوجائے گا۔
مالکان پر بہت دباؤ ہے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ براہ مہربانی تنقیدی کالم نہ لکھیں، کچھ خاص الفاظ نہ لکھیں، پروگرام میں کچھ خاص جملے نہ بولیں۔ ایک سال پہلے تک میرا پروگرام براہ راست نشر ہوتا تھا۔ پھر کبھی کبھار لائیو ہونے لگا۔ چھ ماہ ہوگئے ہیں، اسے ریکارڈ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی لائیو کرنا پڑجائے تو اس کی اجازت نہیں دی جاتی کہ نہ جانے کون کیا بات کہہ دے۔ آپ خود کچھ نہ کہیں، کوئی مہمان کچھ الٹا سیدھا نہ کہہ جائے، وہ بھی آپ کے ذمے ہے۔
پروگرام میں کچھ ناپسندیدہ بات نشر ہونے کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ آپ کا چینل کیبل سے غائب ہوجاتا ہے۔ ایڈورٹائزرز آپ کو اشتہارات نہیں دیتے۔ پھر مالکان کہتے ہیں کہ آپ نے چینل کا بیڑہ غرق کردیا۔ آپ کی نوکری خطرے میں پڑجاتی ہے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کی ملازمت بھی خطرے میں ہوتی ہے۔ اخبارات میں کالم بھی روکے جا رہے ہیں۔ اس ہفتے میرا کالم نہیں چھپا۔ میں انتظار کررہا ہوں کہ کیا فیصلہ کریں گے۔ نہیں چھاپیں گے تو ٹوئیٹ کردوں گا۔
تیسری بات یہ کہ صحافت میں ایسے لوگ گھس گئے ہیں جو دوسروں کی کردار کشی پر مامور کیے گئے ہیں۔ مجھ پر مین اسٹریم چینلوں سے بہت حملے ہوئے ہیں۔ یہ کام دو تین لوگ کرتے ہیں۔ وہ کبھی مجھ پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ کبھی کسی ملک کا سفیر بنادیتے ہیں۔ ایک بار امریکا کا سفیر بھی بنایا۔ ایک بار کہا کہ میں مشیر بن رہا ہوں۔ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ لیکن ان کا رشتہ شریف خاندان کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر کہا کہ میں لفافہ لیتا ہوں۔ انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا کہ وہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی کردار کشی کیوں کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جاتی ہے۔ میں نے ایف آئی اے سے شکایت کی تو کچھ تحقیقات ہوئی۔ کئی ویب سائٹس پکڑی گئیں۔ لیکن پھر ایف آئی اے حکام کے پر جل گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ان ویب سائٹس کے بارے میں علم نہیں کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ میری شکایت وہیں پر پڑی ہوئی ہے۔
آپ ایک تنقیدی ٹوئیٹ کریں، زلزلہ آجائے گا۔ مالکان کہتے ہیں کہ آپ ٹوئیٹ نہیں کر سکتے۔ جب تک آپ ہمارے لیے کام کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر احتیاط برتیں۔ تو میڈیا پر نہ صرف بندش ہے بلکہ غیر معمولی بندش ہے۔
میں نے سوال کیا کہ ہم اس دیدہ یا نادیدہ سنسرشپ کا الزام کسے دیں؟ ذمے دار کون ہے، حکومت ہے یا اسٹیبلشمنٹ؟ اور کیا اس کا موازنہ مارشل لا سے کیا جا سکتا ہے؟
طلعت حسین نے جواب دیا کہ اگر کوئی عسکری طالع آزما یا فسطائی حکومت میڈیا پر قدغن لگائے تو کوئی انہونی بات نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کس قسم کی مداخلت ہوگی۔ پتا ہے کہ اخبارات بند ہوں گے۔ پتا ہے کہ خبر نہیں چھپے گی۔ پتا ہے کہ صحافی اٹھائے جائیں گے۔ پتا ہے کہ مار پڑے گی۔ لیکن جیسا کہ کہتے ہیں کہ بدترین ظلم وہ ہوتا ہے جو انصاف کے نام پر کیا جائے۔ تو بدترین سنسرشپ وہ ہوتی ہے جو جمہوریت کے نام پر کی جائے۔ اس سنسرشپ میں موجودہ حکومت کا بہت بڑا حصہ ہے۔
عمران خان پہلے دھرنے سے آخری دھرنے تک اور الیکشن سے وزیر اعظم بننے تک مسلسل لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے رہے۔ انھیں میڈیا ہاؤسز پسند نہیں۔ وہ ان پر الزام دھرتے ہیں، ان کو للکارتے ہیں۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ منتخب ہوکر آنے والی سویلین حکومت اتنی دیدہ دلیری سے سنسرشپ کی بات نہیں کرتی۔
صحافت میں یہ میرا 28واں سال ہے۔ میں نے بطور کالم نگار صحافت کا آغاز کیا تھا۔ دی نیوز میں اداریے لکھتا تھا۔ میں ایڈیٹوریل سائیڈ سے جرنلزم میں آیا ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے تواتر سے میرے کالم روکے گئے ہیں۔ اٹھائیس سال میں کبھی میرے کالم نہیں رکے۔ لیکن چھ مہینے میں چھ کالم رک چکے ہیں۔ میں گزشتہ بیس اکیس سال سے الیکٹرونک میڈیا میں کام کر رہا ہوں۔ کبھی میرے پروگرام اس طرح نہیں روکے گئے جس طرح اب روکے گئے ہیں۔ یہ بہت ہی غضب ناک قسم کی سنسرشپ ہے۔
میڈیا ہاؤسز کی معاشی شہہ رگ پر دباؤ ہے۔ صحافیوں کی پروفیشنل کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا رہا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے اندر ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی اختلافی آواز اٹھاتا ہے تو وہ ننگ وطن بھی ٹھہرے گا، غدار بھی قرار دیا جائے گا اور مطعون بھی ہوگا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔
میں نے کہا کہ اس قدر گھٹن والے ماحول میں کہ جب بہت سے اخبارات اور چینل بقا کے خطرے سے دوچار ہیں، نئے سرمایہ کار کروڑوں اربوں روپے لے کر میڈیا انڈسٹری میں کیوں چلے آرہے ہیں؟
طلعت حسین نے نکتہ اٹھایا کہ پاکستان میں صرف 12 لاکھ لوگ ٹیکس گزار ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو رجسٹر ہیں۔ لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔ اس لیے نئے چینل کھولنے والوں سے کیا یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس پیسہ کہاں سے آیا اور کون آپ کو اس کام کے لیے فنڈ دے رہا ہے؟
میں پاکستان کا دائمی ٹیکس گزار ہوں۔ میرے تمام اثاثے ظاہر شدہ ہیں۔ میں نے گزشتہ سال اور اس سال پاکستان کے وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے مجموعی ادا شدہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس دیا ہے۔ میرے پروڈیوسر نے عمران خان سے زیادہ ٹیکس دیا ہے۔ ہم سے ہر پائی کا حساب ہوتا ہے۔ تو نئے چینل لانے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ جو پیسہ وہ کنویں میں پھینکے کے لیے لا رہے ہیں، وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے کہ یہ ان کا پیسہ ہے یا کہیں اور سے آرہا ہے؟
بول ٹی وی کا اتنا بڑا بین الاقوامی اسکینڈل چل رہا ہے۔ اس پر بین الاقوامی طور پر ہنگامہ مچا رہا۔ عالمی اخبارات نے اس کی خبریں شائع کیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ اس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ وہ چینل بدستور چل رہا ہے۔ اس کا دوسرا چینل بھی چل رہا ہے۔ پرانے اور مستحکم چینلوں کی پالیسیوں سے آپ اتفاق کریں یا نہ کریں۔ لیکن ان کا کچا چٹھا آپ کو پتا ہے۔ انھیں بند کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف نامساعد حالات میں مشکوک انداز سے جو چینلز آرہے ہیں، وہ چل رہے ہیں۔ دراصل میڈیا انڈسٹری کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ ایسی اسٹرکچرل سنسرشپ ماضی کے کسی دور میں نہیں ہوئی۔
میں نے توجہ دلائی کہ پی ایف یو جے کے کئی دھڑے ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک دھڑے نے سنسرشپ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ کیا اس کا کوئی فائدہ ہوگا؟
طلعت حسین نے کہا کہ میں سچی بات کہوں تو یہ دل کی بھڑاس نکالنے والی بات ہے۔ ایسے ماحول میں کہ جس میں اتنی گھٹن ہو، اتنی بندشیں ہوں تو اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں کہ تو کون سا احتجاج کررہا ہے اور کون سا نہیں۔ سنسرشپ ہے، موجود ہے اور نظر آرہی ہے۔
چینل جب کیبل پر غائب ہوجاتا ہے تو سب کو سوال اٹھانا چاہیے کہ کیسے غائب ہوا اور کون غائب کرتا ہے۔ جواب نہ دیں لیکن سوال تو اٹھائیں۔ جب اخبارات تقسیم نہیں ہوپاتے تو سب کو سوال اٹھانا چاہیے کہ اخبارات کیوں تقسیم نہیں ہوسکے۔ تو احتجاج اہم ہے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم تاریخ میں یہ تو آئے گا کہ پاکستان میں دو ہزار سترہ اٹھارہ میں میڈیا کے حالات کیا تھے۔
یہ سوال کہ کیا صحافی موثر انداز سے سنسرشپ کا مقابلہ کرپائیں گے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ میں مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نہیں دیکھ پارہا۔ جب ریاست، حکومت اور انصاف دینے والے ادارے مل کر فیصلہ کرلیں کہ ہم نے آزاد بحث نہیں ہونے دینی تو پھر آزاد بحث کرنے والوں کے لیے گنجائش نہیں رہتی۔ صحافی کوئی سپرمین نہیں ہوتا۔ وہ بہت حد تک اپنے ماحول کے تابع ہوتا ہے۔ وہ خدائی خدمت گار نہیں ہے، نہ ہی خدا کا پسندیدہ کہ جسے غیبی امداد ملے گی اور وہ سب کچھ ٹھیک کردے گا۔ جب سیاسی، انتظامی، نفسیاتی اور عملی طور پر ماحول ایسا بنادیا جائے کہ آزاد صحافت نہیں کی جاسکتی تو پھر صحافی نہیں کرسکتا۔ اس وقت ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی اکٹھ بن گیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ آنے والے وقت صحافت کے لیے اچھا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ پاکستان کے چند بڑے اور نامور صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ سرکاری ٹی وی میں کام کرچکے ہیں جہاں باغی مزاج والا صحافی نہیں گھس سکتا۔ اسٹیبلشمنٹ کے کرداروں سے آپ کا رابطہ ہوتا ہوگا۔ آپ انھیں مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ وہ ٹھیک نہیں کررہے۔
طلعت حسین نے کہا کہ ماضی اور حال میں فرق یہ ہے کہ پہلے صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ اب 100 سے زیادہ چینل ہیں اور میڈیا کا منظرنامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اس بدلے ہوئے ماحول کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ یعنی جن کو دوبارہ سے بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پانی کو الٹابہایا جارہا ہے اور میڈیا جس راہ پر قدم اٹھا چکا ہے، اس کو الٹا گھمایا جا رہا ہے۔ سیاست کرنے والے اور انصاف دینے والے ادارے اگر ساتھ نہ دیں تو باقی تمام ادارے ایسا کام نہیں کرسکتے۔
ہماری بات چیت ہوتی ہے۔ ہم یہ ذکر کرتے ہیں۔ رابطہ رہتا ہے۔ لیکن ان کا ایک خاص نقطہ نظر ہے۔ اس نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی حمایت کی ضرورت ہے۔ پارلیمان کی حمایت کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کی حمایت کی ضرورت ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے اپنے اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہ حمایت اور اتحاد بالکل وجود نہیں رکھتا۔
اچھی بات طاقت ور کبھی نہیں سنے گا۔ اس وقت تک نہیں سنے گا جب تک ماحول ایسا نہ ہوجائے کہ بات سننا اس کے لیے مجبوری بن جائے۔ اس وقت ایسا ماحول نہیں ہے۔ پاکستان میں اچھے مشورے کی قدر تب ہوگی جب ماحول موافق ہوگا۔
پاکستان کا میڈیا ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے، سمیع ابراہیم
سمیع ابراہیم ایک عرصے تک جنگ گروپ سے منسلک رہے۔ دی نیوز اور جیو نیوز کے امریکہ میں نمائندے رہے۔ بعد ازاں 2011ء میں پاکستان واپس آئے اور یکے بعد دیگرے دنیا ٹی وی، چینل 24 اور اے آر وائی نیوز سے بطور تجزیہ کار منسلک رہے۔ آج کل بول نیوز کے ڈائریکٹر ہیں اور اپنا پروگرام بھی کرتے ہیں۔
بول ٹی وی کی آمد نے پاکستان میڈیا انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ لیکن پھر اس کے خلاف اسکینڈل بھی ویسا ہی تہلکہ خیز ثابت ہوا۔ اب اس کے مالک شعیب شیخ جیل میں ہیں، چینل کی تنخواہیں مہینوں کی تاخیر کا شکار ہیں اور آئے دن کارکن نکالے جا رہے ہیں۔
سمیع ابراہیم کو بول میں زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ وہ چینل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے براہِ راست تنقید کرنے کے بجائے ان سے پوچھا، کوئی چینل کارکنوں کو کیوں فارغ کرتا ہے؟ مالی مشکلات ہوتی ہیں یا غیر تربیت یافتہ کارکن توقعات پر پورے نہیں اترتے؟
سمیع ابراہیم نے کہا کہ پاکستان میں چینلوں کی تعداد جس طرح بڑھی ہے، اس کے حساب سے کارکنوں کی تربیت پر توجہ نہیں دی گئی۔ ٹیلی ویژن کے پیشہ ور اور تربیت یافتہ افراد ہمیں مناسب تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ لیکن ملازمین کو نکالے جانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریگولر ملازمت کا تصور نہیں ہے۔ کانٹریکٹ پر لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ کسی ادارے میں زیادہ عرصہ کام کرلیتے ہیں، ان کی تنخواہ بڑھانا پڑتی ہے۔ مالکان ان کی جگہ نئے لوگوں کو بھرتی کرلیتے ہیں۔ چاہے وہ تربیت یافتہ نہ ہوں لیکن چونکہ انھیں کم تنخواہ دینا پڑتی ہے، اس لیے ملازم رکھ لیے جاتے ہیں۔
سمیع کے بقول مالکان اس بات سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں کہ ملازمین زیادہ عرصہ کام کریں گے تو کوئی گروپ یا یونین بنا سکتے ہیں اور اپنے مطالبات کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں صحافت کے معیار پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ملازمت کے دوران تربیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ابتدا میں جیو نے اپنے تمام کارکنوں کو تربیت فراہم کی تھی۔ ایکسپریس نے بھی اسی طرح آغاز کیا تھا۔ لیکن جب وہ کارکن دوسرے اداروں میں گئے تو شاید مالکان نے سوچا کہ ہم کارکنوں کو تربیت فراہم کیوں کریں؟
میں نے سوال کیا کہ پرانے چینل کارکنوں کو نکال رہے ہیں اور تنخواہیں نہیں دے پا رہے۔ پھر یہ نئے چینل کنویں میں پیسہ پھینکنے کے لیے کیوں چلے آ رہے ہیں؟
سمیع ابراہیم نے کہا کہ دو چیزیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پرانے چینل کہتے ہیں کہ وہ مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ لیکن اگر ہم ان کی آمدنی اور اخراجات کو دیکھیں تو ان کا مؤقف درست نہیں لگتا۔ پاکستان میں میڈیا انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ نئے چینل بڑے بزنس مین لا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ عام خیال ہے کہ جو لوگ میڈیا میں ہیں، انھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، انھیں کوئی پکڑ نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ ان کے جو دوسرے کاروبار ہیں، ان میں کچھ فائدہ حاصل ہوجاتا ہے۔
سمیع ابراہیم کہتے ہیں کہ کچھ بزنس مین ایسے ہیں جنھوں نے دوسرے کاروبار میں کافی مال بنایا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دو تین یا چار سال میں کچھ رقم گنوا دیں لیکن اس کے بدلے میں ایک خاص نقطہ نظر یا کوئی سیاسی رائے جنم دینے میں کردار ادا کرسکیں تو یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ یہ صرف منافع کمانے کی کوشش نہیں بلکہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے، سیاسی اہمیت حاصل کرنے کے لیے اور دوسرے کاروباروں کو تحفظ دینے کے لیے بھی سرمایہ لگایا جارہا ہے۔
میں نے کہا کہ آج کل ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ڈیپ اسٹیٹ کے میڈیا پر اثر انداز ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کس قدر متحرک ہے؟ پی ایف یو جے تو سیدھا الزام لگا رہی ہے کہ میڈیا کو سینسرشپ کا سامنا ہے۔
سمیع ابراہیم نے جواب دیا کہ اگر ترقی یافتہ ملک اس سے نہیں بچ سکے تو پاکستان کے بارے میں کیا بات کریں۔ اگر میں دیانت داری سے تجزیہ کروں تو پاکستان میں صرف ڈیپ اسٹیٹ یا اسٹیبلشمنٹ متحرک نہیں۔ یہاں ترقی یافتہ ملکوں کی طرح قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ پیسے کی آمد و رفت پر اس طرح کنٹرول نہیں ہے۔ اس لیے بہت سے حلقے میڈیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بھی متحرک رہتی ہے۔ لیکن پاکستان کے ہمسایہ ملک بھی پیسہ دے کر اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ کالعدم تنظیمیں دھمکاتی ہیں، فنانشل لابیز اپنی مطلب کی رائے سازی چاہتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں پیسے اور تعلقات کی بنیاد پر توجہ چاہتی ہیں۔ میڈیا گروپس کے اپنے مفادات بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں پاکستان کے میڈیا میں بہت سے نقطہ ہائے نظر کی جھلک نظر آتی ہے۔
سمیع ابراہیم نے بتایا کہ بلوچستان میں قوم پرستوں کے بارے میں کچھ نہیں چھاپ سکتے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں طالبان کے حامی جنگجوؤں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جنوبی پنجاب میں کالعدم تنظیموں سے متعلق گفتگو نہیں کرسکتے۔ کراچی میں ابھی تک کچھ گروپس کے بارے میں بات نہیں کی جاسکتی۔ بلاشبہ اسٹیبلشمنٹ بھی اسٹیک ہولڈر ہے۔ جب اسے کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے، جسے وہ پسند نہیں کرتی، وہ بھی اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارا میڈیا ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے۔
سرکاری اشتہاروں پہ لگ گئی قدغن، گھروں میں ہوں گے فاقے، رضا علی عابدی کاانٹرویو
پاکستان میں صحافیوں کی ملک گیر انجمن ‘پی ایف یو جے’ کے سابق صدر مظہر عباس نے ایک بار کراچی آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس میں رضا علی عابدی کا تعارف یہ کہہ کر کرایا تھا کہ وہ ان کے جنم لینے سے پہلے سے صحافت کررہے ہیں۔ عابدی صاحب نے 1950 کے عشرے کے آخر میں یہ پیشہ اختیار کیا۔ اخباروں میں ملازمت کے بعد 70 کے عشرے میں بی بی سی چلے گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کتابیں لکھنے کی رفتار میں تیزی آئی۔ جنگ میں کالم نگاری جاری ہے۔ تحریر میں ادب کی چاشنی ہے اور گفتگو کریں تو کانوں میں مٹھاس گھول دیتے ہیں۔
میں نے عابدی صاحب سے کہا کہ آپ اور میں پاکستان سے دور بیٹھے ہیں۔ میڈیا سے متعلق اچھی خبریں نہیں آرہیں۔ آپ کو کیا سننے کو مل رہا ہے؟
عابدی صاحب نے کہا، پاکستانی صحافت کی سب سے زیادہ تشویش ناک خبر یہ ہے کہ حکومت بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے آدھے آدھے صفحے کے اشتہارات دیا کرتی تھی، وہ بند ہوگئے ہیں۔ کتنے ہی اخباروں اور صحافیوں کی روزی اسی سے چل رہی تھی۔ اس پہ لگ گئی ہے قدغن اور گھروں میں ہوں گے اب فاقے۔ عملہ کم کیا جارہا ہے۔ تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں اور ساری دشواریاں جو ہوسکتی ہیں وہ اخباروں کو درپیش ہیں۔
میں نے بتایا، عابدی صاحب! پی ایف یو جے کہتی ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔
عابدی صاحب نے کہا، صحافت اتنی آزاد تو کبھی نہیں تھی۔ سنسرشپ تو ہم نے دیکھی تھی۔ اب تو کوئی سنسرشپ نہیں لگ رہی۔ جس کے جو جی میں آرہا ہے، لکھ رہا ہے۔ اور اخبار جانب دار ہوتے ہیں، اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہر جگہ کا یہ وتیرہ ہے کہ بعض اخبار بائیں طرف جھکتے ہیں، بعض اخبار دائیں طرف جھکتے ہیں۔ بعض اخبار غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو نہیں ہوتے۔ میرے حساب سے سب معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ جو حکومت کے مخالف ہیں، وہ بے حد مخالف ہیں۔ جو طرف دار ہیں، وہ دبی دبی آواز میں طرف داری کررہے ہیں۔ میں صورتحال سے مطمئن ہوں لیکن ہاں، مالی مشکلات جس کا مجھے ذاتی بھی اندازہ ہے، وہ درپیش ہیں اور وہ تشویش ناک ہیں۔
میں نے کہا، عابدی صاحب! پاکستان میں رپورٹر شکایت کر رہے ہیں کہ ان کی خبریں روکی جارہی ہیں۔ کالم نگاروں کے تند و تیز کالم نہیں چھپ رہے۔ اینکروں کے تنقیدی پروگرام نشر نہیں کیے جا رہے۔
عابدی صاحب نے کہا، میں بہت دور سے مشاہدہ کررہا ہوں۔ مجھے اندر کی معلومات نہیں ہیں لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس طرح کی پابندیاں مالکان کی طرف سے زیادہ لگتی ہیں۔ ان کی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ اول تو بے شمار لوگوں نے اخبار اس لیے نکالے ہیں کہ وہ معاشرے میں خاص سیاسی اہمیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ فلاں خبر نہ چھپے، فلاں خبر چھپے، اس خبر کو اوپر کردو، اس کو نیچے کردو، اس میں مالکان کا دخل ہوتا ہے۔ مجھے خبر نہیں کہ آج کل کی ہڑبونگ میں حکومت کو اتنی فرصت ہوگی کہ وہ خبروں پہ گہری نگاہ رکھے اور پابندیاں لگائے۔ میرا خیال ہے کہ مالکان کی مصلحتیں آڑے آتی ہیں۔ بلاشبہ انھوں نے اخبار اسی لیے نکالے ہیں کہ وہ ان سے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں۔ آپ بھی جانتے ہوں گے۔
وہ ایک سوال جو سب سے کررہا ہوں، میں نے عابدی صاحب سے بھی کیا کہ پرانے اخبارات اور چینلوں کو مالی مشکلات درپیش ہیں لیکن نئے اخبارات اور ٹی وی چینل بھی تواتر سے آرہے ہیں۔ یہ کیا تضاد ہے؟
عابدی صاحب نے کہا، یہ کھیل جب شروع ہوا تھا اور اچانک خودرو چینل اگنے لگے تھے تو ہمارا خیال تھا کہ یہ ایک ایک کرکے بند ہوجائیں گے۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں پیسہ تو ہے، وسائل تو ہیں۔ اور یہ کہ پیسہ افراط سے ہے۔ اتنی بڑی بڑی تنخواہیں ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔ ہم نے جنگ اخبار میں ایک سو پچاس روپے مہینہ پر کام کیا تھا۔ اب لوگوں کو سات آٹھ لاکھ ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ ہم نے کبھی اتنے پیسے ایک جگہ رکھے ہوئے بھی نہیں دیکھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔ بول تو اشتہار ہی نہیں لے رہا تھا۔ پتا نہیں کیسے چل رہا تھا اور کیوں چل رہا تھا۔ اس پر مشکل وقت آیا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن جن میڈیا گروپس کا اشتہاروں پر گزارہ ہے، ان پر بھی کڑا وقت پڑا ہے۔ یہ بات تشویش ناک ہے۔
ضیا دور کے مقابلے میں اس وقت کی صورتحال زیادہ بری ہے، غازی صلاح الدین
غازی صلاح الدین دی نیوز کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ وہ دانشور ہیں، صحافی ہیں، کالم نگار ہیں، سفرنامہ لکھتے ہیں۔ لیکن ان کا سب سے پہلا حوالہ کتاب ہے۔ وہ پاکستان کے ممتاز ترین کتاب خواں ہیں۔ انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔
میں نے غازی صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ایوب خاں اور ضیا الحق کا مارشل لا دیکھا تھا۔ کیا آج جیسی صورتحال تھی؟
غازی صاحب نے کہا، نہیں۔ اس وقت جو صورتحال ہے، وہ زیادہ بری ہے۔ ضیا دور میں سنسرشپ تھی۔ پری پبلی کیشن سنسرشپ بھی تھی۔ اخبار چھاپنے سے پہلے ان کو دکھانا پڑتا تھا کہ ہم کیا چھاپ رہے ہیں۔ لیکن، کچھ قاعدے طے تھے۔ ہمیں پتا تھا کہ کیا کریں گے تو کیا سزا ملے گی۔ کیا نہیں کریں گے تو بچ جائیں گے۔ اس وقت کوئی قاعدے قوانین نہیں ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون کس بات پر آپ سے ناراض ہوجائے گا۔
غازی صاحب نے چند دن پہلے اپنے کالم میں لکھا کہ پچاس سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا جب انھوں نے صحافت شروع کی تھی۔ ایوب خاں کا دور تھا۔ ان کے ایک دوست نے کہا کہ مارشل لا کا زمانہ ہے، آزادی صحافت نہیں ہے۔ تم کیوں صحافی بن رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات ہمیشہ تو نہیں رہیں گے۔ یہ جمہوری ملک ہے، یہاں جمہوریت آئے گی، آزادی ملے گی۔ سماجی تبدیلی آئے گی اور ترقی پسند نظام قائم ہوگا۔
غازی صاحب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ اتنے برس میں نے اس پیشے میں گزارے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جہاں سے چلے تھے، وہیں کھڑے ہیں بلکہ پیچھے کی طرف جاتے رہے ہیں۔
میں نے کہا کہ جب ہمیں کھیل کے تمام اصول پتا چل جاتے ہیں اور یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون بے ایمانی کر رہا ہے تو ہم اس کھلاڑی سے بات کرتے ہیں۔ جب صحافیوں کو علم ہے کہ کون سی قوتیں سنسرشپ لگاتی ہیں یا سیلف سنسرشپ پر مجبور کرتی ہیں تو صحافی ان سے بات کیوں نہیں کرتے؟
غازی صاحب نے کہا، ان سے بات نہیں ہوسکتی۔ وہ بات نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ صحافت کے علاوہ میرا بعض دوسری تنظیموں سے تعلق رہا ہے، جیسے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور پلڈاٹ۔ ایچ آر سی پی نے چند ہفتے پہلے ایک رپورٹ تیار کی ہے، فیکٹ فائنڈنگ آف فریڈم آف ایکسپریشن۔ اس میں موجودہ صورتحال بیان کی گئی ہے۔ ڈان گروپ اور جیو کے ساتھ کیا ہوا ہے، یہ بتایا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک شہر ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس میں اخبار نہیں جانے دیں گے۔ بہت سے مقامات پر سرکولیشن رکوائی گئی ہے۔ کیبل آپریٹرز سے کہہ کر جیو نیوز کو بند کروایا گیا۔ ان سے کیا گفتگو کی جائے؟
غازی صاحب نے بتایا کہ دباؤ کے شکار میڈیا اداروں نے ان سے بات کی اور کہا کہ اچھا بھئی، ہم آپ کی بات مان لیں۔ آپ بتائیں کہ کیا کریں۔ کیونکہ دباؤ معاشی بھی ہے۔ اشتہارات بند کروائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادارے تین تین مہینے سے اپنے کارکنوں کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے۔ بات ماننے کے باوجود یہ خوف رہتا ہے کہ کوئی اٹھا نہ لے۔ یہ صرف میڈیا کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس کا تعلق شہری آزادیوں سے ہے۔ این جی اوز پر بھی پابندیاں بڑھائی جارہی ہیں۔
میں نے مشورہ دیا کہ صحافیوں اور این جی اوز کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔
غازی صاحب نے کہا کہ عدالت کو سب معلوم ہے۔ سپریم کورٹ ازخود نوٹس بھی لے سکتی ہے۔ انھیں پتا ہے کہ کیا صورتحال ہے۔ عدالتوں میں کون سی بات سنی جائے گی اور کون سی نہیں سنی جائے گی، یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔
میں نے سوال اٹھایا کہ جب پرانے چینل تنخواہیں نہیں دے پا رہے تو نئے چینل کیسے آرہے ہیں؟
غازی صاحب نے کہا کہ میڈیا کی موجودہ صورتحال کا تاریک پہلو یہ ہے کہ صحافت میں پیشہ ورانہ روایت برقرار نہیں رہی۔ اب میڈیا میں جانب داری بہت ہوگئی ہے۔ پہلے میڈیا گروپس کا پیشہ ورانہ تعلق صحافت سے ہوتا تھا۔ اب کوئی بہت دولت مند ہے تو چینل کھول لیتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سرکار تک رسائی ہوجاتی ہے۔ کچھ اپنے کام نکلتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں صحافت دھندلا گئی ہے اور اس میں خامیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
میں نے دریافت کیا کہ پی ایف یو جے کے کئی دھڑے ہوچکے ہیں۔ ایک دھڑا نو اکتوبر سے تحریک چلانے کی بات کر رہا ہے۔ کیا اس سے کوئی فائدہ ہوگا؟
غازی صاحب نے کہا کہ صرف صحافیوں کو نہیں، سول سوسائٹی میں جتنے بھی روشن خیال طبقے ہیں، ان سب کو مل کر احتجاج کرنا چاہیے۔ لیکن اس طرح کی کوئی تنظیم موجود نہیں ہے اور اس طرح کا اتحاد بھی مجھے ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن جہاں بھی، جو بھی، جس قدر بھی آواز بلند کرسکتا ہے، جتنا بھی احتجاج کرسکتا ہے، کرنا چاہیے۔ بقول فیض:
چیخے ہے درد، اے دل برباد کچھ تو ہو
بولو کہ شور حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
بولو کہ روز عدل کی بنیاد کچھ تو ہو
بعض حلقوں کے خیال میں پرانے میڈیا گروپ زیادہ بھاری ہوگئے تھے، کامران خان
کامران خان پاکستان کے نامور صحافی اور اینکرپرسن ہیں۔ وہ چار دہائیوں سے صحافت میں ہیں اور متعدد بڑے اسکینڈل بے نقاب کرچکے ہیں۔ ان کا شمار ایسے چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو پرنٹ کے بعد الیکٹرونک میڈیا میں بھی کامیاب رہے۔ ان کا پروگرام عوام میں مقبول ہے اور ان کی رائے کو مقتدر حلقوں میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔
کامران خان عام طور پر کسی کو انٹرویو دینا پسند نہیں کرتے اور ویسے بھی آج کل بیرون ملک تعطیلات پر ہیں۔ لیکن میں نے فون کیا تو راضی ہوگئے۔ میں نے پہلا سوال کیا کہ پاکستان میں میڈیا کا حال کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ پھر نئے نیوز چینل کیسے آرہے ہیں؟
کامران خان نے بھی تعجب کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جی ہاں۔ نئے نیوز چینلوں کی بھرمار کیوں ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ جو نیوز چینل پہلے سے موجود ہیں، ان کے مالی حالات دیکھیں تو ایسا نہیں لگتا کہ یہ منافع بخش کاروبار ہے۔ اس صورتحال میں اتنے تواتر سے نئے نیوز چینل کا آنا، کم از کم کاروباری سمجھ بوجھ کے مطابق نہیں۔ اگر نئے چینل معاشرے کی اصلاح کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں یا کسی کے ذہن میں کوئی اور پہلو ہے، تو ہم نہیں جانتے۔ کئی درجن نیوز چینلوں کی موجودگی سمجھ سے بالاتر ہے‘‘۔
کامران خان نے جیو جنگ گروپ میں تہائی صدی کام کرنے کے بعد 2014 میں بول اور پھر دنیا ٹی وی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ حال میں سینئر صحافی حامد میر بھی ایک نئے چینل میں گئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ بڑے صحافی کیا سوچ کر ادارہ بدلتے ہیں؟ خاص طور پر نئے چینل میں جانے کا رسک کیوں لیتے ہیں؟
کامران خان نے اپنا تجربہ بیان نہیں کیا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ہر پیشہ ور صحافی کی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پہلی ترجیح زیادہ معاوضہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی پرانا میڈیا گروپ ہو تو اس کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن، اگر نیا ادارہ ہو تو پھر صحافی کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ نئے ادارے کو مثال بنانا چاہتا ہو۔ ممکن ہے کہ موجودہ ادارے اس کے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں۔ لیکن، بہرحال بہتر معاوضے کا کردار ضرور ہوتا ہے۔
میں نے تبصرہ کیا کہ نئے نیوز چینل دھڑا دھڑ بن رہے ہیں۔ لیکن پرانے چینلوں کا حال اچھا نہیں۔ تنخواہیں تاخیر سے دی جا رہی ہیں اور لوگ بھی نکالے جا رہے ہیں۔ لیکن، ابھی تک کوئی ادارہ بند نہیں ہوا۔
کامران خان نے کہا کہ واقعی ہم نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ مالی خسارے کی وجہ سے کوئی ادارہ بند ہوا ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیوز چینلوں کے اسپانسر اس بات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں کہ اس کاروبار میں ان کے پیسے واپس نہیں آئیں گے یا منافع نہیں ملے گا۔ جو بھی اس کی وجہ ہو لیکن یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مالی خسارے کی وجہ سے میڈیا ادارے بند نہیں ہوئے۔
کسی اور ملک میں ایسا نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ کاروبار اس طرح نہیں کیا جاتا۔ اپنی جیب سے اس قسم کے اداروں کو غیر معینہ مدت تک چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ نہ صرف ادارے بند نہیں ہو رہے بلکہ نئے چینل بھی کھل رہے ہیں۔
میں نے کامران خان کو بتایا کہ گزشتہ روز ضیا الدین صاحب نے انٹرویو میں کہا کہ ریاستی اداروں نے تین مستحکم میڈیا گروپس کو کمزور کرنے کے لیے نئے میڈیا گروپس قائم کیے۔
کامران خان نے جزوی طور پر اس بات کی تائید کی کہ پرانے اور مضبوط میڈیا گروپس کے بارے میں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے وزن سے زیادہ بھاری ہوگئے ہیں، اپنے سائز سے زیادہ بڑے ہوگئے ہیں۔ کاروباری مسابقت الگ معاملہ ہے۔ لیکن یہ سوچ موجود تھی کہ پرانے میڈیا گروپس کے اثر کو محدود کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ سوچا گیا کہ اگر کچھ بزنس مین اس شعبے میں آنا چاہ رہے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ آج ہم جو بہت سے نیوز چینل دیکھ رہے ہیں تو اس کی یہ وجہ ہو سکتی ہے۔ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میڈیا کو نقصان پہنچانے والا خود نقصان اٹھاتا ہے، محمد ضیا الدین
بزرگ صحافی محمد ضیا الدین کے لیے صحافت ’’اک نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔‘‘ انھوں نے 1964 میں ایم اے جرنلزم کے بعد کریئر شروع کیا اور دی مسلم، ڈان، دی نیوز اور ایکسپریس ٹربیون سمیت تقریباً تمام بڑے انگریزی اخبارات میں کام کیا۔ انھوں نے 2014 میں عملی صحافت کو خیرباد کہا۔ لیکن، کالم نگاری جاری رکھی۔
میں نے ضیا الدین صاحب سے دریافت کیا کہ پاکستان میں نیوز چینلوں کی تعداد تیس سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پرانے چینلوں کا حال خراب ہے اور ان کے پاس ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں۔ لیکن ان سے سبق سیکھنے کے بجائے اس سال بھی تین چار نئے چینل آئے ہیں۔ میڈیا میں ایسی کیا کشش ہے کہ لوگ کروڑوں روپے ڈبونے کے لیے ادھر کا رخ کر رہے ہیں؟
ضیا الدین صاحب نے کہا کہ ’’سرمایہ کار دو وجوہ کی بنا پر براڈکاسٹ میڈیا کی جانب آ رہے ہیں۔ ایک تو انھیں احساس ہوا ہے کہ میڈیا کا شعبہ بہت مضبوط ہوگیا ہے۔ اسے استعمال کرکے وہ اپنے دوسرے کاروباروں کو محفوظ اور پروموٹ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ تین میڈیا گروپس نے ماضی میں بہت طاقت حاصل کرلی تھی۔ جنگ جیو گروپ، ڈان گروپ اور نوائے وقت گروپ۔ ملک میں چار مارشل لا آئے لیکن یہ ادارے اسے برداشت کرگئے اور ان کے کارکن صحافی سیاسی طور پر متحرک رہے۔ وہ ریاستی اداروں کی مزاحمت اور ان پر تنقید کرنے لگے۔ ریاستی اداروں نے، خاص طور پر سیکورٹی ایجنسیوں نے کوشش کی کہ انھیں کمزور کیا جائے اور نئے لوگ سامنے لائے جائیں۔ انھیں سیکورٹی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہو اور متبادل میڈیا گروپس بنائے جائیں۔ ان سے مالی فوائد کا بھی وعدہ کیا گیا ہوگا۔ اس کے ساتھ مستحکم میڈیا گروپس کو مالی طور پر نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے اشتہارات کم کیے گئے اور اتنا دباؤ ڈالا گیا کہ ان کے لیے اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا۔
واضح رہے کہ بول ٹی وی کے بارے میں ڈھکے چھپے لفظوں میں کہا جاتا تھا کہ اسے ایک ایجنسی کی حمایت حاصل ہے۔ اس نے بہت خطیر معاوضوں پر لوگ ملازم رکھے لیکن اب ملازمین کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں اس پر واجب الادا ہیں اور گزشتہ چند دنوں میں اس نے درجنوں ملازمین کو نکالا ہے۔
ضیا الدین صاحب نے کہا کہ بول اس کھیل میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوا۔ شاید کھلاڑیوں کو ایسا لگ رہا ہوگا کہ وہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اور اب ان کی توجہ دوسرے چینلوں پر ہوگئی ہوگی۔ اسی لیے بول تنخواہیں نہیں دے پارہا اور وہاں سے کارکنوں کو نکالا جارہا ہے۔
میں نے سوال کیا کہ صحافتی تنظیموں اور صحافی رہنماؤں کی سمجھ میں بھی یہ بات آرہی ہے یا نہیں کہ میڈیا کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے؟
ضیا الدین صاحب نے کہا کہ ’’ہاں، انھیں آگاہی ہے۔ لیکن، وہ اپنے مالی مفادات کی وجہ سے مجبور ہیں۔ کسی صحافی کو پانچ سات لاکھ روپے تنخواہ ملنے لگتی ہے تو اپنا لائف اسٹائل اس کے مطابق بڑھا لیتا ہے۔ پھر وہ پیچھے نہیں جاسکتا۔ ہمارے زمانے میں صحافیوں کی تنخواہیں کم ہوتی تھیں۔ ہم اپنا استعفا جیب میں رکھتے تھے۔ ایک ملازمت چھوڑنا اور دوسری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا تھا‘‘۔
میں نے پوچھا کہ کیا متبادل میڈیا کے غبارے میں ہوا بھرنے سے کوئی فائدہ ہوا؟
ضیا الدین صاحب نے کہا کہ میسنجر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والا اپنے آپ کو نقصان پہنچا بیٹھتا ہے۔ جس متبادل میڈیا کو کھڑا کیا گیا، وہ صحافت نہیں کر رہا، بلکہ پروپیگنڈے پر چل رہا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ریاست اور حکومت گمراہ ہوجاتی ہے اور جھوٹ کو سچ سمجھنے لگتی ہے۔ پھر وہ غلطیاں کرتی ہے۔ اب سیکورٹی ایجنسیاں سوشل میڈیا کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ دو دھاری تلوار ہے اور انھیں خود بھی اس کا نقصان ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔